Saturday , December 15 2018

کشن باغ فساد کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

گورنر کو صدر پی سی سی تلنگانہ پنالہ لکشمیا اور دیگر کانگریس قائدین کی نمائندگی

گورنر کو صدر پی سی سی تلنگانہ پنالہ لکشمیا اور دیگر کانگریس قائدین کی نمائندگی

حیدرآباد /15 مئی (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس پنالہ لکشمیا کی قیادت میں ایک وفد نے آج راج بھون پہنچ کر گورنر نرسمہن سے ملاقات کی اور کشن باغ فسادات کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس دوران صدر پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد سراج الدین نے کمشنر سائبرآباد سی وی آنند، جوائنٹ کمشنر وائی گنگا دھر اور اے سی پی متیم ریڈی کو فوری معطل کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ وفد میں مرکزی مملکتی وزیر سروے ستیہ نارائنا، سابق ریاستی وزیر ڈی ناگیندر، اتم کمار ریڈی، کے جانا ریڈی، کانگریس رکن پارلیمنٹ سکندرآباد انجن کمار یادو، کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل کے علاوہ محمد سراج الدین اور دیگر بھی موجود تھے۔ دریں اثنا پنالہ لکشمیا نے قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی اور سابق وزیر داخلہ کے جانا ریڈی نے فساد کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا، جب کہ محمد سراج الدین نے کمشنر سائبرآباد، جوائنٹ کمشنر اور اے سی پی کو فائرنگ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے گورنر سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ عہدہ داروں کو فوری معطل کرکے تحقیقات کا آغاز اور خاطی پولیس ملازمین کے خلاف فوجداری مقدمات درج کئے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ سکھ برادری کو تلوار اور برچھی لے کر گھومنے پھرنے کی آزادی دی گئی اور نہتے مسلمانوں پر فائرنگ کی گئی، جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مکہ مسجد بم دھماکوں کے بعد فائرنگ کرنے والے اور بے قصور مسلمانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے والے پولیس عہدہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے پولیس نے لاٹھی چارج کرنے، آنسو گیس کے شل برسانے یا ہوائی فائرنگ کی بجائے سیدھے فائرنگ کردی۔ انھوں نے مہلوکین کے ورثاء کو فی کس دس لاکھ روپئے ایکس گریشیا دینے، ان کے ارکان خاندان میں کسی ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم، نقصانات کی پابجائی کے علاوہ حملہ کرنے والے غیر سماجی عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وفد نے اس واقعہ کی شکایت سونیا گاندھی، احمد پٹیل اور قومی اقلیتی کمیشن سے کرنے کا فیصلہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT