Monday , November 20 2017
Home / مضامین / کمار وشواس بی جے پی کی سمت بڑھتے قدم؟

کمار وشواس بی جے پی کی سمت بڑھتے قدم؟

خلیل قادری

دہلی میں جنتر منتر سے شروع ہوئی تحریک نے دہلی کے اقتدار پر اپنے سفر کا ایک سنگ میل پورا کیا تھا ۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کو اقتدار ملنے کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ شفاف اور اصولوں پر مبنی سیاست کی بھی اس ملک میں حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل ہی عام آدمی پارٹی کو دوسری جماعتوں نے اپنے لئے خطرہ سمجھنا شروع کردیا تھا اور خاص طور پر بی جے پی لیڈر ارون جیٹلی اس کا بارہا اظہار بھی کرچکے تھے ۔ اس کے بعد عام آدمی پارٹی کو نشانہ بنانے کا عمل شروع ہوگیا تھا اور ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی اور اس کے در پردہ سرگرم رہنے والے عناصر عام آدمی پارٹی کو نشانہ بنانے کی اپنی حکمت عملی میں کامیاب ہوچکے ہیں اور انہیں اس کام میں ایک سہارا بھی مل گیا ہے ۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے پنجاب میں قدرے بہتر کامیابی حاصل کی تھی حالانکہ وہ یہاں اقتدار حاصل نہیں کرسکی تھی ۔ اقتدار پہلی ہی کوشش میں ملنا ضروری نہیں ہے اس کیلئے ایک طویل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے اور سیاسی اتھل پتھل سے بھی کوئی بھی جماعت بچی نہیں ہوتی ۔ ہر جماعت کو اس کا شکار ہونا پڑتا ہے ۔ یہ سیاسی عمل کا ہی ایک حصہ ہے ۔ ہر جماعت میں کچھ ایسے عناصر رہتے ہیں جو خود اپنی جماعت کیلئے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کو دہلی میں اقتدار ملنے ابھی چند ہی برس ہوئے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی یہاں اس جماعت کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور وہ اس جماعت کو مستقبل میں اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہے اسی لئے اس جماعت کو نشانہ بنانے کا عمل شروع ہوچکا ہے ۔ پنجاب میں اقتدار حاصل کرنے میں ناکامی اور گوا میں انتہائی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ یہ موقع بہت جلد دستیاب ہوگیا ہے اور پارٹی میں ایسے عناصر کو بھی منہ کھولنے کا موقع مل گیا ہے جو ایسے ہی موقع کے منتظر تھے ۔ حالانکہ کہا یہ جارہا تھا کہ عام آدمی پارٹی میں ناراضگیاں اندرونی طور پر چل رہی ہیں لیکن جس طرح سے حالیہ عرصہ میں پارٹی کے بانی ارکان میں شامل ڈاکٹر کمار وشواس نے حالات کا رخ بدلنے کی کوشش کی تھی وہ قابل غور ہے ۔ پارٹی سربراہ اروند کجریوال نے اگرچیکہ کمار وشواس کو ان کے گھر جا کر منالیا ہے لیکن ایسا لگتا نہیں ہے کہ وشواس اب بھی سکون سے بیٹھیں گے ۔ پارٹی میں ان کی ناراضگی کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور وہ کسی بھی وقت پارٹی میں پھوٹ کی وجہ  بن سکتے ہیں اور حالیہ عرصہ میں ان کے بیانات وغیرہ سے واضح اشارے ملتے ہیں کہ وقت کے ساتھ چلنے کی کوشش میں کمار وشواس بھی بی جے پی کی سمت قدم بڑھا رہے ہیں۔ ان کے بیانات تو کم از کم اسی جانب اشارے دیتے ہیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ کمار وشواس اروند کجریوال کے قریبی ساتھیوں میں شامل ہیں ۔ اس کے باوجود اکثر موقعوں پر انہوں نے کجریوال کی رائے سے اختلاف کیا ہے ۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر پارٹی کا موقف ہو یا پھر سرجیکل حملوں کا مسئلہ ہو ‘ حکومت کی ناکامیاں ہوں یا پھر وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقیدوں کا مسئلہ ہو ‘ ہر مسئلہ پر انہوں نے پارٹی کے موقف سے اختلاف کیا ہے ۔ کجریوال شائد کمار وشواس سے اختلافات کو ہوا دینا نہیں چاہتے تھے اسی لئے انہوں نے ان پر لگام لگانے کی کوشش نہیں کی تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہی لا پرواہی انہیں مہینگی پڑ رہی ہے ۔ کمار وشواس اب پوری دیدہ دلیری کے ساتھ تبصرے کرنے میں لگے ہیں۔ کسانوں کے ایک احتجاج کے موقع پر انہوں نے پارٹی کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے تھے ۔ انہوں نے پارٹی میں ڈسیپلن کی شکایات کا مسئلہ اٹھایا ہے لیکن خود انہوں نے اپنے اختلافات اور اپنی ناراضگی کو ظاہر کرنے کیلئے ڈسیپلن شکنی کی ہے ۔ انہوں نے یہ مسئلہ پارٹی فورم میں یا پارٹی قائدین میں نہیں اٹھایا بلکہ ایک تجربہ کار سیاسی لیڈر کی طرح انہوں نے سرعام اپنی رائے کا اظہار کیا تاکہ کسی کو اس تعلق سے شبہات نہ رہیں۔ انہوں نے لائین آف کنٹرول کے پار کئے گئے سرجیکل حملوں کے تعلق سے پارٹی لائین سے اختلاف کیا تھا ۔ مسئلہ کشمیر سے نمٹنے اور وہاں پیش آ رہے تشدد کے واقعات پر جو موقف اروند کجریوال کا یا عام آدمی پارٹی کا تھا اس سے بھی کمار وشواس نے اختلاف کیا تھا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ حالیہ عرصہ میں وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریفوں میں جٹ گئے تھے ۔ کسی بھی موقع پر انہوں نے کبھی وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا تھا ۔ یہی بی جے پی یا وزیر اعظم کے تئیں ان کی نرمی کا ایک ثبوت ہے اور یہ تاثر ملتا ہے کہ انہوں نے بی جے پی کی سمت جانے والا ایک راستہ تو محفوظ رکھا تھا ۔ کمار وشواس کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم سے اختلاف انتخابات تک محدود رہنا چاہئے اور انتخابات کے بعد وزیر اعظم سارے ملک کے وزیر اعظم ہوتے ہیں۔ یقینی طور پر ایسا ہی ہے ۔ جیسے ہی کوئی بھی شخص اس عہدہ کا حلف لیتا ہے وہ سارے ملک کا وزیر اعظم بن جاتا ہے ۔ اس ملک میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو نریندر مودی کو اپنا وزیر اعظم نہ مانے ۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ اگر وزیر اعظم کوئی غلط کام کرتے ہیں تو ان کو آئینہ دکھانے سے بھی گریز کیا جائے ۔ یہ ہندوستانی جمہوریت کا اعجاز ہی ہے کہ وہ وزیر اعظم کو بھی عوام کے سامنے جوابدہ بناتا ہے۔ جمہوری نظام کی یہی تو خوبی ہے کہ اعلی ترین عہدوں پر فائز افراد کو بھی عوام کی عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے ۔ اس لئے اگر یہ عذر پیش کیا جائے کہ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں اور ان پر تنقید نہیں کی جاسکتی تو یہ عذر قابل قبول نہیں ہوسکتا بلکہ اسے کوئی عذر بھی کہنا مناسب نہیں ہوگا ۔ یہ در اصل کمار وشواس کیلئے ایک عذر تھا کہ وہ مودی پر تنقیدوں سے بچنا چاہتے تھے ۔
عام آدمی پارٹی حالانکہ ابھی اپنے ابتدائی برسوں میں ہے اور اس کے قیام کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے ۔ اسے ابھی سے جھٹکے لگنے شروع ہوگئے ہیں اور یہ سیاسی عمل کا حصہ بھی ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ پارٹی سیاسی سمجھ بوجھ کے ساتھ کام کرے ۔ جو عناصر پارٹی میں رہتے ہوئے پارٹی کو نقصان پہونچانا چاہتے ہیں ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں حاشیہ پر لانا ضروری ہے ۔ ضروری نہیں کہ یہ کوئی ایک ہی شخص ہو بلکہ جو کوئی بھی اس تحریک کو روکنا چاہتے ہیں ان سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ سیاسی اتار چڑھاو سے فکرمند ہوئے بغیر اس جذبہ کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے جس جذبہ کے ساتھ دہلی میں جنتر منتر کے مقام سے ایک عوامی تحریک شروع ہوئی تھی ۔ یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ دہلی کے جنترمنتر سے شروع ہوئی یہ تحریک ملک بھر کے عوام میں ایک امید کی کرن کی طرح تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ جب انا ہزارے نے کرپشن کے خلاف بھوک ہڑتال کی تھی اس وقت سارے ملک کے عوام نے کرپشن کے خلاف بیزاری کا اظہار کیا تھا ۔ یہ ایک مثال ہے کہ اس ملک کے عوام کی اکثریت آج بھی پاک صاف اور شفاف سیاست کو پسند کرتی ہے اور اصولی سیاست میں یقین رکھتی ہے ۔ اس تحریک کی وجہ سے ملک کے عوام میں سیاست کی سمت توجہ دینے کا خیال آیا تھا اور سبھی گوشوں نے راست یا بالواسطہ طور پر خود کو اس تحریک سے وابستہ محسوس کیا تھا ۔ اب یہ تحریک ایک سیاسی جماعت کی شکل اختیار کر گئی ہے تو اسے اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ جماعت ‘ دوبارہ تحریک کی شکل اختیار نہ کرلے ۔ احتجاج کا راستہ تو ہمیشہ کھلا ہے لیکن سیاسی جماعت اور پھر اقتدار کے ذریعہ عوام کے خوابوں کو پورا کیا جاسکتا ہے اور سماج میں اور خود سیاسی نظام میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے ۔ یہی امید ان لاکھوں افراد کو وابستہ ہے جنہوں نے عام آدمی پارٹی کے قیام کے وقت اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا یا پھر جنترمنتر پر شروع ہوئے احتجاج سے خود کو وابستہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔ آج پارٹی میں چند افراد کے ہاتھ میں سارا اختیار ہے تو انہیں اس میں لاکھوں عوام کے جذبات کی ذمہ داری کو بھی محسوس کرنے کی ضرورت ہے ۔ حالات کو مزید قابو سے باہر ہونے سے قبل انہیں سنبھالنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ دوسروں کو پارٹی میں پھوٹ ڈالنے اور انتشار پیدا کرنے کا موقع نہ مل سکے اور عوام کی توقعات بھی ٹوٹنے نہ پائیں۔

TOPPOPULARRECENT