Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / کم عمری میں قرآن پاک حفظ کر کے میری بیٹی نے زندگی کی سب سے بڑی تمنا پوری کردی

کم عمری میں قرآن پاک حفظ کر کے میری بیٹی نے زندگی کی سب سے بڑی تمنا پوری کردی

11 سال سے کم عمر میں حافظہ بننے والی ثوبیہ کے والد کا خیال ، حافظ عبید الرحمن بھی اپنی 12 سالہ بیٹی کے حافظہ بننے پر خوشی سے سرشار

11 سال سے کم عمر میں حافظہ بننے والی ثوبیہ کے والد کا خیال ، حافظ عبید الرحمن بھی اپنی 12 سالہ بیٹی کے حافظہ بننے پر خوشی سے سرشار
حیدرآباد ۔ 6 ۔ جون : میری یہ دلی خواہش تھی کہ ہمارے گھر میں کم از کم ایک فرد حافظ قرآن ضرور رہے اور اس خواہش کی اللہ تعالیٰ نے تکمیل کردی ہے ۔ جس کے لیے بارگاہ رب العزت میں جتنا شکر کیا جائے کم ہے ۔ خوشی تو اس بات کی ہے کہ میری دو بیٹیوں میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ نے 11 سال سے بھی کم عمر میں قرآن مجید حفظ کرنے کا اعزاز بخشا ہے اور اس غیر معمولی اعزاز پر ہمارا سارا خاندان بہت خوش ہے ۔ اپنی بیٹی کے اس کم عمر میں حافظہ بننے پر ہم اپنے آپ کو دنیا کے خوش نصیب والدین تصور کرتے ہیں ۔ ویسے بھی ہمیں دنیا پر دین کو ترجیح دینی چاہئے ۔ ان ایمان افروز خیالات کا اظہار کمسن حافظہ ثوبیہ فاطمہ کے خوش نصیب والد محمد انصار احمد نے راقم الحروف سے بات چیت کے دوران کیا ۔ کپڑوں کا کاروبار کرنے والے محمد انصار احمد نے جو 6 بچوں ( 4 لڑکیوں اور 2 لڑکوں ) کے باپ ہیں نے بتایا کہ ان کے مرحوم والد محمد بشیر احمد کی بھی خواہش تھی کہ خاندان کا کوئی نہ کوئی بچہ یا بچی قرآن پاک حفظ کرے ۔ اللہ کے فضل و کرم اور حضور اکرم ﷺ کے صدقہ میں میری ایک لڑکی ثوبیہ فاطمہ نے 11 سال سے بھی کم عمر میں قرآن پاک حفظ کیا ۔ اور بڑی لڑکی نے 24 پارے حفظ کرلیے ہیں اور بہت جلد وہ بھی حافظ بن جائے گی ۔ ثوبیہ فاطمہ کی والدہ سیدہ زہرہ بتول کے مطابق ان کی بیٹی کو بہت ہی کم عمر سے ہی قرآن مجید کی تلاوت سننے کا بہت شوق ہے ۔ اسی شوق کے باعث ہم نے کلیہ طیبہ ( طیبہ کانسپٹ ہائی اسکول ) میں داخلہ دلوایا ۔ حافظ و قاری محمد ذبیح اللہ نقشبندی اس اسکول کے کرسپانڈنٹ ہیں ۔ انہوں نے اور باجی عظمیٰ بیگم نے ثوبیہ فاطمہ کے شوق اور جستجو کو دیکھتے ہوئے اس پر خصوصی توجہ مرکوز کی ۔ نورانی قاعدہ ، ناظرہ قرآن کے بعد حفظ قرآن شروع کیا گیا اور پھر وہ مبارک گھڑی بھی آگئی جب ثوبیہ کو تکمیل حفظ قرآن پر سند عطا کی گئی ۔ سیدہ زہرہ بتول کے مطابق وہ کرایہ کے گھر میں مقیم ہیں انکا بڑا لڑکا انجینئرنگ سال اول میں زیر تعلیم ہے جب کہ چھوٹا بیٹا تیسری جماعت میں پڑھ رہا ہے ۔ معصوم ثوبیہ نے بتایا کہ وہ عالمہ کورس کرنا چاہتی ہے ۔ اس کے حافظہ بننے پر ماں باپ ، بھائی بہن اور نانی و دیگر رشتہ داروں کی خوشیوں کو دیکھ کر اسے بھی بہت مسرت ہوتی ہے ۔ اس لڑکی نے اپنے دادا محمد بشیر احمد مرحوم اور نانا سید الطاف الرحمن کے حق میں دعا بھی کی ۔ ثوبیہ فاطمہ نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ ان ہی کی عمر کی ایک اور لڑکی نے بھی کلیتہ طیبہ سے حفظ قرآن پاک کی تکمیل کی ہے ۔ چنانچہ ہم نے اس بارہ سالہ خوش نصیب حافظہ ام سلمیٰ کے والد حافظ عبید الرحمن سے بات کی وہ گلبل گوڑہ ہائی اسکول میں اسکول اسسٹنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ام سلمیٰ کے نانا حافظ شیخ احمد محی الدین بانی مدرسہ نعمانیہ اور دادا محمد جہانگیر کامل جامعہ نظامیہ موظف محکمہ تعلیمات ہیں ۔ ام سلمیٰ نے ایک دینی ماحول میں آنکھیں کھولیں ۔ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ 12 سال سے بھی کم عمر میں ان کی بیٹی نے حفظ قرآن مجید مکمل کرلیا جس کے لیے وہ کلیہ طبیہ کے کرسپانڈنٹ حافظ و قاری سید ذبیح اللہ اور دیگر اساتذہ سے اظہار تشکر کرتے ہیں ۔ حافظ عبید الرحمن نے مزید بتایا کہ ان کی لڑکی گھر میں تین گھنٹے اور مدرسہ میں 6 گھنٹے پڑھا کرتی تھی ۔ بہر حال ، ان دو کمسن لڑکیوں نے جس شوق اور جذبہ کے ساتھ قرآن مجید حفظ کیا ہے وہ نہ صرف دوسرے لڑکے لڑکیوں بلکہ بڑی عمر کے ان مرد و خواتین کے لیے بھی ایک مثال ہے ۔ جنہوں نے قرآن نہیں پڑھی ہے ایسے لوگوں کے لیے اب بھی موقع ہے کہ وہ قرآن پڑھنا سیکھ لیں ۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ’ جس شخص کے قلب میں قرآن شریف کا کوئی حصہ بھی محفوظ نہیں وہ ویران ہے ‘ ۔ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو قلب کلام پاک سے خالی ہوتا ہے وہاں برائیاں جمع ہوجاتی ہیں ۔ شیاطین کا اس پر تسلط ہوتا ہے ۔ قرآن حفظ کرنے والوں کے لیے کئی خوش خبریاں ہیں ۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ جس شخص نے قرآن پڑھا پھر اس کو حفظ کیا اور اس کے حلال کو حلال جانا اور حرام کو حرام ، حق تعالیٰ شانہ اس کو جنت میں داخل کرے گا اور اس کے گھرانے میں ایسے دس آدمیوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول فرمائیں گے جن کے لیے جہنم واجب ہوچکی ہے ۔ حافظ قرآن کی فضیلت کے بارے میں حضور اکرمؐ کا ارشاد مبارک ہے ’قیامت کے ہولناک وحشت ناک دن میں جو لوگ اللہ کے سائے کے نیچے رہیں گے ان میں انبیاء اور برگزیدہ بندوں کے ساتھ حفاظ بھی رہیں گے ۔ ‘ ان احادیث مبارکہ سے حفاظ کی فضیلت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ قرآن مجید حفظ کرنے والے لڑکے لڑکیاں ماشاء اللہ بہت ذہین ہوتے ہیں کیوں کہ قرآن مجید کی 6666 آیات کا حفظ کرنا بہت بڑی بات ہے ۔ حال ہی میں راقم الحروف کی ایک نو مسلم ماہر تعلیم خاتون سے ملاقات ہوئی ۔ ان کے ہمراہ ایک مسلم صاحب بھی تھے ۔ بچوں کی ذہانت کا ذکر چل پڑا ۔ تب ان صاحب نے بتایا کہ مدرسہ میں پڑھنے والے بچے زیادہ ذہین نہیں ہوتے جس پر اس ہندو خاتون نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ حافظ بچے بچیاں بہت ذہین ہوتے ہیں اور قرآن شریف کا حفظ کرنا بہت بڑی بات ہے ۔ غیر مسلم خاتون کی اس بات پر ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوئی کیوں کہ انہوں نے سچ ہی کہا تھا ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT