Wednesday , December 19 2018

کلماتِ کفر ادا کرنے سے پرہیز کریں

مرسل : ابوزہیر نظامی
۱ ۔ (شرع میں ) ایمان کی ضد کا نام کفر ہے ۔ یعنی جن چیزوں کی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرنا واجب ہے ان کا انکار کرنا کفر اور انکار کرنے والا کافر کہلاتا ہے ۔ ( خواہ سب چیزوں کا انکار کرے یا کسی ایک چیز کا ‘خواہ زبان سے انکار کا کوئی لفظ نکالے یا دل سے یقین نہ رکھے ) ۲۔ کفر نہایت بری چیز ہے اس کا مرتکب (کافر) ہمیشہ دوزخ میں رہے گا ۔ ۳ ۔ انسان کو نعمت ایمان حاصل ہونے کے بعد اس کا شکر بجا لانا اس کے لوازم (اعمال صالحہ ) ادا کرتے رہنا اور اسکے زوال سے ڈرتے رہنا چاہئے ۔ پس ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ہمیشہ کفر کے اقوال وافعال سے بچتا رہے اور یاد رکھے کہ کلمات کفر کا قصداً زبان سے نکالنا (خواہ مذاق و دل لگی ہی سے کیوں نہ ہو ) آدمی کو کافر بنا دیتا ہے ۔ اگر احیاناً کوئی کلمہ کفر نادانستہ زبان سے نکل جائے تو اور بات ہے۔ اس صورت میں فوراً توبہ کرلینی چاہئے ۔ ۴ ۔ کلماتِ کفر جن سے آدمی کافر ہوجاتا ہے بہت ہیں لیکن یہاں بطور نمونہ چندکلمات بیان کئے جاتے ہیں ۔ ان سے اور ان کے مثل دوسرے کلمات سے احتراز لازم ہے ۔ (۱) اللہ جل شانہ کی جناب پاک میں بے ادبی کرنا یا برا بھلا کہنا ۔ (۲) پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر کی شان میں بے ادبی کرنا ۔(۳) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جناب مقدس میں گستاخی کرنا ( مثلاً آپ کے چہرہ مبارک میں یا اوصاف شریفہ سے کسی وصف میں یا آپ کے احکام سے کسی حکم میں کوئی عیب نکالنا) ۔ (۴) قرآن شریف کی کسی آیت کا انکار کرنا یا اس کے ساتھ بے ادبی کرنا ۔(۵) احکام شرع سے کسی حکم کا انکار کرنا یاحقارت کرنا یا مذاق اڑانا ۔(۶) حرام قطعی کو حلال یا حلال قطعی کو حرام جاننا یا کہنا ۔(۷) ماہ رمضان کے آنے پرکہنا کہ کیا مصیبت و بلا سر پر آئی ۔ (۸) نماز پڑھنے کی ہدایت پر یہ کہنا کہ تم نے جو اتنی نمازیں پڑھیں کیا پایا یا میں نے جو نماز نہیں۔پڑھی کیا نقصان اٹھایا ۔ (۹) حالت غضب وغیرہ میں یہ کہہ دینا کہ فلاں کام کے کرنے کا خدا بھی حکم دے تو میں نہ کروں ۔ (۱۰) بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر کوئی حرام کام کرنا ( مثلاً شراب پینا ‘ زنا کرنا وغیرہ ) (۱۱) گناہ خواہ صغیرہ ہو یا کبیرہ اس کو جائز و حلال سمجھنا یا گناہ کبیرہ کو حقیر جاننا (یعنی یہ خیال کرنا کہ اس کے کرنے سے کیا ہوتا ہے ) ۔ (۱۲)کسی نجومی یا پنڈت وغیرہ سے غیب کی باتیں دریافت کرنا اور ان پر یقین لانا ۔ (۱۳) چیچک نکلنے پر مورت بنا کر پوجا کرنا یا اس سے شفاء چاہنا (وغیرہ) ۵ ۔ بعض علماء نے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونے یا اس کے غضب سے بے خوف ہوجانے کو بھی کفر میں شمار کیا ہے ۔ ۶ ۔ کسی کلمہ گو (مسلمان) کو خواہ وہ کیسا ہی فاسق و فاجر ہو کافر نہیں کہنا چاہئے تاوقتیکہ کفر کی کوئی بات اس کی زبان سے نہ سن لیں یا کفر کی علامت اس میں نہ دیکھ لیں ۔
(ماخوذ :نصاب اہلِ خدمات شرعیہ، حصہ اول)

TOPPOPULARRECENT