Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / کشمیر کے علیحدگی پسند قائدین کی ڈرامائی گرفتاری و رہائی

کشمیر کے علیحدگی پسند قائدین کی ڈرامائی گرفتاری و رہائی

قومی سلامتی مشیران کی بات چیت سے قبل پاکستان کو سخت پیام دینے ہندوستان کی کوشش

سرینگر۔20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کے بشمول کشمیر کے اعلیٰ علیحدگی پسند قائدین کو آج نظربند رکھا گیا لیکن فوری طور پر چند گھنٹوں کے اندر ہی رہا کردیا گیا۔ اس کارروائی کے پیچھے نئی دہلی میں اتوار کو پاکستانی قومی سلامتی مشیر سرتاج عزیز کے ساتھ ان کی مجوزہ ملاقات کے خلاف کارروائی کا اشارہ ہے۔ آج صبح پولیس نے اعتدال پسند حریت سربراہ میر واعظ عمر فاروق، مولانا محمد عباس انصاری، محمد اشرف سہرائی، شبیر احمد شاہ اور ایاز اکبر کے بشمول کئی علیحدگی پسند قائدین کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی تھی۔ سید علی شاہ گیلانی کی رہائش گاہ کے باہر سکیورٹی جوانوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ کشمیری سخت گیر حریت لیڈر جو پہلے ہی سے نظربند ہیں، جے کے ایل ایف صدرنشین محمد یٰسین ملک کو احتیاطی طور پر ان کی رہائش گاہ مئسیما سے حراست میں لیا گیا اور کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا۔ عہدیداروں نے لب کشائی سے گریز کیا اور اس حراست کے بارے میں وجوہات بتانے سے انکار کیا لیکن یہ قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ علیحدگی پسند قائدین کے خلاف یہ کارروائی اس لئے کی گئی کیوں کہ پاکستان کو یہ پیام دیا جاسکے کہ کشمیر میں علیحدگی پسند قائدین کے ساتھ اس کی ملاقات کو پسند نہیں کیا جائے گا۔

خاص کر ایسے وقت جب ان کے قومی سلامتی مشیران کی ملاقات ہونے والی ہے۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی حکام نے ان قائدین پر عائد کردہ پابندیاں ہٹالی۔ اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ جن علیحدگی پسند قائدین کو حراست میں رکھا گیا تھا، آج صبح نظربند رکھا گیا اور بعدازاں رہا کردیا گیا، تاہم حریت کے سخت گیر گروپ کے ترجمان ایاز اکبر نے کہا کہ جہاں دیگر قائدین کو رہا کردیا گیا ہے، وہیں سید علی شاہ گیلانی ہنوز نظربند ہیں۔ ایاز اکبر نے مزید کہا کہ حریت قیادت کو نظربند رکھنے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں، اس کا پتہ نہیں چل سکا ہے اور ان دو گھنٹوں بعد رہائی کی وجہ بھی معلوم نہیں ہوئی۔ اس تمام کارروائی کو ہم بدبختانہ قرار دیتے ہیں۔ پولیس نے صبح کی اولین ساعتوں میں دکھاوے کئے تھے اور حریت کے دیگر علیحدگی پسند قائدین کو بھی نظربند رکھا گیا۔ دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے سرتاج عزیز سے 24 اگست کو ملاقات کے لئے سید علی شاہ گیلانی کو مدعو کیا ہے۔ سرتاج عزیز ہندوستانی قومی سلامتی مشیر اجیت دوول کے ساتھ قومی دارالحکومت دہلی میں ملاقات کریں گے۔

اعتدال پسند علیحدگی پسند قائدین کو بھی نئی دہلی میں ہائی کمیشن کی جانب سے ترتیب دیئے گئے استقبالیہ کے لئے بھی مدعو کیا گیا ہے۔ یہ استقبالیہ دورۂ کنندہ پاکستانی عہدیداروں کے لئے 23 اگست کو ترتیب دیا گیا ہے۔ ہندوستان نے گزشتہ سال اگست میں پاکستان کے ساتھ معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت کو منسوخ کردیا تھا کیونکہ کہ اس وقت بھی اسلام آباد میں ہند و پاک بات چیت سے قبل مشاورت کے لئے علیحدگی پسند قائدین کو مدعو کیا تھا۔ جموں و کشمیر چیف منسٹر مفتی محمد سعید پر تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن نیشنل کانفرنس لیڈر عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاستی حکومتوں نے ماضی میں حریت قائدین کو ہرگز حراست میں نہیں لیا تھا، اور نہ ہی انہیں دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن سے ملاقات کرنے سے روکا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہند و پاک مذاکرات بین الاقوامی دباؤ کے تحت منعقد کیا جارہا ہے۔ وادیٔ کشمیر میں شلباری، دراندازی، دہشت گرد حملوں کے بعد اب حریت قائدین کی گرفتاری سے یہ واوضح ہوتا ہے کہ دونوں جانب اس بات چیت کو معطل کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ میں نے ہند۔ پاک کے درمیان اس طرح دباؤ میں آکر ہونے والی بات چیت کو ہرگز نہیں دیکھا، یہ ایک سبوتاج کا عمل ہے۔

TOPPOPULARRECENT