Saturday , December 16 2017
Home / اداریہ / کشمیر کیلئے مصالحت کار

کشمیر کیلئے مصالحت کار

کشمیر کے بارے میں مرکز کی موجودہ حکومت کا موقف گذشتہ 3 سال کے دوران ایک بالادست و سخت گیر حکمراں کی طرح رہا ۔ ان 3 سال میں کشمیری عوام کو کئی مسائل کے ساتھ ساتھ کشمیری نوجوانوں کی قیمتی جانوں کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا ۔ مسئلہ کشمیر اور وادی کی صورتحال کو گرما کر اب اچانک مذاکرات کے لیے ایک نمائندہ کے تقرر کا فیصلہ کئی سوالات کو جنم دے چکا ہے ۔ پہلا سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ آیا حکومت کا نمائندہ کشمیر میں کس سے بات کرے گا ۔ مرکزی وزارت داخلہ نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی نیت سے اپنے نمائندہ کا تقرر عمل میں لایا ہے تو ساتھ ہی مذاکرات کے لیے کن افراد کو منتخب کیا جارہا ہے ۔ اسے بھی واضح کرنا چاہئے تھا ۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے عجلت میں طلب کردہ پریس کانفرنس میں کشمیر مذاکرات کے لیے انٹلی جنس بیورو کے سابق ڈائرکٹر اور ریٹائرڈ آئی پی ایس عہدیدار دنیشور شرما کے تقرر کا اعلان کیا ۔ وادی کشمیر کی صورتحال کو بہتر بنانے کی جانب مرکز کی این ڈی اے حکومت کی یہ پہلی کوشش ہے ۔ کشمیر پالیسی کی از سر نو ترتیب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے لوک سبھا انتخاب کے لیے بی جے پی زیر قیادت حکومت نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امن کی بحالی پر توجہ دینی شروع کی ہے ۔ وادی میں کل تک سیکوریٹی فورس اور فوج کی طاقت کے ذریعہ عوام کے غم و غصہ کو دبانے کی کوشش کی گئی تھی ۔ وزیراعظم مودی نے وادی کشمیر کا جب بھی دورہ کیا امن کے بارے میں رسمی بات کہی تھی ، لیکن جب انہوں نے 15 اگست کو یوم آزادی کے خطاب میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں حکومت کی پالیسی کا ذکر کیا تو اس کی سرگرمی مصالحت کار کے تقرر کی شکل میں سامنے رکھی گئی ہے ۔ اپوزیشن پارٹیوں نے مرکز کے اس مصالحت کار کے تقرر کے پہل پر اپنے ردعمل میں کہا کہ حکومت نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ وادی کی صورت حال کو طاقت کے ذریعہ نہیں بات چیت کے ذریعہ بہتر بنائی جاسکتی ہے ۔ اپوزیشن ایک عرصہ سے مرکز پر یہی زور دیتے آرہی تھی کہ وادی کشمیر میں بات چیت کے دروازے کھلے رکھے جانے چاہئے ۔ اب مرکز کا یہ قدم یقینا اپوزیشن اور ان لوگوں کی ایک بڑی کامیابی ہے جو وادی کو پرامن بنانے کے لیے مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل تلاش کرنے پر زور دیتے آرہے تھے ۔ اب حکومت کا موقف تبدیل ہوا ہے تو یہ ایک دیانتدارانہ کوشش سمجھی جانی چاہئے کیوں کہ مذاکرات ہی کو مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کا واحد راستہ سمجھا جاتا ہے ۔ وادی کشمیر کی اس وقت جو صورتحال ہے اسے نازک ترین کہا جاتا ہے ۔ عوام کی روزمرہ کی زندگی کو مفلوج بناکر رکھا جاچکا ہے ۔ مصالحت کار کی مذاکرات سے ہی وادی کے لوگوں کی مشکلات دور ہوسکیں گی ۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کو مسئلہ کا حل تسلیم کرلیا ہے تو پھر اس معاملہ میں ایماندارانہ طور پر مذاکرات کا آغاز کیا جانا چاہئے ۔ وادی کشمیر کے تمام فریقین کو مذاکرات کا حصہ بنائے بغیر مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش بھی نتیجہ خیز نہیں ہوسکے گی ۔ مرکز کے نمائندہ کی حیثیت سے مصالحت کار دنیشور شرما کو مسئلہ کشمیر کے ایک فریق پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے میں کیا موقف اختیار کرنا ہوگا ، یہ ان کے فیصلہ پر منحصر رکھا گیا ہے ۔ پاکستان سے بات چیت کے بغیر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی راہ پر گامزن ہونا نتیجہ خیز ثابت ہوسکے گا ، یہ کہنا مشکل ہے ۔ اب تک حکومت نے مذاکرات کے فریقین کا نام ظاہر نہیں کیا ہے ۔ سابق میں یو پی اے حکومت نے وادی کشمیر کے تمام فریقین کی ایک گول میز کانفرنس منعقد کی تھی لیکن اس کوشش کے نتائج ثمر آور نہیں رہے ۔ حالات جوں کے توں رہے ۔ مرکز کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں جب بھی کوئی پہل کی جاتی رہی تو اس میں نیم دلانہ پہلو زیادہ دکھائی دیتا رہا ۔ اب مودی حکومت کے مذاکرات کے ذریعہ معاملہ کو حل کرنے کی کوشش شروع کی ہے تو کسی شرط کے بغیر بات چیت کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے بلکہ مذاکرات کا حصہ بننے والے کسی بھی فریق کو کوئی شرط نہیں رکھنی چاہئے تاکہ مسئلہ کا حل نکالنے کے لیے کوئی نہ کوئی ٹھوس راہ نکل سکے ۔ اس کے علاوہ حکمراں پارٹی بی جے پی کے ہی بعض سینئیر رہنما اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ تنازعہ کشمیر کے دیرپا حل کیلئے پاکستان سے مذاکرات ناگزیر ہیں لیکن مصالحت کار کے تقرر پر پاکستان کا ردعمل افسوسناک ہے اس نے حکومت ہند کے اس فیصلہ کو ہی مسترد کردیا ہے تو مذاکرات کا راستہ مسدود یا محدود ہوجائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT