Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / کم داخلے پر سرکاری اسکولس بند نہ کریں

کم داخلے پر سرکاری اسکولس بند نہ کریں

قومی تعلیمی پالیسی مسودہ منسوخ کرنے کا مطالبہ

حیدرآباد ۔ 8 اکٹوبر (سیاست نیوز) کل ہند تعلیم بچاؤ کمیٹی نے قومی تعلیمی پالیسی 2016ء دستاویز کے مسودہ میں کئی غلطیوں اور نقائص کی نشاندہی کی ہے اور کہا ہیکہ حکومت ملک کو تعلیمی میدن میں درپیش حقیقی مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کمپنی نے پالیسی دستاویز کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی کے صدر اور سابق ڈین عثمانیہ یونیورسٹی پی ایل ویشویشور راؤ اور سکریٹری ایس گویند راجولو نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی دستاویز کا مسودہ تیار کرنے کیلئے ملک کے ممتاز ماہرین تعلیم پر مشتمل ایک نئی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ مسودہ پالیسی مسودہ میں نقائص اور تضادات کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر راؤ نے کہا کہ صرف غیر رسمی تعلیمی طریقہ ہی رسمی تعلیمی نظام کا متبادل ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کیلئے تعلیمی اداروں کو مزید سرکاری فنڈس فراہم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ داخلے کم ہونے کی صورت میں سرکاری اسکولس بند کرنے کی تجویز سے دستبرداری اختیار کی جائے۔ انگلش تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروفیسر راؤ نے کہاکہ دو لسانی فارمولہ کی  حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے جس کے ذریعہ انگلش کو مادری زبان مقامی زبان یا علاقائی زبان کے مساوی ا ہمیت دی جاتی ہے۔ پروفیسر راؤ نے کہا کہ مسودہ تعلیمی پالیسی عصری تعلیم کے مقصد اور سائنٹفک سیکولر اور جمہوری تعلیم کے جذبہ کے خلاف ہے۔
تاریخ کی درسی کتب کو میتھیالوجی سے خلط ملط کیا جارہا ہے اور ہندوستان کے ماضی کو مسخ کرکے پیش کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیم کو مذہبی اثرورسوخ سے آزاد رکھنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT