Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / کمسن بچوں کے خون میں سیسہ کی اضافی مقدار

کمسن بچوں کے خون میں سیسہ کی اضافی مقدار

خطرناک بیماریوں کا موجب ، ڈاکٹر این پروین کمار کی تحقیق رپورٹ
حیدرآباد۔7فروری(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں بچوں کے خون میں سیسہ کی مقدار زیادہ پائی جانے لگی ہے اور سیسہ کی مقدار میں ہونے والا اضافہ کینسر جیسی خطرناک بیماریوں کا بھی سبب بن سکتا ہے ۔ حالیہ دنوں میں ڈاکٹر جی راجو (اپولو ہاسپٹل) اور ڈاکٹر این پروین کمار (کامینینی ہاسپٹل) کی جانب سے کی گئی تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ شہر حیدرآباد میں بچوں کے خون میں سیسہ کی مقدار میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور ان میں PICA نامی بیماری کی علامات بھی ظاہر ہونے لگی ہیں جو کہ غذائیت نہ رکھنے والی اشیاء کے استعمال کے سبب ہوتی ہیں۔ تحقیق کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 68بچوں کے خون کے معائنہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کے خون میں 23مائیکرو گرامس سیسہ پایا جا رہا ہے اور PICAجو کہ فولاد کی کمی کے سبب ہونے والی بیماری ہے اس کے علامات بھی دیکھی جا رہی ہیں۔ جبکہ امریکی محکمہ صحت کے مطابق اگر 5 مائیکرو گرام سے بڑھ کر سیسہ خون میں پایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں زہریلہ مادہ جسم کے اندرونی حصوں میں فروغ حاصل کرنے لگتا ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ صرف حیدرآباد میں ہی یہ صورتحال ہے بلکہ ہندستان کے دیگر شہروں میں بھی بچوں کے خون میں سیسہ کی مقدار تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے جو کہ خطرناک ہے ۔ محققین نے بتایا کہ شہر حیدرآباد میں اس رجحان کی بنیادی وجہ غذائیت سے محروم کھانوں کے استعمال میں اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ شہر میں وہ بچے زیادہ متاثرہونے والوں میں وہ شامل ہیں جو مٹی‘ کوئلہ‘ چاک‘ پلاسٹر وغیرہ کھاتے ہیں۔ ڈاکٹرس کا کہناہے کہ بچوں کی جانب سے ان اشیاء کو استعمال کرنے کے رجحان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس مسئلہ پر فوری توجہ دیتے ہوئے ماہرین اطفال سے رجوع کرنا چاہئے۔ تحقیق کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ پٹرول پمپ ‘ گیاریج‘ بیاٹری شاپ جیسے مقامات پر ملازمت کرنے والے بچو ںمیں PICAکے علامات زیادہ پائے جاتے ہیں اور ان بچوں کا عرصۂ حیات کم ہوتا چلا جاتا ہے اسی لئے اس طرح کے مقامات پر بچوں کی ملازمت پر سختی سے پابندی عائد کی جانی چاہئے ۔تحقیق کے متعلق ڈاکٹر س کا کہناہے کہ ان کی یہ تحقیق 4مختلف عمر سے تعلق رکھنے والے بچوں پر منحصر تھی اور تحقیق کے دوران خون کا معائنہ کرتے ہوئے اس بات کا پتہ چلایاگیا کہ کس رفتار سے ان علامات میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور اس اضافہ کی وجوہات کا جائزہ لیا گیا ہے جو کہ انتہائی تشوشناک ہیں۔

TOPPOPULARRECENT