Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / کشن باغ نجم نگرمیں مسلم مکانات اور مسجد پر سنگباری اور شراب کی بو تلوں سے حملہ

کشن باغ نجم نگرمیں مسلم مکانات اور مسجد پر سنگباری اور شراب کی بو تلوں سے حملہ

٭مہلوکین کے ورثاء کو فی کس 6 لاکھ روپئے امداد ٭زخمیوں کو فی کس 50 ہزار روپئے ،گورنر کا اعلان

٭مہلوکین کے ورثاء کو فی کس 6 لاکھ روپئے امداد
٭زخمیوں کو فی کس 50 ہزار روپئے ،گورنر کا اعلان

حیدرآباد۔15 مئی (سیاست نیوز)راجندر نگر کشن باغ سے متصل نجم نگر میں آج رات دیر گئے سکھ اشرار نے مسلم مکانات اور مسجد مومن چودھری پر سنگباری کی۔ اس کے علاوہ شراب کی بوتلوں سے حملے بھی کئے ۔ نجم نگر کا علاقہ بہادر پورہ پولیس اسٹیشن حدود میں آتا ہے جہاں کرفیو نہیں ہے۔ پولیس اور ریاپڈ ایکشن فورس نے اس علاقہ میں سکھ اشرار کے خلاف کارروائی کے نام پر کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ مسلسل سنگباری کے باعث سید اصغر ،عباس حسین ، محمد قدیر اور شبیر کے مکانات جو اسبسطاس کے ہیں کے چھتوں کو بھاری نقصان ہوا ہے ۔سنگباری کے اس واقعہ کے بعد نجم نگر میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سکھ اشرار نے کرفیو زدہ علاقہ روڈ نمبر 9 کشن باغ میں بھی آج رات دیر گئے مسلم مکانات اور ریاپڈ ایکشن فورس پر بھی سنگباری کی۔پولیس عملہ نے اشرار پرلاٹھی چارج انہیں منتشر کردیا ۔ گورنر مسٹر ای ایس ایل نرسمہن نے کشن باغ فرقہ وارانہ فسادات کی مکمل طور پر غیر جانبدارانہ مجسٹریئیل تحقیقات کروانے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ راج بھون پر ریاستی گورنر نے کشن باغ واقعات کی تفصیلات حاصل کیں اور پولیس عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ حالات پر فوری قابو پائیں۔

گورنر نے فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات میں تین مسلم مہلوکین کے افراد خاندان کو راحت بہم پہنچانے کے مقصد سے فی مہلوک کے افراد خاندان کو 6 لاکھ روپئے ایکس گریشیا کا اعلان کیا اور متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ یہ امداد فوری فراہم کی جائے ۔ زخمی افراد کو فس کس 50 ہزار روپئے مالی امداد دی جائے گی۔ پولیس نے یہاں کرفیو میں کوئی نرمی نہیں دی اور حساس علاقوں میں سنٹرل ریزرو پولیس (سی آر پی) کے دستوں کو متعین کیا۔ سائبرآباد کے اعلیٰ پولیس عہدیدار حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جوائنٹ کمشنر آف پولیس مسٹر وائی گنگا دھر کی قیادت میں عرش محل علاقہ میں ایک کیمپ آفس بھی قائم کیا گیا ہے، تاکہ حالات کا راست طور پر جائزہ لیا جاسکے۔ کرفیو زدہ علاقوں میں پولیس کی سختی کے باعث مقامی عوام پریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں اور عرش محل علاقہ جس میں غریب بستیاں واقع ہیں، اناج اور دیگر غذائی اشیاء حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ کمسن و شیر خوار بچے دودھ سے محروم ہیں۔ کشن باغ سکھ چھاؤنی عرش محل علاقہ میں بھڑک اٹھے فرقہ وارانہ تشدد کے دوسرے دن پولیس عملہ نے متاثرہ افراد و مکانات پر پہنچ کر پنچ نامہ کرتے ہوئے ضابطہ کی کارروائی مکمل کی۔ سکھ اشرار کی جانب سے قاتلانہ حملوں کے بعد خواتین اور بچے ہنوز خوف زدہ ہیں اور اشرار کی جانب سے دوبارہ حملے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

مذہبی نشان کو مبینہ طور پر نامعلوم افراد کی جانب سے نقصان پہونچائے جانے کے بعد بھڑک اٹھے تشدد کو قابو میں کرنے کیلئے پولیس نے جگہ جگہ پولیس پکٹس متعین کیا ہے اور عوام کی چہل پہل کو روکنے کیلئے گلی کوچوں میں خاردار نصب کئے ہیں۔ آج صبح سی آر پی کو اس علاقہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس کے بعد سی آر پی عملہ نے آج کرفیو زدہ علاقہ میں مارچ پاسٹ کیا۔ کل جمعہ کے پیش نظر پولیس نے انتہائی چوکسی برتتے ہوئے راجندر نگر کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں پولیس طلایہ گردی میں شدت پیدا کردی ہے۔ تشدد زدہ علاقہ میں آج جی ایچ ایم سی عملہ نے سکھ اشرار کی جانب سے مسلم افراد کی تباہ شدہ املاک کی صفائی کا کام شروع کیا اور محکمہ واٹر ورکس کی جانب سے ٹینکرس کے ذریعہ پانی پہونچایا گیا چونکہ کل اشرار نے حملے کے دوران پانی کی ٹانکیوں کو نقصان پہونچایا تھا اور پولیس فائرنگ میں جاں بحق ہونے والے تین افراد کی میتوں کو غسل دینے کے لئے پانی کی شدت قلت محسوس کی گئی تھی۔ کمشنر پولیس سائبرآباد مسٹر سی وی آنند، ڈی آئی جی سی آر پی ایم مسٹر مہیش چندرا لڈھا نے راجندر نگر کے کرفیو زدہ علاقہ کا معائنہ کیا اور پولیس عملہ کو چوکس رہنے کی ہدایت دی۔ ذرائع نے بتایا کہ بعد نماز جمعہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاس میں کرفیو میں نرمی دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر نے فسادات پر قابو پانے کیلئے فائرنگ سے متعلق تفصیلات بھی حاصل کیں۔ فسادات میں جن املاک (مکانات وغیرہ )کو نقصانات پہنچایا گیا ہے ان کا جائزہ لیتے ہوئے قوانین کے مطابق معاوضہ ادا کرنے کی متعلقہ عہدیدراوں کو ہدایت دی گئی ہے ۔ گورنر نے ان فرقہ وارانہ فسادات کا نہایت ہی سخت نوٹ لیا اور پولیس پر برہمی ظاہر کی۔

TOPPOPULARRECENT