Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / کنٹراکٹ شادیوں پر قابو پانے خاطی قاضیوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی

کنٹراکٹ شادیوں پر قابو پانے خاطی قاضیوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی

محکمہ اقلیتی بہبود کا فیصلہ ۔ متعلقہ کمشنر پولیس سے این او سی کو لازمی کرنے کی تجویز ‘ حکومت کو تجاویز کی روانگی
حیدرآباد۔/21جنوری، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود نے کنٹراکٹ میریجس پر قابو پانے کیلئے خاطی قاضیوں کے خلاف سخت کارروائی کا منصوبہ بنایا ہے۔ کسی بھی بیرونی شہری کو تلنگانہ میں مقامی لڑکی سے شادی کیلئے متعلقہ کمشنر پولیس سے این او سی حاصل کرنے کی شرط نافذ کی جاسکتی ہے۔ اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے حکومت کو تجاویز روانہ کی جارہی ہیں تاکہ کنٹراکٹ میریج کے ذمہ دار قاضیوں کے خلاف فوجداری کارروائی کی جاسکے اور ضرورت پڑنے پر انہیں خدمات سے برطرف بھی کیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ دنوں پرانے شہر کے علاقہ میں کنٹراکٹ میریج کے ایک واقعہ کے بعد سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے عہدیداروں سے بات چیت کی او اس سلسلہ میں ٹھوس اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ سابق میں بھی انہوں نے قاضیوں کے خلاف کارروائی کیلئے رہنمایانہ خطوط مدون کئے تھے لیکن قاضیوں کی تنظیموں نے اس کی مخالفت کی۔ سید عمر جلیل نے بتایا کہ کنٹراکٹ میریجس کے واقعات دراصل مسلم سماج پر ایک بدنما داغ ہیں اور چند مفاد پرست عناصر اس طرح کی سرگرمیوں کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کی نیک نامی کو متاثر کرنے کے درپہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قاضیوں کا تقرر حکومت کی جانب سے کیا جاتا ہے جبکہ نائب قاضیوں کا تقرر خود قاضی اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ حکومت اور وقف بورڈ کے پاس ہر قاضی کے تحت موجود نائب قاضیوں کی تفصیلات موجود نہیں کیونکہ ان پر وقف بورڈ کا کوئی کنٹرول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کنٹراکٹ میریجس جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے قاضیوں کو پابند کیا جائے گا اور نئی شرائط کے ساتھ احکامات جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی نائبین اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں محکمہ پولیس سے تعاون حاصل کیا جائے گا تاکہ خفیہ طور پر سرگرمیوں میں ملوث بعض نائبین کا پتہ چلایا جاسکے۔ انہوں نے پرانے شہر کے ایک علاقہ میں ایک قاضی کی مجرمانہ سرگرمیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ حکومت نے اسے برطرف کردیا تھا تاہم عدالت کے حکم التواء کے سبب وہ ابھی بھی خدمات انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت جلد علماء اور قاضیوں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے کنٹراکٹ میریجس کی روک تھام کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں بھی شعور بیداری کی ضرورت ہے۔ جو خاندان بھی معاشی پسماندگی کے سبب اپنی لڑکیوں کو اس طرح شادی کیلئے مجبور کررہے ہیں ضرورت پڑنے پر  محکمہ اقلیتی بہبود ان کی معاشی ترقی کیلئے قرض کی منظوری پر غور کرسکتا ہے۔ محکمہ پولیس نے بھی اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے ربط قائم کرتے ہوئے معاشی پسماندگی کا شکار خاندانوں کی بازآبادکاری کی سفارش کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT