Tuesday , July 17 2018
Home / شہر کی خبریں / کمسن بچوں میں بلڈ پریشر کی علامتیں : سروے میں انکشاف

کمسن بچوں میں بلڈ پریشر کی علامتیں : سروے میں انکشاف

بیماری سے نمٹنا وقت کی اہم ضرورت ، غذائی عادت اور جنک فوڈ اہم وجہ
حیدرآباد۔16مئی(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں اب معصوم بچوں میں بھی بلڈ پریشر کی علامات پائی جانے لگی ہیں اور بچوں میں پائی جانے والی اس بیماری سے نمٹنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے امراض قلب اور دیگر اعضائے رئیسہ سے متعلق امراض پیدا ہونے لگے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ثابت ہونے لگتے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ شہر میں کئے گئے ایک غیر سرکاری ادارے کے سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 8سے 18سال کی عمر کے بچوں میں تیزی سے ہائی بلڈ پریشر کی شکایات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ عام طور پر محسوس نہیں کیا جاتا۔ بتایاجاتاہے کہ شہر میں کئے جانے والے اس سروے کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا اور اس کی وجوہات کے متعلق مطالعہ پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ غذائی عادات اور جنگ فوڈ کے استعمال کے عادی بچوں میں یہ بیماری تیزی سے فروغ پارہی ہے۔ماہرین اطفال کا کہناہے کہ بچوں میں ہائی بلڈ پریشر والدین سے منتقل ہونے کے امکانات بہت کم ہیں لیکن بچوں کے عادات و اطوار میں تبدیلی اور غذائی تبدیلی کے علاوہ ویڈیو گیم ‘ ٹی وی ‘ موبائیل فون کے رجحان کے سبب یہ کیفیت پیدا ہونے لگی ہے۔ مطالعاتی رپورٹ کے مطابق شہر حیدرآباد میں موٹاپے کا شکاربچوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے اور جو بچے موٹاپے کا شکار ہیں وہ بنیادی طور پر ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلاء ہوتے جا رہے ہیں۔ موٹاپے کی بنیادی وجہ کھیل کود کی سرگرمیوں میں عدم دلچسپی اور جنک فوڈ قرار دی جا رہی ہے اس کے علاوہ ان بچوں کی عادات و اطوار میں آنے والی تبدیلیاں ہیںجس کے سبب وہ موٹاپے کا شکار ہوتے ہوئے ہائی بلڈ پریشر کے مریض بنتے جا رہے ہیں۔ ماہرین اطفال کا کہناہے کہ کم عمرمیں پائی بلڈ پریشر کئی مسائل کا سبب بن سکتا ہے جس میں دماغ کی شریانوں پر اثر کے علاوہ امراض قلب کی شکایات اور دیگر اعضائے رئیسہ کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی لئے والدین اور سرپرستوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کے سالانہ صحت چیک اپ کو یقینی بنانے کے اقدامات کریں تاکہ وہ خاموشی سے کسی بیماری کا شکار نہ ہونے لگیں۔ ہائی بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں سے بچوں کو بچانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ان بچوں کے مستقل چیک اپ کے ذریعہ ان کی صحت پر نگاہ رکھی جائے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری انہیں طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے اور ان کے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتے ہوئے ان کا علاج ممکن ہو۔

TOPPOPULARRECENT