Saturday , June 23 2018
Home / جرائم و حادثات / کلثوم پورہ سے لاپتہ کمسن مقتولہ کا سوتیلا باپ اور دیگر گرفتار

کلثوم پورہ سے لاپتہ کمسن مقتولہ کا سوتیلا باپ اور دیگر گرفتار

حیدرآباد /29 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) کلثوم پورہ علاقہ سبزی منڈی سے پراسرار طور پر لاپتہ اور بے رحمانہ انداز میں قتل کردی گئی 3 سالہ کمسن زینب کے قاتلوں کو پولیس نے بے نقاب کردیا ۔ ہاسٹل میں داخلہ کے بہانے اپنی رشتہ دار خاتون کے ہمراہ قتل کرنے والے سوتیلے باپ اور اس کی رشتہ دار کو پولیس کلثوم پورہ نے جیل منتقل کردیا ہے ۔ بے گناہ معصوم زینب

حیدرآباد /29 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) کلثوم پورہ علاقہ سبزی منڈی سے پراسرار طور پر لاپتہ اور بے رحمانہ انداز میں قتل کردی گئی 3 سالہ کمسن زینب کے قاتلوں کو پولیس نے بے نقاب کردیا ۔ ہاسٹل میں داخلہ کے بہانے اپنی رشتہ دار خاتون کے ہمراہ قتل کرنے والے سوتیلے باپ اور اس کی رشتہ دار کو پولیس کلثوم پورہ نے جیل منتقل کردیا ہے ۔ بے گناہ معصوم زینب اپنی والدہ اور سوتیلے باپ کے رشتہ میں دراڑ کے سبب بدلے کی آگ کا شکار ہوگئی ۔ قاتل دراصل اپنی بیوی کو قتل کرنا چاہتا تھا لیکن منصوبہ کا راز فاش ہونے کے بعد خوف کے عالم میں اپنی سوتیلی بیٹی کو ہی موت کے گھاٹ اتار دیا اور اس کا بے رحمی سے قتل کردیا ۔ اسسٹنٹ کمشنر پولیس گوشہ محل مسٹر جے پال اور انسپکٹر کلثوم پورہ مسٹر کرن کمار نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران دونوں قاتلوں کو میڈیا کے روبرو پیش کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ کمسن تین سالہ زینب کا قتل 19 ستمبر کے دن ہوا تھا ۔

اس کمسن کو ہاسٹل میں داخلہ دلانے کے بہانے اس کا سوتیلا باپ قاتل نمبر ایک نعیم اور اپنی رشتہ دار خاتون شاہ جہاں عرف صوفیہ عرف شجو کے ہمراہ اپنے ایک رشتہ دار کی کار میں نلگنڈہ کیلئے روانہ ہوا اور روانگی کے بعد اس نے اپنی بیوی سمیہ بیگم کو اطلاع دی تھی کہ وہ بچی کو ہاسٹل میں داخلہ کیلئے لے جارہا ہے ۔ اس نے روانگی سے قبل کار میں ایک تھیلا رکھ لیا تھا اور جیسے ہی بی بی نگر کا راستہ اپنایا اور لوت کنٹہ تالاب کے قریب پہونچا اس سنگ دل و بے رحم ظالم انسان نے کمسن کا گلہ گھونٹ دیا اور اس دوران اس کی رشتہ دار خاتون صوفیہ نے بچی کے ہاتھ اور پیر کو پکڑ لیا ۔جیسے ہی کمسن لڑکی بے ہوش ہوگئی ایک وزنی پتھر لیکر لڑکی کے سر پر وار کیا گیا کمسن خون میں لت پت ہوگئی اور انہیں اس بات کا یقین ہوگیا کہ لڑکی فوت ہوگئی ۔ تو دونوں نے اس کمسن کو تھیلے میں باندھ کر لوت کنٹہ تالاب میں پھینک دیا اور کار کو ایک سرویس سنٹر میں لے گئے اور واٹر سرویسنگ کے بعد کار کو رشتہ دار کے حوالے کردیا ۔ قاتل نمبر ایک نعیم کا اصل نشانہ اس کی بیوی سومیہ تھی ۔ شادی کے بعد سمیہ اپنے شوہر سے علحدگی کے بعد اپنی تین سالہ لڑکی کے ساتھ سبزی منڈی علاقہ میں رہتی تھی اور اس نے نعیم سے شادی کی تھی ۔ شادی کے چند دن بعد نعیم اور سمیہ میں گھریلو مسائل اور مالی مسائل پر بحث و تکرار شروع ہوگئی تھی اور تنازعہ چل رہا تھا ۔ اس دوران نعیم نے اپنی رشتہ دار خاتون صوفیہ کے ساتھ سمیہ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور ہتھوڑے سے قتل کرنے کی کوشش کی جس میں ناکامی کے بعد اس منصوبہ کا پتہ 3 سالہ زینب کو ہو گیا تھا اور دونوں نے سمیہ سے بدلہ لینے کیلئے زینب کا قتل کردیا ۔

TOPPOPULARRECENT