Friday , February 23 2018
Home / سیاسیات / کشمیر کی حقیقی صورتحال منظر عام پر لائے جائے‘کانگریس کا مطالبہ

کشمیر کی حقیقی صورتحال منظر عام پر لائے جائے‘کانگریس کا مطالبہ

نئی دہلی، 26 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے جموں و کشمیر میں تشدد میں کمی آنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے آج کہا کہ ریاست میں پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ (پی ڈی پی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو جھوٹ کے بجائے سچائی بتانی چاہئے ۔ کانگریس کے نوجوان لیڈر جے ویر شیر گل نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو بتایا کہ جموں و کشمیر میں حکومت کے قول وفعل میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ زمینی حقیقت اور سچائی حکومت کے بیانات سے بالکل الگ ہے ۔ غور طلب ہے کہ جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ریاست میں تشدد میں کمی آئی ہے ۔ محترمہ مفتی کے بیان کے تناظر میں مسٹر شیر گل نے کہا، “محترمہ مفتی، پی ڈی پی حکومت اور بی جے پی کی حکومت کو جھوٹ کا سہارا نہ لے کر لوگوں کو حقیقت کی تصویر دکھانی چاہئے ۔” کانگریس لیڈر نے کہا کہ مسٹر سنگھ نے خود اسے قبول کیا ہے کہ ریاست میں تشدد اور دراندازی میں اضافہ ہوا ہے ۔ مرکزی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ کے مطابق، پاکستان کی جانب سے دراندازی میں 135 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ سال 2016 جوانوں کے لئے بدترین سال ثابت ہوا۔ اس مدت میں 200 سے زائد جوان شہید ہوئے ۔انھوں نے کہا کہ حکومت کو ‘بھاشن سے زیادہ ساشن،تشہیر سے زیادہ کشمیر میں امن پر’ توجہ دینی چاہئے تاکہ امن کی فضا بنے ۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT