Saturday , November 18 2017
Home / آپ کے سوال / کم سن لڑکے کا جھوٹ بولنا

کم سن لڑکے کا جھوٹ بولنا

سوال :  میرا لڑکا ایک دینی مدرسہ میں زیر تعلیم ہے ۔ اللہ کے فضل و کرم سے 15 پارے ہوچکے ہیں۔ اس کی عمر 10  سال ہے ۔ وہ اکثر جھوٹ بولتا ہے۔ باتیں بنادیتا ہے ، نماز سے غفلت کرتا ہے ، میں اکثر اسے ڈانٹتی ہوں ، سمجھاتی ہوں پھر بھی وہ جھوٹ سے باز نہیں آتا۔ نماز کی پابندی نہیں کرتا۔کبھی کبھی بغیر اطلاع کے میرے پرس سے پیسے لے لیتا ہے اور پوچھنے پر انکار کردیتا ہے، اس لئے مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں اس کے گناہ کی وجہ سے وہ عذاب میں گرفتار تو نہیں ہوجائے گا اور اس کا حفظ پایہ تکمیل کو پہنچے گا یا نہیں ۔ براہ کرم اس سلسلہ میں میری رہنمائی فرمائیں ؟
ناضرہ بیگم ،پھسل بنڈہ
جواب :  شریعت کے احکام کی فرضیت اور اس کا وجوب مکلف پر ہے اور ’’ مکلف‘‘ شریعت میں ، مسلمان عاقل و بالغ مرد و عورت کو کہا جاتا ہے۔ ردالمحتار جلد 1 ص : 245 کتاب الصلوۃ میں ہے : المکلف ھوالمسلم البالغ العاقل و لوانثی او عبدا ۔ بالغ ہونے سے قبل انسان مکلف نہیں اور اس پر شرعی احکامات فرض نہیں ، اس لئے اگر اس سے نمازیں فوت ہوجائیں یا وہ جھوٹ ، چوری وغیرہ برے اعمال کا مرتکب ہوجائے تو اس کا مواخذہ نہیں ہوگا ۔بلوغ سے قبل نماز ترک کرنا اور برے و مذموم اعمال جیسے جھوٹ بولنا ، چوری کرنا ، باتیں بنانا، ماں باپ کی بات نہ سننا ، موجب عذاب نہیں ، البتہ والدین کو یہ حکم دیا گیا کہ نابالغ بچوں کو نماز و روزہ رکھنے کے لئے سات برس کی عمر کے بعد زبان سے کہیں اور دس سال کی عمر کے بعد ہاتھ سے ماریں اور یہ حکم اس لئے دیاگ یا ہے کہ بچے اچھے کاموں کے عادی ہوجائیں اور برے کاموں سے بچنے لگیں۔
پس آپ نرمی ، شفقت سے اپنے لڑکے کو نماز کی ترغیب دیں اور ترک کرنے پر زجر و توبیخ کریں اور اس کے بعض نا پسندیدہ اعمال کی وجہ کبیدہ خاطر اور مایوس نہ ہوں ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعاء بھی کرتے رہئیے اور صبر و تحمل سے بچے کی تربیت کرتے رہئیے اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اولاد کو سیدھے راستہ پر رکھنا، ان کی صحیح تربیت کرنا ہی ماں کا جہاد ہے۔

انشورنس کمپنی میں ملازمت کرنا
سوال :  ہندوستان میں بیمہ کمپنی یا کوئی غیر مسلم ادارہ ہر تین ماہ یا ایک سال میں مدت معینہ تک ہر رکن سے رقم جمع کر کے ، ختم مدت پر جمع شدہ رقم سے زائد رقم وہ ادارہ دیتا ہے ۔ کیا کوئی مسلمان اس ادارہ کا رکن یا ایجنٹ بن سکتا ہے ؟
عرفان خان، مہدی پٹنم
جواب :  شرعاً غیر مسلم ممالک میں غیر مسلم ادارہ جات میں اگر کوئی مسلمان رقم جمع کرائے اور وہ ادارہ جمع کردہ رقم سے زائد رقم واپس کرے تو شرعاً یہ زیادتی ربا (سود) نہیں ہے اسلئے مسلمان اس ادارہ میں شریک ہوسکتے ہیں اور ایجنٹ بھی بن سکتے ہیں ۔ ہدایہ میں حدیث پاک ’’ لاربو… ولا بین المسلم والحربی فی دارالحرب ‘‘ کے تحت ہے۔ لان مالھم مباح فی دارھم فبای طریق أخذ المسلم أخذ مالا مباحاً اذا لم یکن فیہ غدر۔ نیز یہاں غیر مسلم سے بیع فاسد بھی جائز ہے۔ فتاوی عالمگیری جلد 3 ص : 131 میں ہے : واذا تبایعا بیعا فاسدا فی دارالحرب فھو جائز۔
پس صورت مسئول عنہا میں شرعاً مسلمان ان اداروں میں حسب صراحت بالا رقم جمع کروا کے ادارہ زائد رقم دے تو لے سکتے ہیں اور ایجنٹ بھی کمیشن لے سکتا ہے ۔ فتاوی عالمگیری جلد 4 ص : 441 میں ہے ۔ و اذا أخذ السمسار أجر مثلہ ھل یطیب لہ ذلک تکلموا فیہ قال الشیخ الامام المعروف بخواھر زادہ یطیب لہ ذلک۔

چالاک ظالم شخص سے چھٹکارہ پانے کی دعا
سوال :  مجھ سے 7 سال پہلے ایک غلطی ہوگئی تھی اور میں ان لوگوں سے اس کی بہت معافی مانگا تھا ۔شریعت کے اعتبار سے میری غلطی کو نظرانداز کیا جاسکتا تھا لیکن ایک بہت ہی جھوٹا ، مکار ، ہوشیار اور ظالم شخص نے مجھے بہت زیادہ جسمانی و دماغی تکلیف دیا ۔ اب تک دماغی تکلیف دے رہا ۔ میرے بارے میں لوگوں سے بہت برا بولتا ہے جس سے میرے دل و دماغ پر بہت تکلیف ہوتی ہے ۔ براہ کرم ایسی کوئی دعا یا وظیفہ ہو تو بیان فرمائیں جس کے پڑھنے سے وہ آدمی میرے بارے میں بولناچھوڑ دے اور ایسے آدمی کے لئے شریعت میں کیا حکم ہے بیان فرمائیں۔
نام ندارد
جواب :  آپ طبرانی میں مروی یہ دعاء کا ورد جاری رکھیں انشاء اللہ تعالیٰ آپ اپنے دشمنوں کی بد خواہی اور ایذار سانی سے محفوظ رہیں گے۔
اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ کُنْ لِیْ جَاراً مِن شَرِّ فُلَانٍ وَ شَرِّ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ أتْبَاعِھِمْ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیَّ اَحَد مِّنْھُمْ  اَوْ اَنْ یَّطْغٰی عَزَّ جَارُکَ وَ جَلَّ ثَنَائُ کَ وَلاَ اِلٰہَ غَیْرُکَ ‘‘۔
اے ساتوں آسمانوں کے پالنہار اور عرش عظیم کے پروردگار ! تو میرے لئے فلاں شخص کے شر اور جنات اور انسان اور ان کے متبعین کے شر سے پناہ دینے والا ہوجا کہ ان میں سے کوئی مجھ پر زیادتی کرے یا سرکشی کرے۔ تیری پناہ میں آنے والا غالب ہے، تیری تعریف بزرگ ہے ، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
نوٹ : دعا میں فلان کی جگہ اپنے دشمن یا جو بھی تکلیف پہنچا رہا ہو اس کا نام لیں۔
اور احادیث میں یہ دعاء بھی وارد ہوئی ہے۔
’’ اللھم انی اعوذ بک من شماتۃ الاعداء وکید الکائدین و شر الاشرار وایذاء المؤذین ۔
(اے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں دشمنوں کی خوشی سے اورمکر کرنے والوں کے مکر سے اور شرپسندوں کے شر سے اور تکلیف دینے والوں کی تکلیف سے)۔
ایسا شخص جو لوگوں کو ذہنی یا جسمانی اذیت دیتاہے وہ ظالم ہے اللہ سبحانہ و تعالی کے پاس اور مسلمانوں کے پاس مذموم ہے۔ اس کو اپنے اس عمل سے توبہ کرنی چاہئے۔

ولیمہ میں عقیقہ
سوال :  میں اپنے بچے کا عقیقہ حالات کے اعتبار سے کر نہ سکا۔ اب بچے کی عمر 27 سال ہے اور دو مہینے میں اس کی شادی مقرر ہے۔ ایسے میں اپنے بچے کا عقیقہ کس طرح کروں۔ ولیمہ میں عقیقہ Adjust کرسکتے ہیں؟
ایم اے قریشی، جہاں نما
جواب :  احناف کے پاس عقیقہ کرنا مستحب ہے اور عقیقہ کا مستحب وقت ولادت کا ساتواں دن ہے ۔ اگر کسی وجہ سے عقیقہ نہ کرسکیں تو کوئی گناہ نہیں، اس کی وجہ شادی ولیمہ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ البتہ اگر آپ اپنے لڑکے کا عقیقہ کرنا ہی چاہتے ہیں اور اس کے گوشت کو دعوت ولیمہ میں استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ازروئے شرع کوئی حرج نہیں۔

جنین کو اگر مرض لاحق ہو توحمل کو ساقط کرنا
سوال :  چند ماہ قبل ایک واقعہ پیش آیا کہ ایک جوڑا حمل کو ساقط کرنے کے لئے عدالت سے رجوع ہوا ۔ ڈاکٹرس کی رپورٹ کے مطابق مادر شکم میں موجود جان کو نازک بیماری کا خطرہ ہے لیکن ممبئی کی عدالت نے 6 ماہ کے حمل کو ساقط کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دی۔ اس سلسلہ میں شرعی نقطہ نظر دریافت کرنا مقصود ہے کہ شرعی لحاظ سے اسقاط حمل کا حکم کیا ہے اور اگر ماں کے پیٹ میں بچہ کو کوئی مرض لاحق ہو تو ایسی صورت میں اسقاط حمل کی شرعاً اجازت ہے یا نہیں ؟
سید حیدر علی، مراد نگر
جواب :   تمام ائمہ اور فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ جنین میں روح پھونکنے کے بعد اسقاط حمل کرناقطعی حرام ہے کیونکہ جب حمل میں زندگی پیدا ہوگئی تو اس زندہ وجود کو زندگی سے محروم کرنا گویا اس کوقتل کرنا ہے اور یہ نص قطعی کے خلاف ہے ۔
’’ ولا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق نحن نرزقھم وایاکم ان قتلھم کان خطأ کبیرا ‘‘ (سورہ الاسراء : 31 )
(تم اپنی اولاد کو تنگدستی کے خوف و اندیشہ سے قتل مت کرو ہم ہی ان کو اور تم کو رزق دیتے ہیں۔یقیناً ان کو قتل کرنا بڑا گناہ ہے)۔ علماء کے نزدیک جنین میں روح پھونکے جانے کی مدت میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک 40 دن میں روح پھونکی جاتی ہے اور بعض کے نزدیک  42 اور بعض کے نزدیک 45 دن میں روح پھونکی جاتی ہے لیکن جمہور علماء 120 دن یعنی چار مہینہ کے قائل ہیں۔ اس سلسلہ میں جمہور نے سورۃ المومنون کی ابتدائی آیات سے استشھاد کیا ۔ ’’ ثم جعلناہ نطفۃ فی قرار مکین ۔ ثم خلقنا النطفۃ علقۃ فخلقنا العلقۃ مضغۃ فخلقنا المضغۃ عظاماً فکسونا العظام لحماً ثم انشاناہ خلقاً آخرفتبارک اللہ احسن الخالقین‘‘ (سورۃ المومنون : 13 ، 14 )
(پھر ہم نے اس کو ایک محفوظ مقام میں پانی کی بوند بناکر رکھا پھر ہم نے نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنادیا ۔ پھر ہم نے اس لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا بنادیا ۔ پھر ہم نے اس گوشت کے ٹکڑے سے ہڈیاں بنادی پھر ان ہڈیوں کو گوشت پہنادیا ۔پھر (روح پھونک کر) ہم نے اسے دوسری مخلوق بنادی۔ پس اللہ تعالیٰ بڑا برکت والا ہے جو سب سے بہترین بنانے والا ہے)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مادر رحم میں جنین کے تین ادوار کوبیان فرمایا (1) نطفہ کا مرحلہ (2) علقہ (خون کے لوتھڑے) کا مرحلہ (3) مضغہ (گوشت کے ٹکڑے کا) مرحلہ ۔ اس کے بعد جنین میں روح پھونکی جاتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین مراحل میں سے ہر مرحلہ کی مدت چالیس دن قرار دی ہے۔ ’’ ان احد کم یجمع خلقہ فی بطن امہ اربعین یوماً نطفۃ ثم یکون علقۃ مثل ذلک ثم یکون مضغۃ مثل ذلک ثم یرحل الیہ الملک فینفخ فیہ الروح‘‘ (بخاری ، بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ) (یقیناً تم سے ہرایک اپنے شکم مادر میں چالیس دن نطفہ ، چالیس دن علقہ ، اور چالیس دن مضغہ رہتا ہے پھر ایک فرشتہ آتا ہے اور اس میں روح پھونکتا ہے)
جمہور حنفیہ کے نزدیک بلا عذر روح پھونکے جانے سے پہلے بھی اسقاط حمل جائز نہیں۔ علامہ ابن عابد شامی رد المحتار ج : 5 ص : 519 میں فرماتے ہیں ’’ ولا یخفی انھا تأثم اثم القتل لو استبان خلقہ و مات بفعلھا ‘‘۔
(یہ بات پوشیدہ نہیں کہ آثار خلقت ظاہر ہونے کے بعد جنین ، عورت کے کسی عمل کی وجہ سے مرجائے تو اس کو قتل کرنے کا گناہ ہوگا)
بناء بریں جنین میں روح پھونکے جانے کے بعد حمل کو ساقط کرنا اگرچہ جنین میں کسی مرض یا بیماری کے اندیشہ کی وجہ سے ہو شرعاً ناجائز و حرام ہے۔
عالمگیری ج : 5 ، ص : 26 میں ہے ۔ ’’ واذا اعترض الولد فی بطن الحامل ولم یجدوا سبیلاً لاستخراج الولد الا بقطع الولد اربا اربا ولو لم یفعلوا ذلک یخاف علی الامام قالوا ان کان الولد میتاً فی البطن لاباس بہ وان کان حیاً لم نرجواز قطع الولد اربا اربا کذا فی فتاوی قاضی خان ‘‘ ۔
پس دریافت شدہ مسئلہ میں سوال میں صراحت کردہ جوڑے کو چھ ماہ کے جنین کو بیماری کے لاحق ہونے کی وجہ سے اسقاط حمل کی شرعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT