Tuesday , December 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / کفوء (یعنی برابری)

کفوء (یعنی برابری)

سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسلم خاتون مطلقہ تھی اور اپنی گزربسر کے لئے بیڑی فیکٹری میں بیڑیاں بنانے جایاکرتی تھی وہاں ایک غیر مسلم ملاز م سے محبت پیدا ہوگئی وہ ملازم اسلام سے مشرف ہوکرمتذکرہ خاتون سے نکاح کرنا چاہتاہے چنانچہ اس نے دواخانہ میںاپنی ختنہ بھی کراچکاہے ۔آبادی کے چند مسلم حضرات کہتے ہیں کہ اگر وہ اسلام قبول کرلے توبھی نکاح نہ کیاجائے اور کہتے ہیں کہ اس نے محض اس خاتون کی محبت کی خاطر اسلام قبول کررہا ہے اس لئے نکاح ناجائز ہے۔بناء بریںوہ جبر اور تشدد کررہے ہیںاور اس خاتون اور اس کے والدین سے بات چیت ،لین دین ،خرید وفروخت نہ کرنے کے لئے آبادی کے مسلم حضرات اعلان کرچکے ہیں ۔ ایسی صورت میں شرعاکیاحکم ہے ؟
جواب : اگرکوئی غیر مسلم ، اسلام قبول کرلے تووہ ایسی عورت کا کفو نہیںہوسکتا جس کے باپ ، دادا مسلمان ہیں من اسلم بنفس ولیس لہ اب فی الاسلام لا یکون کفأ لمن لہ اب وجدفی الاسلام کذا فی فتاوی قاضی خان۔ عالمگیری جلد اول ص ۲۹۰ اگر کوئی عورت اپنا عقد غیرکفومیں کرلے تو نکاح منعقدہوجائے گا البتہ اس عورت کے ولی کو حق ہوگا کہ بصورت ناراضگی اس نکاح کو فسخ کرادے ۔ جیساکہ اسی کتاب کے ص۲۹۲ میں ہے ثم المرأۃ اذا زوجت نفسھا من غیرکفء صح النکاح …ولکن للأولیاء حق الاعتراض۔
اگر کسی لڑکی کے اپنا عقد غیرکفو میں کرچکنے کے بعد اس کے ولی نے اپنی رضامندی ظاہرکردی ہو یا خود ولی نے اس کا نکاح غیرکفومیں کیا ہوتو پھر کسی کوکسی قسم کے اعتراض کاحق نہیں ہے ۔ واذا زوجت نفسھا من غیرکفء ورضی بہ احد الأولیاء لم یکن لھذا الولی ولالمن مثلہ او دونہ فی الولایۃ حق الفسخ…وکذا اذا زوجھا احد الأولیاء برضاھا کذا فی المحیط۔ عالمگیری جلد اول ۲۹۳۔
پس صورت مسئول عنہا میں بشرط صحت سوال اگر اس خاتون کے والدین ، اس نو مسلم سے عقد پر راضی ہیں یا وہ خود اس خاتون کی خـواہش پر اس کا عقد نومسلم سے کر رہے ہیں تو دوسرے مسلمانوں کو اعتراض یا ترک موالات کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ غیر کفو میں عقدسے اعتراض کا حق صرف لڑکی کے اولیاء کو ہے دوسروں کو نہیں ۔

افعالِ شنیعہ سے توبہ…
سوال : کیافرماتے ہیںعلمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکے ذمہ اس کے موروثی خدمات خطابت وامامت ہیں جس کووہ عرصہ سے انجام دے رہاہے۔ زید بحیات پدر اپنی آغاز ِجوانی میں افعال شنیعہ کا مرتکب ہواتھا، زیدکے والد کوجب اسکی خبرہوئی تو انہوں نے زیدکو خاندانی حالات اور خدمات شرعی کی اہمیت سے واقف کرایا اور نصیحت کیا ، جس کی بناء پرزید نے بخلوص قلب توبہ کرکے رجوع الی اﷲ ہوا اور پاپند احکام شرعیہ ہے اپنے والد کی کبرسنی اور ضعیفی کی وجہ انکی زندگی ہی سے یہ خدمات انجام دیتا چلاآرہاہے ۔ بعد وفات والد بھی بلحاظ احکام شرعی کماحقہ بہ پابندی انجام دے رہاہے ۔ اب چنداصحاب بوجہ ذاتی بغض زید سے مخالفت کرتے ہوئے یہ الزام لگارہے ہیں کہ زمانہ ء سابق میں زید افعال شنیعہ کا مرتکب ہواتھا اس لئے اسکی امامت درست نہیںہے ۔ ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے ؟
جواب : شرعا امامت کا مستحق وہ شخص ہے جو مسائل نماز سے واقف ہو،پھر وہ جو علم قراء ت کا بخوبی جاننے والا ہو، اگر ان دونوں میں سب برابر ہوں توزیادہ متقی جو شخص ہو وہ مستحق امامت ہے ۔ عالمگیری جلد اول صفحہ ۸۳ میں ہے: الأولی بالامامۃ اعلمھم باحکام الصلوۃ ھکذا فی المضمرات …فان تساووا فاقرؤھم ای اعلمھم بعلم القراء ۃ …فان تساووا فاؤرعھم ۔ نیز عالمگیری جلد اول کے اسی صفحہ میں ہے: کہ مسجد کا مقررہ امام ہی امامت کا مستحق ہے ۔ دخل المسجد من ھواولی بالامامۃ من امامۃ المحلۃ فامام المحلۃاولی ۔
پس صورت مسئول عنہا میں زیدنے افعال شنیعہ سے توبہ کرلی بعدہ وہ امامت وخطابت کی خدمات انجام دیناشروع کیا اور بعدوفات والد اس کو جانشین بنایاگیا نیز وہ مسائل واحکام نماز سے واقف ہے اور وہ توبہ کرنے کے بعدسے افعال شنیعہ کا مرتکب نہیں ہواہے تو اس کی امامت وخطابت جائز ہے ۔ اب اس کو اس خدمت سے اس وقت تک نہیں ہٹایا جاسکتاجب تک اس میںفساد شرعی ثابت نہ ہو۔ فقط واﷲ تعالی أعلم بالصواب

TOPPOPULARRECENT