Saturday , July 21 2018
Home / Mera Column /    کنور مہندر سنگھ بیدی سحر (1992-1928)

   کنور مہندر سنگھ بیدی سحر (1992-1928)

میرا کالم مجتبیٰ حسین
میری نظرمیں بزرگ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک قسم کے بزرگ وہ جن کی بزرگی پر ترس آتا ہے اور دوسری قسم کے بزرگ وہ جن کی بزرگی پر پیار آتا ہے۔ اگرچہ پیار اور ترمم دونوں ایک ہی وسیع جذبے کے ذیلی جذبے ہیں لیکن پیار چاہے بزرگ پر آئے یا دوشیزہ پر ، پیار، پیار ہی ہوتا ہے ۔ کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کا شمار مؤخر الذکر بزرگوں میں ہوتاہے جن کے بڑھاپے پر ان دنوں شباب آیا ہوا ہے۔ ایک ایسا شباب جس کا تھوڑا سا حصہ بھی ہمیں پندرہ بیس برس پہلے مل جاتا تو ہم بھی وہ سب کچھ کر گزرتے جو آدمی کو کرنا چاہئے ۔ بزرگوں کی اکثریت ایسی ہوتی ہے جنہیں دیکھ کر آدمی عبرت پکڑتا ہے لیکن بعض خوش نصیب بزرگ ایسے بھی ہوتے ہیںجنہیں دیکھ کر آدمی عبرت کے سوائے ہر چیز کو پکڑ لیتا ہے ۔ جیسے تین سال پہلے ایک دن میں نے کنور صاحب کو دیکھ کر اپنا کلیجہ پکڑلیا تھا ۔ یہ اُس دن کی بات ہے جب دہلی میں ہر دن کی طرح بجلی فیل ہوگئی تھی ۔ مجھے اور کنور صاحب کو دہلی کی ایک پچیس منزلہ عمارت کی ساتویں منزل پر پہنچنا تھا اور لفٹ بند تھی ۔ کام چونکہ میرا تھا اسی لئے میں نے کنور صاحب سے کہا ’’میرا کام اتنا ضروری نہیں ہے کہ آپ ساتویں منزل تک چڑھ کر جائیں اور پھر آپ کی عمر بھی تو 74 برس کی ہوچکی ہے‘‘۔ میرے اس جملے کو سنتے ہی اُن کے بڑھاے پر شباب آگیا اور وہ بڑی تیزی کے ساتھ سیڑھیاں چڑھنے لگے ۔ میں انہیں منع کرتا رہا ۔ سمجھاتا رہا کہ میں نے یہ جملہ اس لئے نہیں کیا کہ وہ 74 برس کے ہوگئے ہیں بلکہ اس لئے کہا ہے کہ میں 48 برس کا ہوچکا ہوں۔ مسئلہ میرے ضعف کا ہے اُن کے ضعف کا نہیں مگر وہ نہ مانے اور سیڑھیاں چڑھتے چلے گئے بلکہ اکثر موقعوں پر تو دو دو سیڑھیاں ایک ہی قدم میں پھلانگ ڈالیں ۔ میں اُن کے پیچھے ہانپتا کانپتا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ میرے روکنے کا کوئی اثر ان پر نہیں ہوا ۔ بالآخر اس سفر میں ایک نوبت وہ بھی آئی جب وہ مجھ سے دو منزل آگے ہوگئے ۔ ان کے قدموں کی چاپ تو سنائی دے رہی تھی مگر وہ خود دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔ میں گرتا پڑتا ساتویں منزل پر پہنچا جہاں ہمیں ایک شخص سے ملنا تھا ۔ میں نے اپنی اُکھڑی اُکھڑی سانسوں کو بڑی مشکل سے یکجا کر کے ان صاحب سے پوچھا کہ کہیں کنور صاحب اِدھرآ تو نہیں گئے۔
وہ بولے ’’کنور صاحب تو نہیں آئے ۔ البتہ میں نے ابھی کچھ دیر پہلے سیڑھیوں پر ایک سردار جی کی جھلک دیکھی ہے جو بڑی تیزی سے اوپر جارہے تھے‘‘۔
میں نے کہا ’’وہی تو کنور صاحب تھے جو آپ سے ملنے کیلئے اس عمارت میں آئے ہیں‘‘۔
’’تو پھر وہ اُوپر کیوں چلے گئے ؟ ‘‘ اُن صاحب نے حیرت سے پوچھا۔
میں نے کہا ’’کچھ نہیں ذرا جوش جوانی میں اوپر تک چلے گئے ہیں۔ ابھی آجائیں گے‘‘۔ کچھ دیر بعد کنور صاحب نیچے آگئے ۔ پتہ چلا کہ میرے جملے نے انہیں اتنا مشتعل کیا کہ تیرہ منزلوں تک چڑھتے چلے گئے ۔ تیرہویں منزل پر اشتعال کچھ کم ہوا تو انہیں احساس ہوا کہ انہیں تو ساتویں منزل پر ہی رُکنا تھا ۔
مجھ سے کہا ’’تم کیسے جوان ہو۔ سات منزلیں تک نہیں چڑھ سکتے۔ کیا ابھی سے تم پر بڑھاپا آگیا ہے ۔مجھے دیکھو کہ 74 برس کا ہوچکا ہوں مگر آج بھی یہ حال ہے کہ ساتویں منزل پرکوئی کام ہو تو تیرہ منزل تک چڑھ جاتا ہوں‘‘۔
میں نے اپنی ہار مانتے ہوئے معذرت کی اور اپنی صفائی میں ایک دانا کا قول انہیں سنایا کہ ’’بیس برس کی عمر کا گدھا ، ساٹھ برس کے آدمی سے کہیں زیادہ بوڑھا ہوتا ہے کیونکہ بڑھاپے کا تعلق کسی مخلوق کی عمر سے نہیں ، اس کے قویٰ سے ہوتا ہے‘‘۔ کنور صاحب اس قول سے ایسے ہی محظوظ ہوئے جیسے کہ ایک سچے سکھ کو ہونا چاہئے ۔ یہ واقعہ تین برس پہلے کا ہے مگر مجھے یقین ہے کہ اگر آج بھی انہیں کسی عمارت کی ساتویں منزل پر جانا ہو اور لفٹ بند ہو اور کوئی اُن کے بڑھاپے کو للکارے تو وہ کم از کم بارہویں منزل تک ضرور چڑھ جائیں گے اور ہم جیسے نچلی منزل پر ہی کھڑے رہ جائیں گے ۔
اُن کی اس اعلیٰ و ارفع صحت کا راز نہ جانے کیا ہے ۔ سنا ہے کہ نوجوانی میں بہت کسرت کرتے تھے ۔ خالص چیزیں کھاتے تھے ۔ ہر قسم کی کشتیاں لڑتے تھے اور ہر قسم کا شکار کھیلتے تھے۔ میں نے کبھی اُن کی صحت کا راز جانے کی کوشش نہیں کی کیونکہ کچھ ایسے راز ہوتے ہیں جنہیں اگر آپ جان بھی لیں تو اُن سے استفادہ نہیں کرسکتے۔ آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہوگا کہ ایک شخص کی عمر سو برس کی ہوگئی تو کسی نے پوچھا ’’قبلہ ! آپ نے یہ جو طویل عمر پائی ہے ۔ اس کا راز کیا ہے ؟ ‘‘
بزرگ بولے ’’میری طویل عمر کا راز صرف اتنا ہے کہ جب تک میں تیرہ برس کا نہیں ہوگیا تب تک میں نے عورت اور شراب کو ہاتھ نہیں لگایا ‘‘۔ اب آپ ہی بتایئے اس طرح کے راز کا آپ کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ادھر دس بارہ برسوں سے کنور صاحب نے اپنی داڑھی کو خضاب سے پاک کیا ہے ، ورنہ آج بھی یہ خضاب لگانا شروع کردیں تو ہم جیسوں سے نوجوان نظر آنے لگیں۔ البتہ آواز ایسی پرشباب ، پاٹ دار اور رعب و دبدبہ والی پائی ہے کہ لگتا ہے گلے میں خضاب لگا رکھا ہے۔
یادشِ بخیر کنور صاحب کو میں نے سب سے پہلے 1967 ء میں حیدرآباد میں دیکھا تھا ۔ حیدرآباد میں ہم لوگوں نے مزاح نگاروں کی ایک کانفرنس منعقد کی تھی اور میں اس کانفرنس کا جنرل سکریٹری تھا ۔ کانفرنس کے تین اجلاس تھے ۔ پہلا اجلاس لطیفہ گوئی کا تھا جس کی صدارت کنور صاحب کو کرنی تھی ۔ دوسرا اجلاس مزاحیہ مضامین کا تھا جس کی صدارت آنجہانی راجندر سنگھ بیدی کو کرنی تھی اور تیسرا ا جلاس مزاحیہ مشاعرہ سے متعلق تھا جس کی صدارت آنجہانی وی شنکر نے کی تھی ۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان دنوں کنور صاحب کسی بڑے عہدے پر فائز تھے یا نہیں۔ کچھ عہدیدار ایسے ہوتے ہیں جو بڑے عہدہ پر فائز نہیںرہتے بلکہ عہدہ اُن پر فائز رہتا ہے ۔ ہر دم ا پنی عہدیداری کو حاضر و ناظر جانتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ کنور صاحب بھی اس طرح کے عہدیداروں ہوں گے مگر جب حیدرآباد آئے تو یوں لگا جیسے ہم میں سے ہی ایک ہیں۔ مزاح نگاروں کی اس کانفرنس کی کامیابی کی لوگوں نے پہلے ہی سے پیشن گوئی کردی تھی کیونکہ اس میں دو سکھ ادیب حصہ لے رہے تھے ۔ بلکہ راجندر سنگھ بیدی نے تو حیدرآباد ایرپورٹ پر اُترتے ہی مجھ سے کہہ دیا تھا ’’میاں ! مزاح نگاروں کی کانفرنس  کی کامیابی کیلئے ایک ہی سردار کافی تھا ۔ تم نے دو دو سردار اور وہ بھی بیدی سردار بلالیے۔ سونے پر سہاگہ اسی کو کہتے ہیں‘‘۔ سچ تو یہ ہے کہ حیدرآباد میں مزاح نگاروں کا یہ سب سے کامیاب اجتماع تھا۔ لطیفہ گوئی کی محفل کی صدارت چونکہ کنور صاحب کر رہے تھے اسی لئے میں نے تمام لطیفہ کو حضرات سے کہہ دیا تھا کہ وہ سرداروں والے لطیفے ہرگز نہ سنائیں۔ اس پر بعض لطیفہ گو حضرات نے محفل لطیفہ گوئی میں شرکت سے معذرت کرلی کہ واہ صاحب یہ کیا بات ہوئی کہ محفل لطیفہ گوئی کی ہو اور اس میں سرداروں کا ذ کر نہ ہو۔ خیر صاحب لطیفہ گوئی کی محفل ہوئی مگر میرے منع کرنے کے باوجود اس میں سرداروں کے لطیفے خوب سنائے گئے ۔ تاہم اس صورتحال کیلئے میں ہی ذمہ دار تھا کیونکہ غیر سرداروں کو تو میں نے سرداروں کے لطیفے سنانے سے منع کیا تھا لیکن خود سرداروں سے یہ التجا نہ کی تھی کہ وہ اپنے بارے میں لطیفے سنانے سے گریز کریں۔ مجھے اب تک وہ محفل یاد ہے اور اس کے قہقہے اب تک میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔ کنور صاحب سے میرے مراسم کا یہ نقطۂ آغاز تھا ۔ اس دن سے آج تک زندہ دلان حیدراباد کو اُن کی سرپرستی اور شخصی طور پر مجھے اُن کی شفقت حاصل رہی ہے ۔ مجھے یاد ہیکہ 1969 ء میں ایک ملازمت کے انٹرویو کے سلسلے میں ، میں دہلی آیا ۔ اگرچہ میں اس ملازمت کے بارے میں سنجیدہ نہیں تھا لیکن بیدی صاحب مجھ سے زیادہ سنجیدہ ہوگئے ۔ میرے منع کرنے کے باوجود کئی لوگوں سے میرے بارے میں سفارش کی ۔ کئی لوگو ںکو بلا وجہ یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ میں ذہین آدمی ہوں، قابل ہوں ، اہل بھی ہوں اور نہ جانے کیا کیا ہوں۔ مگر میں نے انٹرویو میں ان کے سارے دعوؤں کی تردید کردی اور حیدرآباد واپس چلا گیا ۔ ایک سال بعد وہ زندہ دلان حیدرآباد کے ایک جلسہ میں شرکت کے لئے حیدرآباد آئے تو خفا تھے کہ  میں نے جان بوجھ کر انٹرویو میں اپنے آپ کو نا اہل ثابت کیا تھا ۔ میں نے اپنی صفائی میں صرف اتنا کہا کہ کنور صاحب مجھے آپ سے ہی یہ شکایت ہے کہ آپ نے جان بوجھ کر میری قابلیت ، اہلیت اور صلاحیت کے بارے میں اس محکمہ کے ڈائرکٹر جنرل کو اتنا بڑھا چڑھا کر بتادیا تھا کہ وہ اپنی کرسی کیلئے مجھے ایک خطرہ سمجھنے لگا۔ یوں بھی ایک محکمہ میں دو قابل لوگوں کی گنجائش کہاں ہوتی ہے ۔ اسی لئے واپس چلا آیا۔
کنور صاحب کی یہی ادا تو مجھے پسند ہے کہ جس پر مہربان ہوتے ہیں، اس کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں ۔ اسے آپ ان کی شفقت اورمحبت نہ کہیںتو اور کیا کہیں کہ جسے عزیز رکھتے ہیں اگر وہ نااہل بھی ہے تو اس میں اہلیت ڈھونڈتے ہیں، نالائق بھی ہے تو اس میں لیاقت تلاش کرتے ہیں۔ جاہل ہے تو اس میں علم کی کھوج کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کنور صاحب کے اطراف مجھ جیسوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔
1972 ء میں جب میں دہلی آیا تو کنور صاحب کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ سچ مچ مجلسی آدمی ہیں ۔ وہ محفل میں ہوں تو کیا مجال کہ کوئی اور جان محفل بن جائے ۔ اُن کی باتیں حاضر جوابی ، بذلہ سنجی ، شگفتہ مزاجی اور خوش طبعی سے عبارت ہوتی ہیں۔ محفل کی نبض اُن کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ جس طرح کے لوگ ہوں اور جس طرح کا موقع ہو اس کے مطابق ایسی نپی تلی بات کرتے ہیں کہ سب کو سمجھ آجائے۔ محفل میں دس بارہ آدمی ہوں یا تیس پینتیس ہزار آدمی کنور صاحب سب کا مزاج جانتے ہیں ۔
کنور صاحب اردو شاعروں کے عالی جاہ ہیں۔ شاعر اور ادیب انہیں احتراماً ’’عالی جاہ ‘‘ کہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کنور صاحب گھر پر نہ ہوں اور کوئی انہیں فون کرے اور ایسے میں مسز کنور مہندر سنگھ بیدی فون کا ریسیور اُٹھائیں تو وہ کہتی ہیں ’’میں مسز عالی جاہ بول رہی ہوں‘‘۔ اپنے شاعر دوستوں کو وہ خوب نوازتے بھی ہیں۔ اردو شاعروں کے مسائل اگرچہ بہت بڑے نہیں ہوتے لیکن ان کا حل تلاش کرنا ضرور دشوار ہوتا ہے ۔ کنور صاحب ان کے مسائل کو نہ صرف حل کرتے ہیں بلکہ انہیں پیدا بھی کرتے ہیں(مراد مسائل سے ہے) بھانت بھانت کے شاعر اُن کے اطراف جمع رہتے ہیں ۔ جس پر مہربان ہوجائیں ، اسے ہندوستان کے کونے کونے میں گھما دیتے ہیں بلکہ بیس بائیس برس پہلے وہ اردو شاعروں کی ایک ٹیم کو لے کر برطانیہ گئے تھے ۔ اس ٹیم میں انہوں نے اکثریت ایسے شاعروں کی شامل رکھی تھی جو برطانیہ کی قومی زبان انگریزی سے واقفیت نہیں رکھتے تھے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اہل برطانیہ نے ان شاعروں کو اور اُن کے کلام کو خوب سمجھا اور لطف اندوز ہوئے ۔ ان شاعروں کیلئے بھی یہ ایک انوکھا تجربہ تھا کیوں کہ پیلی بھیت یا پانی پت کے مشاعروں سے اچانک لندن کے مشاعرہ میں کلام سنانا کوے یار سے نکل کر سوئے دار چلے جانے کے مترادف تھا ۔ اس کا ایک فائدہ اردو زبان و ادب کے حق میں یہ ہوا کہ بہت سے شاعر یوروپ کی ترقی اور چکا چوند سے اتنے مبہوت ہوئے کہ وطن واپس آکر ایک لمبے عرصہ تک کوئی شعر نہ کہہ سکے۔
TOPPOPULARRECENT