Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / کشن باغ واقعہ کے خاطی پولیس کیخلاف کارروائی اور جوڈیشیل تحقیقات کا مطالبہ

کشن باغ واقعہ کے خاطی پولیس کیخلاف کارروائی اور جوڈیشیل تحقیقات کا مطالبہ

مہلوکین کے ورثا کو10 لاکھ ایکس گریشیاء کی فراہمی پر زور، ڈاکٹر نارائنا کی وفد کے ساتھ گورنر سے نمائندگی

مہلوکین کے ورثا کو10 لاکھ ایکس گریشیاء کی فراہمی پر زور، ڈاکٹر نارائنا کی وفد کے ساتھ گورنر سے نمائندگی

حیدرآباد ۔ 17 مئی (پریس نوٹ) ڈاکٹر کے نارائنا کی زیرقیادت ایک وفد بشمول مسرس سید عزیز پاشاہ سابق ایم پی، عثمان الہاجری صدر دکن وقف پروٹیکشن سوسائٹی، حامد شطاری صدر سنی علماء بورڈ، سید حیدر پاشاہ قادری، میجر قادری اور میر احمد علی صدر گریٹر حیدرآباد انصاف نے گورنر جناب ای ایس این ایل نرسمہن سے ملاقات کرکے کشن باغ کی فائرنگ واقعہ اور وقف بورڈ کے معاملات پر سیر حاصل بات چیت کی۔ کشن باغ میں بی ایس ایف کی فائرنگ جو بلاوجہ تھی جس کی جس میں 3 معصوم لوگوں کی موت واقع ہوئی۔ پولیس اور بی ایس ایف کی فائرنگ سپریم کورٹ کے احکامات کے مغائر ہے جس کے بموجب فائرنگ سے پہلے تدارکی اقدامات بشمول لاٹھی چارج اور آنسو گیس بھی شامل ہیں۔ تاہم نگران احکامات کی پرواہ کئے بغیر فائرنگ کی گئی۔ وفد نے خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف سخت چارہ جوئی کی پرزور نمائندگی کی۔ ساتھ ہی وفد نے مہلوکین کے ورثاء کو کم از کم 10 لاکھ روپئے ایکس گریشیاء منظور کرنے پر زور دیا اور سارے واقعہ کی جوڈیشیل تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ گورنر نے تیقن دیا کہ جوڈیشیل تحقیقات کے بعد خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وفد نے ایک اور میمورنڈم پیش کرتے ہوئے کہا کہ وقف کے زمینات کی لوٹ اور بعض متولیوں کے بالراست وقف زمینات کی استحصال اور غیرمجاز فروختگی باعث تشویش ہے۔ اس خصوص میں ٹھوس مثالیں پیش کی گئی۔ ان معاملات کو لیکر شیخ محمد اقبال آئی پی ایس نے چارہ جوئی کرتے ہوئے ان خاطی متولیوں کو معطل کیا گیا تو ان کے خلاف بلاوجہ شوروغوغا کیا گیا اور چیف سکریٹری سے نمائندگی کی گئی کہ شیخ محمد اقبال کو تبادلہ کیا جائے۔ وفد نے گورنر سے مطالبہ کیا کہ وقف کی جائیدادوں کی تحفظ کا سلسلہ تیز تر کیا جائے اور فرض شناس آفیسر شیخ محمد اقبال کو ہٹایا نہ جائے۔ گورنر نے اس خصوص میں وفد کو مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔

TOPPOPULARRECENT