Wednesday , December 19 2018

کلونجی کی افادیت

کلونجیچہرے کی جھائیاں اور داغ دھبے دور کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ چہرے کی جھریاں ختم کرکے ہمیشہ جوان رکھتی ہے ۔ کمزور جسم کو طاقتور ، صحتمند اور خوبصورت بھی بناتی ہے ۔ موٹاپادور کرنے کیلئے نیم گرم پانی میں شہد ملاکر پینے سے زائد چربی کو ختم کرتی ہے ۔ نہار منہ ایک گلاس نیم گرم پانی میں ملاکر پینے سے بھی جسم کی فالتو چربی گلتی ہے ۔ کلو

کلونجیچہرے کی جھائیاں اور داغ دھبے دور کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ چہرے کی جھریاں ختم کرکے ہمیشہ جوان رکھتی ہے ۔ کمزور جسم کو طاقتور ، صحتمند اور خوبصورت بھی بناتی ہے ۔ موٹاپادور کرنے کیلئے نیم گرم پانی میں شہد ملاکر پینے سے زائد چربی کو ختم کرتی ہے ۔ نہار منہ ایک گلاس نیم گرم پانی میں ملاکر پینے سے بھی جسم کی فالتو چربی گلتی ہے ۔ کلونجی کا باریک سفوف کرکے اسی کے برابر چینی ملالیں اور ہر روز صبح شام استعمال کریں ۔ اس کے ساتھ کالی مرچیں بھی پانی کے ساتھ پھانکتے رہیں ۔ ایک پیالی تازہ پانی میں ایک چمچ شہد اور ایک لیموں کا رس ملاکر صبح نہار منہ پئیں ۔ کلونجی خون کی کمی ،چہرے کی زردی اور ضعیف جگر کو بھی جلابخشتی ہے ۔ پرانا نزلہ زکام کیلئے کلونجی جادوئی اثر رکھتی ہے ۔ پیٹ کے درد کے ساتھ شوگر کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتی ہے ۔

آج کی مشینی زندگی اور جدید لوازمات نے انسان کو اعصابی طور پر مفلوج کرکے رکھ دیا ہے اور ہر دوسرا شخص اعصابی دباؤ اور تناؤ میں مبتلا ہے ۔ ایسے لوگ کلونجی کے چند دانے روزانہ شہد کے ساتھ استعمال کرلیا کریں۔ چند دنوں میں خود کو بہت بہتر محسوس کریں گے پیٹ اور معدے کے امراض ، پھیپڑوں کی تکالیف اور خصوصاً دمے کے مرض میں کلونجی بہت مفید ثابت ہوتی ہے ۔ کلونجی کا سفوف نصف سے ایک گرام تک صبح نہار منہ اور رات کو سوتے وقت شہد کے ساتھ استعمال کرنا مفید ہے ۔ بعض اوقات کلونجی اور قسط شیریں ہم وزن کا سفوف صبح نہار منھ اور رات سونے سے قبل ہمراہ شہد استعمال کروالیا جاتا ہے ۔ یہ پرانی پچیش اور جنسی ا مراض میں بھی مفید ہوتا ہے جن لوگوں کو ہچکیاں آتی ہوں وہ کلونجی کا سفوف تین گرام کھانے کے ایک چمچ مکھن میں ملاکر استعمال کریں تو فائدہ ہوتا ہے ۔ کلونجی سے دو قسم کا تیل حاصل ہوتا ہے ۔ ایک سیاہ رنگ جو خوشبودار ہوتا ہے اور کھلا رہے تو اڑنے لگتا ہے ۔ دوسری قسم کا تیل شفاف ہوتا ہے جس کے دوائی اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔ یہ تیل چونکہ تیز ہوتا ہے اس لئے بیرونی طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور بہت سے جلدی امراض میں مفید ہوتا ہے یہ تیل بال خورے کی شکایت میں بہت فائدہ دیتا ہے ۔ مزید یہ کہ اس تیل کے استعمال سے بال جلد سفید نہیں ہوتے ۔ اگر جسم کا کوئی حصہ بے حس ہوجائے تو اس کی مالش مفید ثابت ہوتی ہے کان کے ورم اور نسیان میں بھی یہ تیل مفید ہے ۔

TOPPOPULARRECENT