Wednesday , June 20 2018
Home / Top Stories / کمسن بچوں کے سامنے باپ کا قتل

کمسن بچوں کے سامنے باپ کا قتل

نئی دہلی ۔ 6 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) سڑک پر معمولی حادثہ نے انتہائی ابتر صورتحال اختیار کرلی جہاں 38 سالہ نوجوان کو اُس کے دو کمسن بچوں کے سامنے مبینہ طورپر زدوکوب کرتے ہوئے ہلاک کردیا گیا۔ یہ واقعہ کل رات وسطی دہلی کے ترکمان گیٹ کے قریب پیش آیا جہاں ایک شخص کی موٹر سیکل مخالف سمت سے آنے والی کار سے معمولی طورپر ٹکرا گئی تھی ۔ اس واقعہ

نئی دہلی ۔ 6 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) سڑک پر معمولی حادثہ نے انتہائی ابتر صورتحال اختیار کرلی جہاں 38 سالہ نوجوان کو اُس کے دو کمسن بچوں کے سامنے مبینہ طورپر زدوکوب کرتے ہوئے ہلاک کردیا گیا۔ یہ واقعہ کل رات وسطی دہلی کے ترکمان گیٹ کے قریب پیش آیا جہاں ایک شخص کی موٹر سیکل مخالف سمت سے آنے والی کار سے معمولی طورپر ٹکرا گئی تھی ۔ اس واقعہ کے خلاف علاقہ میں عوام نے بڑے پیمانہ پر احتجاج کیا۔ پولیس نے بتایا کہ محمد شاہنواز اپنے دو بچوں 13 سالہ فہد اور 9 سالہ کیف کے ساتھ ٹو وہیلر پر اپنے والدین سے چاندنی محل میں ملاقات کے بعد واپس ہورہا تھا کہ اُس کی گاڑی تقریباً 11 بجے شب ترکمان گیٹ کے قریب آئی 20کار سے ٹکرا گئی ۔ اس واقعہ کے بعد شاہنواز اور کار میں موجود دو افراد کے درمیان بحث ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے کار میں موجود افراد کے 3 دوست بھی اسکوٹی پر وہاں پہونچ گئے ۔ اس کے بعد لفظی بحث نے تشدد کی صورتحال اختیار کرلی جہاں پانچ افراد پر مشتمل اس گروپ نے جو سلیم پور میں شادی کی تقریب میں شرکت سے واپس ہورہے تھے ، شاہنواز کو زدوکوب شروع کردی۔ اُسے تقریباً 15 منٹ تک لوہے کی سلاخوں سے مارا گیا ۔ اس واقعہ کے بعد مقامی عوام بشمول برقعہ پوش خواتین کی کثیرتعداد سڑکوں پر نکل آئی اور پولیس کی لاپرواہی کے خلاف انھوں نے احتجاج کیا۔ وہ واقعہ کی عاجلانہ تحقیقات اور تمام ملزمین کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے تھے۔ مقامی عوام نے آج دن بھر بھی احتجاجی مظاہرہ جاری رکھا۔ شاہنواز کی ماں نورجہاں نے بتایا کہ دو کمسن بچے حملہ آوروں سے بار بار التجا کررہے تھے کہ اُن کے والد کو چھوڑ دیا جائے ، یہاں تک کہ راستہ چلنے والوں نے بھی اس معاملہ میںمداخلت کی لیکن حملہ آوروں نے ایک نہ سنی ۔ بڑے لڑکے فہد نے سڑک کے اُس کنارے موجود پولیس پوسٹ پر دوڑکر مدد طلب کی لیکن کوئی بھی بچانے کیلئے نہیں آیا۔ بعد ازاں دونوں لڑکے ہمارے گھر آئے اور ہم ارکان خاندان کے ساتھ یہاں پہونچ کر شاہنواز کو ہاسپٹل لے گئے ۔ ڈاکٹرس نے بتایا کہ اُسے مردہ حالت میں یہاں لایا گیا ہے۔ شاہنواز کے رشتہ داروں نے کہاکہ تمام پانچ حملہ آور مقامی پراپرٹی ڈیلرس اور غیرسماجی عناصر ہیں۔ بعد ازاں پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا جس کی محمد وسیم کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے ۔ مابقی 4 افراد کی تلاش جاری ہے ۔ دہلی پولیس کمشنر بی ایس بسی نے بتایا کہ یہ معاملہ سڑک پر ہوئی جھڑپ کا ہے لیکن شخصی مخاصمت کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ پولیس کے خلاف مقامی افراد کے الزامات کا بھی جائزہ لیا جائیگا ۔

TOPPOPULARRECENT