کلواکرتی میں 10امیدواروں میں مقابلہ آرائی

کلواکرتی۔16 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حلقہ اسمبلی کلواکرتی کیلئے جملہ 20امیدواروں نے نامزدگی داخل کی تھی جن میں سے 4 کے کاغذات مسترد کئے گئے جبکہ 6امیدواروں نے دیگر امیدواروں کے حق میں دستبرداری اختیار کرلی ۔ اسی طرح اب جملہ 10امیدوار اسمبلی کیلئے میدان میں ہیں اور ہر شخص اپنی اپنی جانب سے بھرپور کوششوں میں لگا ہوا ہے اور ہر ایک کو اپ

کلواکرتی۔16 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حلقہ اسمبلی کلواکرتی کیلئے جملہ 20امیدواروں نے نامزدگی داخل کی تھی جن میں سے 4 کے کاغذات مسترد کئے گئے جبکہ 6امیدواروں نے دیگر امیدواروں کے حق میں دستبرداری اختیار کرلی ۔ اسی طرح اب جملہ 10امیدوار اسمبلی کیلئے میدان میں ہیں اور ہر شخص اپنی اپنی جانب سے بھرپور کوششوں میں لگا ہوا ہے اور ہر ایک کو اپنی کامیابی کا یقین ہے جبکہ کانگریس کو اپنے باغی امیدواروں سے بڑی دقت لاحق ہے ‘ اسی طرح ٹی آر ایس بھی اپنے باغی امیدواروں سے کافی پریشان ہے جبکہ کانگریس اور ٹی آر ایس کے ناراض امیدوار اس حلقہکے پانچ منڈلوں میں موجود سینئر قائدین سے خفیہ معاہدے کر کے اپنی اپنی امیدواری کی تائید کااظہار کررہے ہیں ۔ کانگریس کی جانب سے ٹکٹ کے امیدوار جنہیں ٹکٹ نہ ملنے پر نارائن ریڈی آزاد امیدوار کے طور پر مقابلہ کررہے ہیں ۔دوسری جانب حلقہ اسمبلی ٹی آر ایس کی بنیاد ڈالنے والے سرگرم کارکن بالاجی سنگھ نے بھی ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد امیدوار کے طور پرمیدان میں اتر چکے ہیں ۔ وائی ایس آر کی طرف سے ایڈماکنٹا ریڈی اپنے تمام پرانے ساتھیوں کو قریب کرتے ہوئے میدان میں اتر چکے ہیں جبکہ بی جے پی اور ٹی ڈی پی اتحادی امیدوار بی جے پی ریاستی سکریٹری ٹی آچاری بھی میدان میں ہیں جو اپنے بل بوتے پر میدان میں مقابلے کی تیاری کررہے ہیں جبکہ کانگریس کی جانب سے نوجوان قائد ایک نیا چہرہ ومشی چندر ریڈی کو دیا گیا ہے ۔ یہ الیکشن ان کا پہلا الیکشن ہے جبکہ پارٹی کے سینئر قائدین ان سے ناراض ہیں ۔ جب تک سینئر ان کی تائید نہ کریں گے ان کیلئے مقابلہ بہت ہی سخت ہے ۔ دوسری طرف سابق ایم ایل اے جو کہ تلگودیشم سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں ٹکٹ کی خاطر شامل ہوئے ہیں ان کے بعض قریبی ساتھی ان کے اس فیصلے سے سخت ناراض ہیں جن کو جئے پال یادو منانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ جبکہ تلنگانہ تحریک میں شامل نوجوان قائد کراٹے راجو جنہوں نے مقابلے کیلئے میدان میں داخل ہوئے تھے آخری دن کانگریس کے ناراض باغی امیدوار کے نارائن ریڈی کے حق میں دستبرداری اختیار کئے ہیں جبکہ انہیں یقین ہیکہ نارائن ریڈی کے گروپس آف اسکولس کے طلبہ کا ایک کثیر مجموعہ ہے جو کہ ان کی کامیابی میں اہم رول ادا کرسکتا ہے جبکہ بعض قائدین کا اظہار خیال ہیکہ طلبہ پر یقین کرتیہ وئے جیت کا اظہار یقین ناممکن ہے کیونکہ اکثر طلبہ تو ووٹ کے قابل بھی نہیں ہوتے اس کے علاوہ اپنے بڑوں کے تابعداری میں ہوتے ہیں ؟ ۔

TOPPOPULARRECENT