Saturday , November 25 2017
Home / جرائم و حادثات / کمسن بچوں کے اغوا اور فروخت کا ریاکٹ بے نقاب

کمسن بچوں کے اغوا اور فروخت کا ریاکٹ بے نقاب

گمشدگی کی شکایات پر پولیس کی عدم دلچسپی‘ ایک لاپتہ لڑکا برآمد‘ پانچ افرا د گرفتار

محمد علیم الدین
حیدرآباد۔14ڈسمبر ۔شہر و نواحی علاقوں سے پُراسرار طور پر لاپتہ کمسن بچے کہیں فروخت  تو نہیں ہورہے ہیں ؟ چونکہ سائبرآباد پولیس کی ایک کارروائی میں حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ‘تاہم اس واقعہ نے جہاں ایک طرف بڑے ریاکٹ و سازش کی طرف اشارہ بھی کیا تو دوسری طرف پولیس کی دلچسپی اور غریب بالخصوص سلم علاقوں سے حاصل شکایتوں پر ان کی سنجیدگی کو بھی عیاں کردیا ۔ کمسن کی گمشدگی کے تقریباً ایک ماہ تک بھی پولیس نے اغوا کا مقدمہ درج نہیں کیا بلکہ گمشدگی کا ہی مقدمہ درج کرتے ہوئے اظہار لاتعلقی سے کام لے رہی تھی اور اب ایک ماہ بعد بچے کو اغوا کنندگان کے چنگل سے آزاد کروانے کے بعد پولیس اس کارروائی کو کارنامہ تصور کررہی ہے ۔ آخر پولیس کو 20تا 25دن گذرنے کے بعد کمسن ضیاء الرحمن کی گمشدگی پر اغواء کا احساس کس طرح ہوا ‘ پولیس نے کارروائی کیوں انجام دی ؟ ۔ بالآخر پولیس کوکٹ پلی نے 5 افراد کو گرفتار کرلیا تاہم ایک مفرور بتایا گیا ہے ۔ اس خصوص میں مادھا پور ڈی سی پی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران 5 افراد کو میڈیا کے روبرو پیش کیا اور کیس کی تفصیلات بتائی ۔پولیس نے 24سال پرمود کمار ‘19سالہ راما کرشنا ‘23سالہ درگا پرساد ‘32سالہ بی راجو ‘ 25سالہ جناردھن کو گرفتار کرلیا جبکہ گنیش مفرور بتایا گیا ہے ۔ ضیاء الرحمن کا 13 نومبر کے دن بورہ بنڈہ علاقہ سے اغوا ہوا تھا ‘ اس بچے کو 50ہزار روپئے میں فروخت بھی کردیا گیا تھا ‘ ان کے والد نے 14 نومبر کو پولیس میںشکایت درج کی تھی ‘ تاہم پولیس نے گمشدگی کا مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات میں مصروف تھی ‘ تب تک دو سالہ کمسن ضیاء الرحمن کے تعلق سے کسی بھی قسم کا کوئی سراغ نہیں مل پایا تھا ‘ اچانک 11ڈسمبر کو ضیاء الرحمن کے ماموں کے فون پر ایس ایم ایس آیا جس میں دو لاکھ روپئے کا مطالبہ کیا اور ضیاء الرحمن کو چھوڑنے کی شرط رکھی گئی ۔ فوری طور پر پولیس کوکٹ پلی نے 12ڈسمبر سے کارروائی کرتے ہوئے 13ڈسمبر کو بیگم پیٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب دو افراد کو گرفتار کرلیا ۔ جنہوں نے نہ صرف دو سالہ ضیاء الرحمن کا اغوا کیا تھا بلکہ اس کمسن کو 50ہزار روپئے میں فروخت بھی کردیا تھا ۔ ان دونوں سے اپنے طور پر پوچھ تاچھ کے دوران حاصل اطلاعات کی بنیاد پر پولیس نے ضلع مشرقی گوداوری ریاست آندھراپردیش کے 13افراد کو گرفتار کیا اور دو سالہ کمسن ضیاء الرحمن کو صحیح سلامت ان کے والدین کے حوالے کردیا ۔ تقریباً ایک ماہ کے بعد اپنے لخت جگر کو دیکھ کر والدین بے قابو ہوگئے اور جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ٹولی کا اصل سرغنہ پروین کمار نے مغویہ کمسن کے مامو کو فون پر یہ اطلاع دی اور اس نے یہ فون نمبر گمشدگی کی نوٹس سے حاصل کیا تھا چونکہ وہ مزید دو لاکھ روپئے ان سے حاصل کرنے کے بعد بچے کی اطلاع دے کر غائب ہونا چاہتا تھا ۔       ( سلسلہ صفحہ 7 پر )

TOPPOPULARRECENT