Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / کل اور آج میں سب کچھ بدل گیا

کل اور آج میں سب کچھ بدل گیا

چیف منسٹر کے جواب سے میں مطمئن ہوں : اکبر ، حکومت وضاحت کے بجائے کارروائی ملتوی کررہی ہے : کانگریس
مقامی طلباء کو فیس کی پریشانی ، بیرون ملک اسکالر شپس پر جانے والے وہاں پریشان
حیدرآباد ۔ 5 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر اور اپوزیشن کے درمیان اسمبلی میں دلچسپ نوک جھونک کے واقعات پیش آئے ۔ ایک موقع پر اکبر الدین اویسی نے دوٹوک انداز میں چیف منسٹر کے خلاف ریمارکس کیا ۔ دوسرے ہی لمحے میں اصل اپوزیشن کانگریس کو حکومت کے خلاف احتجاج نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے سب کو حیرت زدہ کردیا ۔ تلگو دیشم کے رکن اسمبلی ریونت ریڈی نے وزیر امور مقننہ ہریش راؤ اور گورنمنٹ وہپس پر اپوزیشن قائدین سے دشمن ممالک جیسا برتاؤ کرنے کا الزام عائد کیا ۔ فیس باز ادائیگی کے مسئلہ پر آج پھر ایکبار چیف منسٹر کے سی آر اور اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے درمیان تیکھی نوک جھونک ہوگئی ۔ قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر کے ایک گھنٹہ کے بیان کے بعد اپوزیشن کو وضاحت طلب کرنے کا موقع فراہم کرنے کے بجائے ایوان کی کارروائی کو ملتوی کردینا کا فیصلہ غیر جمہوری ہے ۔ لہذا دوبارہ موقع فراہم کیا جائے ۔ کانگریس پارٹی گڑبڑ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ۔ پہلے مباحث پھر وقفہ سوالات کا آغاز کیا جائے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اپوزیشن جماعتوں کو مباحث میں حصہ لینے کا موقع فراہم نہ کرنے کے تعلق سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی ۔ البتہ انہوں نے کل کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ۔ اپوزیشن پر وقت ضائع کرنے کا الزام عائد کیا جس پر مجلس کے قائد مقننہ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ ہم ہرگز وقت ضائع نہیں کررہے ہیں یہ طلبہ کی زندگیوں کا سوال ہے ۔ چیف منسٹر نے وقت ضائع کرنے کا جو ریمارک کیا ہے وہ قابل اعتراض ہے ۔ اسمبلی میں روایت کے خلاف کارروائی ہورہی ہے ۔ قائد اسمبلی اور قائد اپوزیشن کو ہی اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جارہا ہے ۔ وہ اسپیکر اسمبلی سے خواہش کرتے ہیں کہ وہ رولنگ دیں ۔ اسمبلی میں صرف حکمران جماعت اور اصل اپوزیشن ہی رہے ۔ نئی ریاست ہے نیا قانون بنائیے ۔ ہم ایوان سے چلے جائیں گے ۔ چیف منسٹر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اشارہ ہرگز اکبر الدین اویسی کی طرف نہیں تھا ۔ تاہم اکبر الدین اویسی جس لب و لہجہ اور انداز میں بات کررہے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے ۔ وضاحت کے دوران ایک بار پھر اکبر الدین اویسی نے چیف منسٹر کے ریمارکس زیادہ انجینئرس کی ضرورت نہ ہونے کا دعویٰ کرنے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حصول تعلیم ہر شہری کا جمہوری حق ہے ۔ چیف منسٹر طلبہ کو تعلیم حاصل کرنا چھوڑدو کا ہرگز مشورہ نہیں دے سکتے ۔ ایک ذمہ دار چیف منسٹر کو اس طرح کے الفاظ کا استعمال کرنا زیب نہیں دیتا ۔ طلبہ اور نوجوانوں نے بڑی امید سے تلنگانہ کی تحریک میں حصہ لیا تھا ۔ لیکن بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ چیف منسٹر اس طرح کے ریمارکس کررہے ہیں ۔ چیف منسٹر پہلے نوٹ بندی کی تائید کی اب اس کا بہانہ بناتے ہوئے فیس باز ادائیگی کے بقایا جات جاری کرنے میں ٹال مٹول کی پالیسی اپنائی جارہی ہے ۔ تلگو دیشم کے رکن اسمبلی ریونت ریڈی نے کہا کہ وزیر امور مقننہ ہریش راؤ ، چیف وہپ کے علاوہ دوسرے وہپس اسمبلی میں فلور کوآرڈینیشن قائم کرنے میں پوری طرح ناکام ہوگئے ہیں ۔ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو دشمن ملک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے ۔ یہ روایت ٹھیک نہیں ہے ۔ کانگریس کی جانب سے واک آوٹ کا احتجاج درج کرانے کے لیے جب ملو بٹی وکرامارک کو کانگریس کی جانب سے موقع فراہم کیا گیا تو ریاستی وزیر امور مقننہ ہریش راؤ نے طنزیہ ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ واک آوٹ کا احتجاج درج کرانے کی روایت قائد کو ہے ۔ کیا کانگریس پارٹی نے اپنا قائد تبدیل کرلیا ہے یا ملوبٹی وکرامارک اپنا شخصی احتجاج درج کررہے ہیں قائد اپوزیشن اس کی وضاحت کریں ۔ جس پر اکبر الدین اویسی ، کشن ریڈی اور دوسرے ارکان نے ہریش راؤ کے موقف کی تائید کی ۔ اکبر الدین اویسی نے درمیان میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کا بیان اطمینان بخش ہے ۔ لہذا وہ کانگریس پارٹی کو مشورہ دیتے ہیں کہ احتجاج کے فیصلے سے دستبردار ہوجائے ۔ قائد مجلس مقننہ نے کہا کہ مجلس مسائل کو شدت سے پیش کرتی اور حکومت کو منواتی ہے اور حکومت بھی اس کو تسلیم کرتی ہے لہذا وہ چیف منسٹر سے اظہار تشکر کرتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT