Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / کشمیر کے اپوزیشن وفد کی کانگریس لیڈر راہول گاندھی سے ملاقات

کشمیر کے اپوزیشن وفد کی کانگریس لیڈر راہول گاندھی سے ملاقات

جاریہ بحران کا سیاسی حل دریافت کرنے کوشش پر زور ۔ عوام تک رسائی حاصل کرنے اقدامات کی بھی خواہش
نئی دہلی 21 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام ) ایسے وقت میں جبکہ کشمیر میں گذشتہ 44 دن سے کرفیو کا سلسلہ جاری ہے سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ کی قیادت میں ریاست کی اپوزیشن جماعتوں کے ایک وفد نے آج کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی سے ملاقات کی ۔ راہول گاندھی نے کشمیر میں جاری ہنگاموں اور بدامنی کا سیاسی حل دریافت کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اس تشدد میں اب تک 65 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس وفد نے کل صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کی تھی اور کل پیر کو یہ وفد وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کرنے والا ہے ۔ ہنگاموں سے متاثرہ ریاست کے اپوزیشن قائدین نے راہول گاندھی سے کہا کہ وہ کشمیر میں جاری ہنگاموں کا انتظامی کی بجائے سیاسی حل دریافت کرنے قومی سطح پر کوششیں کریں۔ کشمیر میں مختلف مقامات پر گذشتہ 44 دن سے کرفیو کا سلسلہ جاری ہے اور ماضی قریب میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ یہاں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ایک جھڑپ میں ہلاکت کے بعد سے حالات ابتر ہونے شروع ہوگئے تھے ۔ عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس اور دوسری اپوزیشن جماعتوں نے جموں و کشمیر میں پی ڈی پی ۔

بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور کہا کہ محبوبہ مفتی کی حکومت نے وادی میں عدم اطمینان کی کیفیت پیدا کی ہے ۔ خاص طور پر نوجوانوں میں یہ احساس پیدا ہوگیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ریاست میں جاری تشدد کا انتظامی حل دریافت کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ کانگریس نائب صدر نے کشمیر کے وفد سے ملاقات کے بعد اپنے ٹوئیٹر پر کہا کہ جموں و کشمیر کے موجودہ سیاسی بحران پر انہوں نے ریاست کے اپوزیشن قائدین کے ایک وفد سے تبادلہ خیال کیا ہے ۔ اس وفد کی قیادت عمر عبداللہ کر رہے تھے ۔ سی پی ایم کے رکن اسمبلی محمد یوسف تریگامی بھی وفد کا حصہ تھے ۔ انہوں نے راہول گانددھی سے کہا کہ کشمیر میں جو احتجاج چل رہا ہے اسے قومی مسئلہ سمجھنا چاہئے اور سیاسی جماعتوں میں اس مسئلہ سے نمٹنے سیاسی کوشش کرنے کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کو تشدد کے ایک اور مرحلہ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے بلکہ اس کے اثرات اور صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس کا قریبی جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔

پردیش کانگریس کے سربراہ جی اے میر نے ‘ جو وفد میں شامل تھے ‘ کہا کہ اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ عوام تک رسائی حاصل کی جائے اور موجودہ صورتحال کو صرف ایک لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ نہ سمجھا جائے ۔ انہوں نے یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھانے اور حکومت کو اس پر مباحث کیلئے مجبور کرنے پر کانگریس نائب صدر سے اظہار تشکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تشدد اور خون خرابہ سے کوئی حل دریافت نہیں ہوسکتا ۔ صورتحال کے مزید پرتشدد ہونے سے قبل سیاسی دروازے کھولنے کی ضرورت ہے ۔ وفد میں نیشنل کانفرنس کے سینئر قائدین اے آر راتھیر ‘ محمد علی ساگر ‘ نصیر وانی ‘ دیویندر رانا اور آزاد رکن اسمبلی حکیم یسین بھی شامل تھے ۔ اس وفد نے کل صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کرتے ہوئے ایک یادداشت بھی پیش کی تھی اور مرکز سے مطالبہ کیا تھا کہ موجودہ بحران کو انتظامی سمجھنے کی بجائے اس سے سیاسی طور پر نمٹا جائے ۔ یہ وفد کل وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریگا اور ان پر زور دیگا کہ اس مسئلہ کا سیاسی حل دریافت کرنے کیلئے تمام فریقین سے بات چیت کی جائے

TOPPOPULARRECENT