Monday , November 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / کم کھانے، کم سونے اور کم بولنے کے فوائد

کم کھانے، کم سونے اور کم بولنے کے فوائد

کھانے پینے کے سلسلے میں یہ اصول یاد رکھنا چاہئے کہ ’’جب بھوک لگے تب کھائیں۔ ایک تہائی معدہ غدا سے بھریں، ایک تہائی پانی سے اور ایک تہائی خالی رکھیں۔ غذا خوب چباکر کھائیں۔ چوپایوں کی طرح نہ کھائیں۔ پانی تین حصوں میں پئیں، درمیان میں دو وقفہ کرکے سانس لیں۔ کھانے اور پینے کے شروع میں بسم اللہ ضرور کہیں۔ اگر کوئی شخص بسم اللہ کہنا بھول جاتا تھا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ہاتھ پکڑ لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ پہلے بسم اللہ کہو۔ کھانے پینے کے بعد اللہ تعالی کا شکر ضرور ادا کریں اور یہ دعا پڑھیں: الحمد للّٰہ الذی اطعمنی وسقانی وجعلنی من المسلمین‘‘۔
دوسرا مجاہدہ کم سونا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اور ہم نے نیند کو آسودگی یعنی تھکن دور کرنے کا ذریعہ بنایا ہے‘‘ (سورۂ نباء۔۹) عام طورپر لوگ سمجھتے ہیں کہ پوری رات آرام اور آسودگی کے لئے ہیں، نہیں ایسا نہیں ہے۔ خوب یاد رکھئے کہ اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق رات کے ایک حصہ میں آسودگی حاصل کرنا ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ چوبیس (۲۴) گھنٹوں میں سات گھنٹے سونا صحت کے لئے ضروری ہے، لیکن ان کی یہ بات درست نہیں۔ پانچ گھنٹے کی نیند بھی آسودگی کے لئے کافی ہے۔ خود یاد رکھئے کہ کام کرنے سے آدمی بڑھتا ہے، گھٹتا نہیں ہے۔ ہمیشہ یہ سوچیں کہ میں زیادہ سے زیادہ کتنا کام کرسکتا ہوں، یہ ہرگز نہ سوچیں کہ میں کم سے کم کتنا کام کروں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ ہم نے تم کو بیکار، فضول اور فالتو پیدا کیا ہے؟‘‘ (سورۃ المؤمنون۔۱۱۵) یقیناً ہمیں کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے، لہذا کام کرنا ہمارا اولین فرض ہے اور کام مقصد تخلیق بھی ہے۔ آسودگی اس لئے ضروری ہے کہ وہ بھی کام کا ایک حصہ ہے۔

چار ساڑھے چار گھنٹے رات کو سونا اور دن میں آدھا گھنٹہ کا قیلولہ، آسودگی حاصل کرنے اور تھکن دور کرنے کے لئے کافی ہے، اس سے زیادہ نیند سستی اور کاہلی پیدا کرتی ہے۔ اکابرین کا طریقہ بہت صحیح تھا، ان حضرات نے رات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ پہلا حصہ مطالعہ یا درس و تدریس کے لئے، دوسرا حصہ سونے اور آرام کرنے کے لئے اور رات کا تیسرا و آخری حصہ عبادت اور ذکر وغیرہ کے لئے، یعنی پہلا حصہ مخلوق کا حق ہے، دوسرا حصہ نفس کا حق ہے اور تیسرا حصہ اللہ تعالی کا حق ہے۔ سبحان اللہ! کیسی پیاری تقسیم ہے، اپنی راتوں کو اس طرح تقسیم کرکے دیکھئے، زندگی کتنی حسین اور خوشگوار ہوتی ہے۔
صبح صادق کے بعد سونا مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے۔ صبح صادق سے ڈیڑھ دو گھنٹہ پہلے بیدار ہو جانا چاہئے، سحر خیزی اسی کا نام ہے۔ غرض ایک تہائی رات سے زیادہ سونا مناسب نہیں۔ آخر شب یعنی رات کے تیسرے حصہ کی بیداری سونا Gold ہے، جس میں بڑے بڑے جسمانی اور روحانی فائدے ہیں۔ اللہ تعالی نے اس وقت میں بڑی برکت رکھی ہے، جسمانی برکت، روحانی برکت، عمر میں برکت، رزق میں برکت، دنیا کی برکت، دین کی برکت، یعنی ہر چیز میں اس سے برکت ہی برکت ہے۔ بزرگوں نے اس سلسلے میں بکری اور کتے کی مثال پیش کی ہے کہ دیکھو بکری رات کو سوتی ہے اور سحر کے وقت جاگ جاتی ہے، اس لئے اللہ تعالی نے اس کے گوشت میں صحت و برکت رکھی ہے۔ نسل میں اتنی برکت ہے کہ بکثرت گوشت کھایا جاتا ہے، پھر بھی اس کی نسل ختم نہیں ہوتی۔ یہ ساری برکتیں سحر خیزی کی وجہ سے ہیں۔ اس کے برخلاف کتے کو دیکھو، رات بھر جاگے گا، لیکن صبح کو سو جائے گا۔ کتیا ہر جھول میں سات آٹھ پلے جنتی ہے، کچھ محلے والے مار دیتے ہیں، کچھ بلدیہ والے مار دیتے ہیں اور کچھ سڑکوں پر مر جاتے ہیں۔ کتے کی قسمت میں اللہ تعالی نے دھتکار لکھ دی ہے، جہاں جاتا ہے دھکارا جاتا ہے۔ ذلیل و خوار ہوکر مارا مارا پھرتا رہتا ہے، کہیں عزت نصیب نہیں ہوتی۔ یہ ساری بے برکتی اور ذلت و خواری صبح کو سو جانے کی وجہ سے ہے۔

اسی طرح تیسرا مجاہدہ تقلیل کلام یعنی کم بولنا ہے۔ متقدمین صوفیہ کرام میں ہمیں ہر معاملے میں جو شدت نظر آتی ہے، اس میں ان کے ذوق و شوق، شغف و انہماک اور وقت کے حالات و کیفیات کے علاوہ خود ان کے اپنے مزاج کا بھی بڑا دخل رہا ہے۔ اس مجاہدہ میں بھی کم کھانے اور کم سونے کی طرح بڑی سختی نظر آتی ہے۔ بعض بزرگوں نے تو اس میں اتنی شدت اختیار فرمائی کہ وہ بالکل خاموش ہو گئے تھے، بات ہی نہ کرتے تھے اور اگر کرتے بھی تو اشاروں میں۔ ظاہر ہے اسے شدت ہی کہا جاسکتا ہے، لیکن اعتدال کی راہ خود اس کے نام میں موجود ہے، یعنی ’’کم گفتن‘‘ (تقلیل کلام یا کم بولنا) یقیناً اس کے معنی بالکل خاموش ہوجانے کے نہیں ہیں، اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ باتیں کم کی جائیں، لیکن عام طورپر اس سے لوگوں نے یہی سمجھ لیا ہے کہ بات بالکل نہ کی جائے۔ یہ مفہوم نہ ضرورت کے تقاضے کے مطابق ہے اور نہ اسلامی تعلیم کے تقاضے کے مطابق۔
بالکل خاموش ہو جانے اور زیادہ بولنے کے درمیان اعتدال کی راہ تقلیل کلام یعنی کم بولنا ہی ہے اور اس سے مراد زبان کی حفاظت کرنا ہے، جیسا کہ ایک حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: ’’معاذ! کیا میں تمھیں ہر نیکی جڑ بتادوں؟‘‘۔ یہ کہہ کر آپﷺ نے اپنی زبان پکڑلی اور فرمایا: ’’اس کی حفاظت کرو‘‘۔ نیز آپﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ ’’جو خاموش رہا اس نے نجات پائی‘‘۔ کیونکہ زیادہ بولنے والا اکثر جھوٹ، غیبت وغیرہ میں ملوث ہو جاتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’تم مجھے دو چیزوں کی ضمانت دو تو میں تمھیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں، ایک زبان اور دوسری شرمگاہ‘‘۔ دراصل یہی دو چیزیں ہیں، جو آدمی کو دوزخ میں پہنچانے کا اکثر سبب بنتی ہیں۔ یہی دو چیزیں بے شمار گناہوں اور معصیتوں کا سبب بنتی ہیں۔ اکل حرام، فحش گوئی، جھوٹ، غیبت، وعدہ خلافی، بہتان تراشی، طعنہ زنی، برے القاب سے کسی کو یاد کرنا، جھوٹی گواہی، جھوٹی قسمیں، کفر و الحاد، غرض گناہوں اور معصیتوں کی ایک طویل فہرست ہے، جن کا ارتکاب انسان منہ سے کرتا ہے۔ اگر اس کی حفاظت نہ کی جائے اور اس پر کوئی قدغن نہ لگائی جائے تو اس کی وجہ سے انسان دوزخ میں پہنچ جاتا ہے۔

زبان سے جو کچھ نکلتا ہے، اس کے بارے میں عام طورپر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ وہ ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ آج سائنس نے بھی یہ ثابت کردیا ہے کہ انسان کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ محفوظ رہتا ہے۔ مذہب نے بھی یہی بتایا ہے کہ زبان سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ کو فرشتے لکھ رہے ہیں، اس کا مکمل ریکارڈ رجسٹر میں موجود ہے، جو آخرت میں پیش کردیا جائے گا اور جس کا جواب دینا ہوگا، اس لئے زبان کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔ (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT