Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / کمرشیل ٹیکس بقایا جات کی وصولی کے لیے خصوصی مہم

کمرشیل ٹیکس بقایا جات کی وصولی کے لیے خصوصی مہم

عدم ادائیگی پر جائیدادوں کی ضبطی و ہراج ، چیف سکریٹری کے جائزہ اجلاس میں منصوبہ بندی
حیدرآباد ۔ 17 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : محکمہ کمرشیل ٹیکس 1194 کروڑ روپئے کے بقایا جات وصول کرنے کیلئے خصوصی مہم کا آغاز کررہا ہے ۔ بقایا جات ادا نہ کرنے والوں کی جائیدادیں ضبط کرنے اور ہراج کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے 500 اور 1000 کے نوٹوں کی منسوخی کا ریاست کے خزانہ پر زیادہ اثر پڑرہا ہے ۔ 2500 ہزار کروڑ روپئے آمدنی گھٹ جانے کا اندازہ لگایا گیا ہے ۔ بڑی کرنسی سے ریاست کو جو نقصان ہوا ہے ۔ اس سے ابھرنے کیلئے چیف سکریٹری راجیو شرما نے محکمہ کمرشیل ٹیکس کے اعلیٰ عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے تازہ حالات کا جائزہ لیا ہے ۔ نقصانات کی پابجائی کیلئے مختلف امور پر غور کرنے کے بعد 1194 کروڑ روپئے کے بقایا جات وصول کرنے کے لیے خصوصی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت کی دی گئی سہولت سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹیکس کی ادائیگی اور بقایا جات کی وصولی کیلئے 24 نومبر تک منسوخ شدہ 500 اور 1000 کی نوٹوں کو قبول کرنے کے فیصلے سے ایس ایم ایس کرتے ہوئے ڈیلرس کو واقف کرانے اور ساتھ ہی اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کرنے پر زور دیا ہے ۔ جملہ بقایا جات میں بند پڑے ادارہ جات اور تاجرین کے 838 کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں ان سے رابطہ پیدا کرنے اور بقایا جات وصول کرنے پر زور دیا ۔ مثبت ردعمل حاصل نہ ہونے کی صورت میں جائیدادیں ضبط کرلینے اور اس کو ہراج کرنے کی ہدایت دی ۔ ہراج میں ٹی ایس آئی آئی سی ۔ ایچ ایم ڈی اے اور ہاوزنگ بورڈ کو درخواست گذار بنانے کے اقدامات کرنے کے احکامات جاری کئے ۔ چیف سکریٹری نے ڈیویژنس سطح پر بقایا جات کا ڈپٹی کمشنرس سے جائزہ لیا ۔ کمرشیل ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے خلاف بھی تشہیری مہم چلانے کا مشورہ دیا ۔ تاجرین کے سالانہ کاروبار پر نظر رکھنے اور بقایا جات کو جلد از جلد وصول کرنے پر زور دیا ۔ کمشنر محکمہ کمرشیل ٹیکس انیل کمار نے بتایا کہ 9 تا 16 نومبر تک خصوصی مہم چلاتے ہوئے 182 کروڑ روپئے کے بقایا جات وصول کئے گئے ہیں ۔ بقایا جات کی ادائیگی کے لیے ڈیلرس کو ترغیبات بھی دی جارہی ہیں ۔ ستمبر اکٹوبر کے دوران بقایا جات وصولی کی مہم چلاتے ہوئے 3244 مقدمات درج کرتے ہوئے 44 کروڑ روپئے وصول کیے گئے ۔ اس اجلاس میں مختلف ڈیویژنس کے ڈپٹی کمشنرس کے علاوہ دوسرے عہدیدار موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT