Tuesday , June 19 2018
Home / اداریہ / کمل ہاسن کی سیاسی جماعت

کمل ہاسن کی سیاسی جماعت

میں باشعور ہوں مجھے تم مشورہ نہ دو
میں جی رہا ہوں دوستو! اپنے حساب سے
کمل ہاسن کی سیاسی جماعت
ٹاملناڈو میں ایک اور سیاسی جماعت قائم ہوگئی ہے ۔ اداکار سے سیاستدان بننے والے کمل ہاسن نے اپنی نئی سیاسی جماعت مکل نیدھی مئیم کا قیام عمل میںلایا ہے اور جنہوں نے جن نظریات کا اعلان کیا ہے وہ خوش آئند کہے جاسکتے ہیں۔ ہندوستان کی سیاست ان دنوں انتہاء درجہ کی فرقہ پرستی ‘ فاشسٹ طاقتوں کے عروج اور کرپشن کے فروغ سے متاثر ہے ۔ ملک کی تقریبا ہر ریاست میں فرقہ پرستی کا زہر گھولا جا رہا ہے ۔ بے قصور افراد کو محض شبہات کی بنیاد پر قتل کیا جا رہا ہے ۔ نفرت پھیلائی جا رہی ہے ۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ان نفرت پھیلانے والوں کو ویڈیو تیار کرکے وائرل کرنے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس ملک میں گائے مقدس ہوگئی ہے اور انسان کا خون ارزاں کردیا گیا ہے ۔ کوئی اصول پسندی اور اخلاقیات سیاست میں باقی نہیں رہ گئی ہے ۔ سیاسی جماعتیں جو جمہوری عمل کی وجہ سے اقتدار اور عروج حاصل کرتی ہیں وہی اسی جمہوریت کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہیں۔ انتخابات میں دولت اور طاقت کا استعمال لازمی جز بن گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوںکو ہزاروں کروڑ روپئے کے عطیات موصول ہو رہے ہیں۔ ان کا کوئی باقاعدہ حساب کتاب عوام کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا ۔ ملک کے ہزاروں کروڑ روپئے لوٹے جا رہے ہیں اور لوٹنے والے پوری آزادی کے ساتھ بیرونی ممالک کو فرار ہو رہے ہیں۔ بحیثیت مجموعی ہندوستان کی سیاست ایک انتہائی نچلی سطح پر پہونچ گئی ہے ۔ جہاں سیاسی جماعتوں کیلئے اقتدار کا حصول ہی اصل مقصد بن گیا ہے اور اصول پسندی اور اخلاقیات وغیرہ کہیں پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی اخلاقیات اور کسی طرح کے ذات پات یا مذہبی بھید بھاؤ سے بلند ہوکر سیاست کرنے کا اعلان کرتا ہے تو اسے خوش آئند ہی کہا جاسکتا ہے ۔ ویسے تو ملک کی تقریبا سیاسی جماعتیں اور تقریبا ہر سیاسی لیڈر عروج حاصل کرنے کے بعد اخلاقیات اور اصول پسندی کی عوامی گوشوں میں دہائی دیتا ہے لیکن خود ان کی جانب سے اس درس پر عمل نہیں ہوتا اور وہی اخلاقیات اور اصولوں کی دھجیاں اڑانے سے گریز نہیں کرتے اور قانون سے کھلواڑ کرنے لگتے ہیں۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس کے نتیجہ میں ہندوستانی جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی ہو رہی ہیں۔
ٹاملناڈو ریاست جنوبی ہند کی ایک اہم ریاست ہے ۔ یہاں اس کا اپنا ایک منفرد انداز کا کلچر ہے اور یہاں کی مخصوص روایات رہی ہیں۔ ٹاملناڈو کی سیاست میں ہمیشہ تبدیلی کا چلن رہا ہے ۔ ہر مرتبہ انتخابات میں حکومت بدلی جاتی رہی ہے تاہم گذشتہ مرتبہ اس سے استثنی رہا اور ایک طویل عرصہ کے بعد انا ڈی ایم کے اپنا اقتدار برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے ۔گذشتہ دنوں ریاست میں سوپر اسٹار رجنی کانت نے اپنی سیاسی جماعت قائم کرنے کا اعلان کردیا تھا اور اب کمل ہاسن بھی انتخابی میدان میں کود گئے ہیں۔ عوام میں کافی مقبولیت رکھنے والے ان دونوںا سٹارس کے انتخابی میدان میں کودنے سے ریاست کی سیاست میں اتھل پتھل کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ دو قومی جماعتیں بی جے پی اور کانگریس بھی ریاست میں اپنا وجود رکھتی ہیں لیکن وہ ریاست کی دو علاقائی جماعتوں سے اتحاد کے ذریعہ ہی اپنے وجود کا احساس دلا سکی ہیں۔ ایسے میں اب مزید دو علاقائی جماعتوں کے قیام سے ریاست کی سیاست میں نیا موڑ آسکتا ہے ۔ جہاں تک کمل ہاسن کی بات ہے وہ اخلاقیات اور اصول پسندی کی بات کر رہے ہیں اور ذات پات کے بھید بھاؤ اور مذہبی امتیاز کو بالائے طاق رکھنے کا دعوی کر رہے ہیں۔ اگر وہ واقعی ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو پھر ان کا سیاست میں داخلہ خوش آئند ہی کہا جاسکتا ہے ۔ مصلحتوں سے بالاتر ہوتے ہوئے بنیادی اصولوں کی سیاست ہی آج ہندوستان کی ضرورت ہے اور کسی بھی گوشے سے اس طرح کی سیاست کو فروغ حاصل ہوتا ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے ۔
کمل ہاسن نے سیاسی زندگی میں کرپشن کے خاتمہ کے عزم کے ساتھ میدان میں اترنے والے اروند کجریوال کی موجودگی میں اپنی جماعت کے قیام کا اعلان کیا ہے ۔ اروند کجریوال نے بھی سیاست کا رخ بدلنے کی کوشش کی تھی اور دہلی کا اقتدار حاصل کیا تھا ۔ انہیں اپنے کام کاج میں جس طرح کی مداخلتیں برداشت کرنی پڑ رہی ہیں اور جتنی مشکلیں وہ جھیل رہے ہیں وہ اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے نظام میں بدعنوانیاں اور انتقامی جذبہ کس حد تک گھل گیا ہے ۔ ٹاملناڈو قدرے مختلف روایات کی حامل ریاست ہے اور رجنی کانت ہوں یا کمل ہاسن ہوں یہ دونوں ان روایات سے پوری طرح سے واقف ہیں۔ ریاست کے عوام کیلئے اب ایک بہتر متبادل کو تلاش کرنا اور دوسروں کو موقع دینا نا ممکن نہیں رہ گیا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کمل ہاسن اپنے عہد کو کس حد تک پاس و لحاظ رکھتے ہیں ۔ اگر وہ واقعی ایسا کرتے ہیں تو یہ انتہائی خوش آئند امر ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT