Tuesday , December 18 2018

کنور یاترا میں حصہ لینے والے مسلم کو نماز سے روک دیا گیا

پولیس میں مسلم شخص کی شکایت ، 3 افراد کیخلاف مقدمہ درج
حالت ِ نشہ میں مسجد میں داخلہ سے
روکا گیا ، ملزمین کی وضاحت

باغپت ۔ 12 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے ضلع باغپت میں کنور یاترا میں حصہ لینے والے ایک مسلم شخص کو مقامی مسجد میں نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا جس کے نتیجہ میں پولیس نے 3 افراد کو گرفتار کرلیا۔ ایک شخص بابو خان کی طرف سے پولیس میں درج کروائی گئی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ’’مَیں ایک کنور کی حیثیت سے ہردوار گیا تھا اور مندروں کو پانی پیش کیا۔ جمعہ کو جب میں نماز ادا کرنے پہونچا، چند افراد نے مجھے زدوکوب کیا اور نماز پرھنے سے روک دیا حتی کہ انہوں نے مجھے وہاں سے بھاگنے کیلئے مجبور کردیا‘‘۔ اس ضلع کے موضع راچھڑ سے تعلق رکھنے والے بابو خان نے المام عائد کیا کہ بعض افراد نے اس کو زدوکوب کیا۔ اس کی بیوی اور بچے اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے گئے۔ انسپکٹر دیویندر بشٹ نے کہا ہے کہ ’’بابو خان کی طرف سے ایک شکایت درج کروائی گئی ہے۔ امن درہم برہم کرنے کے الزام کے تحت 3 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ایک شخص مفرور ہے‘‘۔ بشٹ نے کہا کہ علاقہ کی سرکردہ شخصیات کے ساتھ پولیس اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے، تاہم ملزمین نے الزام عائد کیا کہ بابو خان حالت ِ نشہ میں مسجد پہونچا تھا چنانچہ اس کو مسجد کے اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اس دعویٰ کو ’’ہندو جاگرن منچ‘‘ کے صدر دیپک بنمولی نے کہا کہ ’’منچ، بابو خاں کے ساتھ ہے، اگر کوئی اسے ہراساں کرتا ہے تو ہم یہ برداشت نہیں کریں گے‘‘۔ واضح رہے کہ ہندوؤں کے پوتر مہینہ شراون میں کنوریاؤں (عقیدت رکھنے والے یاتری) گنگا جل لے جاتے ہیں اور شیو مندر پر پیش کرتے ہوئے پوجا پاٹ کیا کرتے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT