Friday , August 17 2018
Home / Top Stories / کلبھوشن جادھو کی والدہ و شریک حیات سے سخت نگرانی میں ملاقات

کلبھوشن جادھو کی والدہ و شریک حیات سے سخت نگرانی میں ملاقات

درمیان میں گلاس اسکرین ‘انٹرکام پر بات چیت ۔ ملاقات آخری نہیں تھی ‘ پاکستان ۔حکومت پاکستان سے جادھو کا ویڈیو میں اظہار تشکر

اسلام آباد 25 ڈسمبر( سیاست ڈاٹ کام) پاکستان میں مبینہ جاسوسی کے الزام میں سزائے موت کا سامنا کرنے والے کلبھوشن جادھو نے آج اپنی شریک حیات اور والدہ سے ملاقات کی ۔ تاہم یہ ملاقات ایک شیشے کے اسکرین کے آر پار سے ہوئی ۔ ملاقات کے اس سارے واقعہ کو پاکستان نے اپنے انداز میںانجام دیا اور اس کی تفصیلات ٹوئیٹس ‘ تصاویر اور ٹی وی فوٹیج سے منظر عام پر آئیں۔ یہ ملاقات 40 منٹ کی رہی جو ہندوستان کی جانب سے کئی نمائندگیوں کے بعد ہوئی ۔ یہ ملاقات انتہائی سخت سکیوریٹی والی وزارت خارجہ کی عمارت میں ہوئی جبکہ پاکستان کو بین الاقوامی عدالت انصاف نے مئی کے مہینے میں ہدایت دی تھی کہ جادھو کی سزائے موت پر عمل آوری روک دی جائے ۔ دفتر خارجہ نے ایک نیا ویڈیو پیام بھی جاری کیا ہے جس میں جادھو ‘ شریک حیات اور والدہ سے ملاقات پر ‘ حکومت پاکستان سے آطہار تشکر کرتا دکھائی دیا گیا ہے ۔ مارچ میں اپنی گرفتاری کے بعد پہلی مرتبہ جادھو اپنے افراد خاندان سے ملاقات کر رہا ہے ۔ ملاقات کی اس اجازت کو پاکستان نے انسانی بنیادوں پر کیا گیا اقدام قرار دیا اور کہا کہ یہ ملاقات بانی پاکستان محمد علی جناح کی یوم پیدائش کے موقع پر کروائی گئی ہے ۔ دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے ٹوئیٹ کیا کہ پاکستان نے کمانڈر جادھو کی والدہ اور شریک حیات کو انسانی بنیادوں پر بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی یوم پیدائش کے موقع پر جادھو سے ملاقات کی اجازت دی ہے ۔ ٹوئیٹ کے ذریعہ پاکستان نے ہندوستانی بحریہ کے سابق عہدیدار کو اس کے فوجی خطاب کے ساتھ مخاطب کیا ہے ۔ پاکستان کا ادعا ہے کہ اس کی سکیوریٹی فورسیس نے جادھو کو بلوچستان صوبہ سے گرفتار کیا ہے جبکہ وہ وہاں ایران سے داخل ہوا تھا ۔ اس کا ادعا ہے کہ جادھو کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ ہے جس میں اس کی حسین مبارک پٹیل کی حیثیت سے شناخت درج ہے ۔ تاہم ہندوستان کا کہنا ہے کہ جادھو کا ایران سے اغوا کیا گیا تھا جہاں وہ بحریہ سے سبکدوشی کے بعد تجارتی اغراض کیلئے گیا تھا ۔ ملاقات کے بعد فیصل نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ اسلامی روایات کے مطابق اور انسانی بنیادوں پر ملاقات کی اجازت دی گئی ۔ ٹی وی فوٹیج میں جادھو کی والدہ اونتی اور شریک حیات چیتن کُل کو وزارت داخلہ کی عمارت آغا شاہی بلاک میں ہندوستانی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ اور پاکستانی خاتون عہدیدار کے ساتھ داخل ہوتے دکھایا گیا ۔ دفتر خارجہ نے بعد ازاں جادھو کی شریک حیات اور والدہ سے ایک گلاس اسکرین کے پیچھے سے بات کرتے تصویر جاری کی ۔ دونوں کے درمیان انٹرکام کے ذریعہ بات چیت کا اہتمام تھا ۔ ملاقات کے بعد پوری پارٹی باہر آگئی اور اُنھیں ایک سفید کار میں منتقل کردیا گیا۔ دونوں خواتین آج صبح کی اولین ساعتوں میں براہ دوبئی اسلام آباد پہونچ گئیں تھیں۔ دونوں نے تقریباً 30 منٹ ہندوستانی سفارت خانہ میں گذارے بعد ازاں انھیں وزارت خارجہ پاکستان کے دفتر منتقل کیا گیا ۔ بعد ازاں جادھو کی شریک حیات اور والدہ اومان ائر لائین کی پرواز کے ذریعہ مسقط کیلئے روانہ ہوگئیں۔ بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ائرپورٹ کے عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ اس ملاقات کے بعد ہندوستانی وزارت خارجہ کی جابن سے دہلی میں کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے ۔ ملاقات سے قبل ارکان خاندان کی تلاشی لی گئی ۔ ملاقات سے متعلق معلومات وزارت خارجہ کے ٹوئٹر تحریروں اور تصویروں کے ذریعہ حاصل ہوئیں ۔ کمانڈر جادھو آرام سے وزارت خارجہ پاکستان کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا اور اُس کی والدہ اور شریک حیات وہاں موجود تھے ۔ پاکستان نے کہا کہ وہ اپنے وعدوں کی پابندی کرتا ہے ۔ دفتر کے ترجمان محمد فیصل نے قبل ازیں اپنے ٹوئٹر پر جادھو سے ملاقات کے لئے آنے والوں کی ایک تصویر جاری کی تھی ۔ پاکستان کی جانب سے دفتر خارجہ کے ڈائرکٹر برائے ہندوستان فرح بگٹی ملاقات کے وقت موجود تھیں۔ بیوی اور والدہ نے اخباری نمائندوں کو نمستے کیا لیکن اُن کے سوالات کے جوابات نہیں دیئے ۔ فیصل نے مزید کہا کہ یہ ایک مثبت ملاقات تھی اور ان تمام نے تفصیلی بات چیت کی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ذۃن نشین رکھنی چاہئے کہ یہ آخری ملاقات نہیں تھی ۔ پریس کانفرنس میں ایک ویڈیو ملاقات سے قبل کا دکھایا گیا جس میں جادھو یہ کہتے ہوئے دکھائے گئے ہیں کہ میں نے شریک حیات اور والدہ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی اور شکر گذار ہوں کہ حکومت پاکستان نے اس کا انتظام کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT