Thursday , December 13 2018

کم جائیدادوں کے باوجود آندھرا پردیش وقف بورڈ مالی طورپر مستحکم

آندھرا پردیش کے ڈپازٹس 40کروڑ جبکہ تلنگانہ کے صرف 8کروڑ، تلنگانہ میں زائد ادارے لیکن آمدنی کم

آندھرا پردیش کے ڈپازٹس 40کروڑ جبکہ تلنگانہ کے صرف 8کروڑ، تلنگانہ میں زائد ادارے لیکن آمدنی کم
حیدرآباد۔ /19فبروری ، ( سیاست نیوز) ریاستی وقف بورڈ کی تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں تقسیم کا عمل مرکزی وزارت اقلیتی اُمور سے رجوع ہوچکا ہے تاہم اس مسئلہ کا جائزہ لینے کیلئے مرکزی عہدیداروں کی ٹیم کی آمد کے موقع پر کئی دلچسپ انکشافات سامنے آئے۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں علحدہ وقف بورڈز کی تشکیل کے بعد آمدنی اور بجٹ کے اعتبار سے آندھرا پردیش وقف بورڈ کافی مستحکم ہوجائے گا جبکہ تلنگانہ وقف بورڈ کی حالت کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ آندھرا پردیش میں اوقافی جائیدادوں کی تعداد تلنگانہ سے کم ہے لیکن اس کے باوجود اسکی آمدنی تلنگانہ سے کہیں زیادہ ہے جبکہ تلنگانہ وقف بورڈ زائد جائیدادوں کے باوجود آمدنی میں اضافہ سے قاصر ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق موجودہ وقف بورڈ میں آندھرا پردیش کی جائیدادوں سے متعلق آمدنی کے طور پر 40کروڑ روپئے بطور ڈپازٹ موجود ہیں جبکہ تلنگانہ وقف بورڈ کے ڈپازٹس صرف 8کروڑ کے ہیں۔ 3کروڑ روپئے دونوں ریاستوں کے مشترکہ کرنٹ اکاؤنٹ میں موجود ہیں جس کی تقسیم مسلم آبادی کی بنیاد پر کی جائے گی۔ تلنگانہ کو 55.15فیصد اور آندھرا پردیش کو 44.85 فیصد کی رقم حاصل ہوگی۔ تلنگانہ کے عہدیداروں نے اس بات کی کوشش کی کہ کرنٹ اکاؤنٹ میں موجود رقم کا زائد حصہ انہیں الاٹ کیا جائے تاہم آندھرا پردیش کے حکام نے اس پر اعتراض کیا۔ اجلاس میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق پہلے وقف سروے میں آندھرا پردیش میں اوقافی اداروں کی تعداد 4600 ریکارڈ کی گئی جبکہ دوسرے سروے میں مزید 10769 اوقافی اداروں کا احاطہ کیا گیا۔ اس طرح آندھرا پردیش میں اوقافی اداروں کی جملہ تعداد 15369 ہے۔ تلنگانہ میں پہلے سروے میں 33929 اوقافی اداروں کی نشاندہی کی گئی جبکہ دوسرے سروے میں مزید 15193 اداروں کا سروے کیا گیا۔ اس طرح تلنگانہ میں جملہ اوقافی ادارے 49122 ہیں۔ پہلے سروے میں دونوں ریاستوں میں 38529 اداروں کی نشاندہی کی گئی تھی جبکہ دوسرے سروے میں 25962 اداروں کا احاطہ کیا گیا۔ اس طرح دونوں ریاستوں میں اوقافی اداروں کی جملہ تعداد 64491 ہے۔ وقف بورڈ کی تقسیم کے سلسلہ میں مرکزی وزارت اقلیتی اُمور کے عہدیداروں کو جو تفصیلات فراہم کی گئیں ان میں دونوں ریاستوں میں پہلے اور دوسرے سروے کے تحت درگاہوں، قبرستان، مساجد، چھلہ، تکیہ اور دیگر اداروں کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید بل 2014کے تحت وقف بورڈ شیڈول 10 میں شامل اداروں کے تحت ہے اور اس کی تقسیم کیلئے مرکزی حکومت کی منظوری درکار ہے۔ اندرون ایک ہفتہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے سکریٹریز کی جانب سے مرکزی وزارت اقلیتی اُمور کو تقسیم سے متعلق تجاویز روانہ کی جائیں گی جس کا جائزہ لینے کے بعد مرکز اعلامیہ جاری کرے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ تقسیم سے قبل دونوں ریاستوں کے اعتراضات کی پھر ایک بار سماعت کی جائے گی اور بہر صورت جون سے قبل وقف بورڈ کی تقسیم کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ اوقافی اداروں اور ان کی آمدنی، ملازمین کی تعداد اور عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کی تفصیلات بھی مرکزی ٹیم کے حوالے کی گئی ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT