Tuesday , August 14 2018
Home / Top Stories / کمسن لڑکیوں کی عصمت ریزی پر سزائے موت ، آرڈیننس منظور

کمسن لڑکیوں کی عصمت ریزی پر سزائے موت ، آرڈیننس منظور

آرڈیننس کے بعد سزائے موت کے مطالبہ پر نظرثانی کی اپیل پر دہلی ویمنس کمیشن کی سربراہ سواتی کی بھوک ہڑتال کا آج اختتام

نئی دہلی۔ 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی کابینہ نے 12 سال سے کم عمر بچیوں کی عصمت ریزی میں ملوث مجرمین کو سزائے موت دینے کیلئے آج ایک آرڈیننس کو منظوری دے دی جس کے ساتھ ہی عدالتوں کو اب اس قسم کے جرائم کے مرتکب مجرمین کو سزائے موت دینے کی اجازت حاصل ہوگئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ فوجداری قانونی ترمیمی آرڈیننس میں ہندوستانی تعزیری ضابطہ (آئی پی سی)، قانونی ثبوت فوجداری ضابطہ قانون (سی آر پی سی) اور بچوں کو جنسی جرائم سے بچانے سے متعلق قانون (پوسکو) میں ترمیم کے ذریعہ اس قسم کے جرائم کے مرتکب مجرمین کو سزائے موت دینے نئی دفعات کے نفاذ پر زور دیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ، اترپردیش میں ضلع اُناؤ اور گجرات کے سورت میں حالیہ عرصہ کے دوران کمسن لڑکیوں کی مبینہ عصمت ریزی اور قتل کے بدبختانہ واقعات کے تناظر میں یہ قدم اٹھایا گیا۔ یو پی ضلع اناؤ میں 17 سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کے واقعہ پر ملک بھر میں برہمی کی لہر دیکھی گئی تھی۔ یہ آرڈیننس اب صدرجمہوریہ سے ان کی منظوری کے لئے رجوع کیا جائے گا۔ موجودہ پوسکو قانون میں مجرمین کو عمر قید کی سزا مقرر ہے۔

اگرچہ 2012ء کے نربھئے کیس کے بعد مرکز نے عصمت ریزی کے بعد متاثرہ کی موت یا معذوری کی صورت میں مجرم کو سزائے موت دینے کی گنجائش فراہم کی ہے، لیکن حال ہی میں چار ریاستوں نے قانون سازی کے ذریعہ کمسن لڑکیوں کی عصمت ریزی پر سزائے موت مقرر کی ہے۔ مرکز نے جمعہ کو سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ قانون پوسکو میں ترمیم کی تجویز ہے تاکہ 12 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی عصمت ریزی کے مجرمین کے لئے سزائے موت مقرر کی جاسکے۔ اس قانون کے تحت عصمت ریزی کے واقعات ان تحقیقات اندرون تین ماہ تکمیل لازمی ہوگی۔ خصوصی عدالتوں کو بھی مقررہ مدت میں سماعت مکمل کرنی ہوگی۔ علاوہ ازیں موثر سائنسی تحقیقات کے لئے خصوصی فارنسک لیباریٹریز قائم کی جائیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں آج منعقدہ کابینی اجلاس میں یہ آرڈیننس منظور کیا گیا۔ اس آرڈیننس نے کسی عورت کی عصمت ریزی پر سزا کو 7 سال کے بجائے 10 سال قید بامشقت مقرر کیا ہے جس میں عمر قید تک بھی توسیع کی جاسکتی ہے۔ 16 سال سے کم عمر کی لڑکی کی عصمت ریزی پر اقل ترین سزا 10 سال سے بڑھاکر 20 سال کردی گئی ہے جو عمر قید یا تاحیات بھی کی جاسکتی ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ مجرم کی موت تک اسے سلاخوں کے پیچھے رہنا ہوگا۔ اس دوران جہدکاروں کے ایک گروپ نے دہلی ویمنس کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال سے اپیل کی کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کردیں اور کمسنوں کی عصمت ریزی پر سزائے موت دینے کے اپنے مطالبہ پر نظرثانی کریں اور کہا کہ پیش کرنے کیلئے ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ سزائے موت سے اس پر روک لگ جائے گی اور یہ مانع کا کام کرے گی۔ گزشتہ 9 روز سے بھوک ہڑتال کرنے والی سواتی کو ایک کھلے خط میں ان کارکنوں نے کہا کہ کمسنوں کی عصمت ریزی میں سزائے موت دینے کے ان کے مطالبہ سے وہ بہت تکلیف میں پڑگئی ہیں اور کہا کہ انہیں ایک دستوری ادارہ کی سربراہ کی حیثیت سے یہ ضروری ہے کہ وہ سزائے موت کے خلاف ویمنس موومنٹ کی نمائندوں کی اُصولی مخالفت کو سمجھیں۔

 

کمسن لڑکیوں کی عصمت ریزی پر سزائے موت ، آرڈیننس منظور

الیکشن کے پیش نظر آرڈیننس لاگو ، نربھئے کے والد کا ردعمل
نئی دہلی ، 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) نربھئے کے والد نے آج الزام عائد کیا کہ مرکزی کابینہ کے 12 سال سے کم عمر لڑکیوں کی عصمت دری کے مجرمین کو سزائے موت دینے سے متعلق آرڈیننس کے نفاذ کو منظوری دینے میں کوئی ’’منطق‘‘ نہیں ہے اور یہ فیصلہ 2019ء لوک سبھا چناؤ کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ وہ شخص نے جس کی بیٹی کا 16 ڈسمبر 2012ء کی رات ساؤتھ دہلی کے پڑوسی علاقے میں چلتی بس میں چھ وحشیوں نے ریپ کیا اور اس قدر شدید زدوکوب بھی کیا کہ اُس کی جان چلی گئی، کہا کہ نابالغوں اور بالغوں کی عصمت دری کے درمیان کوئی امتیاز نہیں برتنا چاہئے۔ انھوں نے نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو بتایا کہ ریپ آخر ریپ ہے، چاہے وہ نابالغ کا کیا جائے یا بالغ کی عصمت تار تار کی جائے۔ کیوں آرڈیننس میں 12 سال سے کم عمر کی تخصیص کی گئی ہے۔ ریپ کے مرتکب تمام مجرمین کو عمرقید یا موت کی سزا دینا چاہئے۔

 

TOPPOPULARRECENT