Friday , July 20 2018
Home / Top Stories / کم جونگ کے خفیہ دورۂ چین کی توثیق، ژی جن پنگ سے بات چیت

کم جونگ کے خفیہ دورۂ چین کی توثیق، ژی جن پنگ سے بات چیت

٭ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات سے قبل دورۂ چین اہمیت کا حامل
٭ ژی جن پنگ سے کوریائی جزیرہ نما کو نیوکلیئر سے پاک کرنے کا وعدہ
٭ جس ٹرین سے کم جونگ کے والد نے سفر کیا تھا، اُسی ٹرین سے آمد اور واپسی

بیجنگ۔ 28 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شمالی کوریا کے قائد کم جونگ اُن نے اپنے چینی ہم منصب ژی جن پنگ سے بات کرتے ہوئے ایک ایسا وعدہ کیا جس پر شاید کوئی دوسرا ملک خصوصی طور پر امریکہ ہرگز اعتبار نہ کرے گا۔ کم جونگ نے کہا کہ وہ نیوکلیئر توانائی سے پاک ملک بننے اپنے وعدہ کے پابند ہیں۔ یاد رہے کہ کم جونگ کی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے تاریخی ملاقات ہونے والی ہے اور اس سے قبل انہوںنے چین کا خفیہ دورہ کیا ہے۔ دو روز تک عالمی سطح پر میڈیا تجسس کا شکار تھا اور پرنٹ میڈیا کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا اور سوشیل میڈیا پر بھی کم جونگ کے خفیہ دورۂ چین سے متعلق قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔ دو روز کے تجسس کے بعد چین اور شمالی کوریا نے بالآحر نے یہ تصدیق کردی کہ کم جونگ چین کے دورہ پر آئے ہیں۔ جہاں انہوں نے ژی جن پنگ سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے مستحکم تعلقات کی ضرورت پر زور دیا۔ اس طرح اب عالمی سطح پر پائی جانے والی تشویش کا خاتمہ ہوگیا کیونکہ جاپانی میڈیا نے ایک سبز رنگ کی ٹرین کی نشاندہی کی تھی جو بالکل ویسی ہی تھی جو کم جونگ کے والد استعمال کیا کرتے تھے۔ پیر کے روز یہ ٹرین بیجنگ آئی اور منگل کو روانہ ہوگئی، حالانکہ ابتداء میں چینی عہدیداروں نے کم جونگ کی آمد کی تردید کی تھی لیکن سکیورٹی جب بہت سخت کردی جائے تو ہر آدمی شبہ کرنے لگتا ہے کہ آخر بات کیا ہے۔ چین اور شمالی کوریا کی سرحد پر سخت سکیورٹی، ایک ایسا گیٹ ہاؤس جس میں ماضی میں شمالی کوریا کے اعلیٰ سطحی عہدیداروں نے قیام کیا تھا، پر بھی سخت سکیورٹی سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ کم جونگ چین آئے ہیں۔ اپنے دورہ کے دوران کم جونگ نے گریٹ ہال آف دی پیوپل میں چینی صدر ژی جنگ پنگ سے بات چیت کی جہاں دونوں قائدین نے دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے خوشگوار تعلقات کی ستائش کی۔ کم جونگ نے تو یہ تک کہہ دیا کہ وہ کوریائی جزیرہ نما کونیوکلیئر سے پاک کرنے اپنے وعدہ کے پابند ہیں۔ ژنیہوا خبر رساں ایجنسی نے یہ بات بتائی۔ کم جونگ اور ان کی اہلیہ کے اعزاز میں ژی جنگ پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لیان نے زبردست ضیافت کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر چینی فنکاروں نے بھی ایک دلچسپ پروگرام پیش کیا جسے کم جونگ اور ان کی اہلیہ ری سول جو نے بے حد پسند کیا۔ اس موقع پر ژی جن پنگ نے کہا کہ کم جونگ کا دورہ ایک ایسے وقت ہورہا ہے جو بہت ہی خصوصیت کا حامل ہے۔ ژنہوا خبر رساں ایجنسی نے مزید کہا کہ صدر چین جن پنگ نے شمالی کوریا کے ساتھ حکمت عملی کے تعلقات کو بالکل صحیح اور مناسب قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ ’’موجودہ حالات‘‘ کے تحت وہ کم جونگ سے وقتاً فوقتاً رابطہ قائم کرتے رہیں گے

جبکہ کم جونگ نے کہا کہ جنوبی کوریا کے ساتھ بھی ہم اپنے تعلقات کو مصالحتی اور تعاون سے بھرپور بنانا چاہتے ہیں جبکہ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ نہ صرف امریکہ بلکہ جنوبی کوریائی صدر مون جے اِن کے ساتھ ملاقات کے بھی وہ (کم جونگ) بے حد منتظر ہیں۔ کم جونگ نے کہا کہ کوریائی جزیرہ نما کو نیوکلیئر توانائی سے پاک بنایا جاسکتا ہے بشرطیکہ جنوبی کوریا اور امریکہ ہماری کوششوں کا خیرسگالی سے جواب دیں۔ امن اور استحکام کا سازگار ماحول پیدا کرے تاکہ قیام امن کو حقیقی روپ دیا جاسکے۔ کم جونگ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں چین میں کئی خوشگوار واقعات ایک ساتھ رونما ہوئے ہیں جن میں ژی جنگ پنگ کا صدارتی عہدہ پر دوبارہ فائز ہونا بھی شامل ہے۔ چین اور شمالی کوریا کے درمیان جس نوعیت کے دوستانہ تعلقات ہیں، اس کے پس منظر میں یہ میرا (کم جونگ) فرض تھا کہ میں شخصی طور پر ژی جن پنگ کو دوسری بار چین کا صدر بننے پر مبارکباد دیتا اور یہی سب سے اہم وجہ تھی کہ میں یہاں چلا آیا، یہ بات بھی اچھی رہی کہ میرا سب سے پہلا بیرونی دورہ چین سے شروع ہوا۔ سب جانتے ہیں کہ میں بیرونی دورے نہیں کرتا۔ کم جونگ نے کہا کہ کوریائی جزیرہ نما میں کئی اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، لہذا ایک دوسرے سے کامریڈشپ (بھائی بھائی) کا رشتہ ہونے پر میں نے یہ اپنا فرض سمجھا کہ شخصی طور پر چین پہنچ کر ان تبدیلیوں کے بارے میں جن پنگ کو تمام تفصیلات بتاؤں۔ ایسی بات بھی نہیں ہے کہ چین اور شمالی کوریا کے تعلقات میں کبھی کشیدگی پیدا نہ ہوئی ہو۔ جب سے کم جونگ نے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کی حیثیت سے اپنی دمہ داریاں سنبھالی ہیں، چین کی جانب سے متعدد بار انتباہ دینے کے باوجود شمالی کوریا نے اپنے نیوکلیئر پروگرام کو جاری رکھا جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان عارضی طور پر ہی سہی کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT