Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / کشمیر کی صورتحال پر وزیراعظم کی خاموشی کا مطلب لاعلمی یا تکبر : سی پی ایم

کشمیر کی صورتحال پر وزیراعظم کی خاموشی کا مطلب لاعلمی یا تکبر : سی پی ایم

حالات کی تبدیلی کیلئے حریت سے غیر مشروط مذاکرات ناگزیر : کانگریس
سرینگر ، 6 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وادیٔ کشمیر میں جمعہ کو سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں تین عام شہریوں کی ہلاکت کے بعد صورتحال ایک بار پھر کشیدہ رخ اختیار کرگئی ہے ۔انتظامیہ نے وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام جہاں جمعہ کو سیکورٹی فورسز نے احتجاجی مطاہرین کے ساتھ جھڑپوں کے دوران دو عام شہریوں کو ہلاک کیا، میں مزید احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے کرفیو کا نفاذ بدستور جاری رکھا ہے ۔ ضلع بڈگام کے علاوہ گرمائی دارالحکومت سرینگر کے شہرخاص اور جنوبی کشمیر کے اننت ناگ میں بھی کرفیو کا نفاذ بدستور جاری ہے ۔ وادی کے اطراف واکناف میں جمعہ کے احتجاجی مظاہروں میں تین عام شہری ہلاک جبکہ تقریباً400دیگر زخمی ہوگئے ۔ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے وادی میں جاری ہڑتال میں 12 اگست تک توسیع کا اعلان کر رکھا ہے ۔ کسی بھی احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرنے سے روکنے کیلئے بیشتر علیحدگی پسند قائدین کو یا تو اپنے گھروں میں نظر بند ، یا پھر پولیس تھانوں میں مقید رکھا گیا ہے ۔

 

جنوبی کشمیر سے کی رپورٹ کے مطابق کرفیو زدہ اننت ناگ میں ہفتہ کی صبح 40 افراد بشمول 9 خواتین اُس وقت زخمی ہوگئے جب سیکورٹی فورسز نے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے احتجاجی لوگوں کے خلاف آنسو گیس و پیلٹ بندوقوں کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ کی۔ سینکڑوں کی تعداد میں مرد و زن نے ہفتہ کی صبح اننت ناگ میں منعقدہ ’آزادی حامی‘ ریلی میں شرکت کرنے کے لئے کرفیو توڑا۔سیکورٹی فورسز کی کاروائی کی وجہ سے احتجاجی لوگ مشتعل ہوئے اور سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے لگے جنہوں نے ردعمل میں پیلٹ بندوقوں کا استعمال کیا ہوائی فائرنگ کی۔ دریں اثناء وادی کشمیر میں ہورہی شہری ہلاکتوں پر وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) لیڈر محمد یوسف تریگامی نے کہا کہ غیر انسانی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے سے اس تنازعہ سے دوچار وادی میں جاری احتجاجی مظاہروں کی لہر میں مزید اضافہ ہوگا۔ تریگامی جو جنوبی کشمیر کے حلقہ انتخاب کولگام سے ممبر اسمبلی بھی ہیں، نے کہا، ’’تمام جمہوری قوتوں کو کشمیر میں جاری جبر و استبداد کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔ وزیراعظم نے بدستور خاموشی برقرار رکھی ہے ۔ یہ (خاموشی) کیا ظاہر کرتی ہے ؟ لاعلمی یا تکبر‘‘۔ کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے حریت کانفرنس کے ساتھ غیرمشروط مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ مرکزی حکومتوں کا کشمیر کے لوگوں کے ساتھ انصاف کرنے کا ریکارڈ آزاد ہند کی تاریخ میں نہایت ہی مایوس کن رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT