Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات باقاعدہ بنانے کا تیقن

کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات باقاعدہ بنانے کا تیقن

اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز ملازمین کے وفد کی کویتا سے ملاقات ، اعلیٰ عہدیدار کے رویہ کی شکایت
حیدرآباد۔/22ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ کویتا نے اقلیتی بہبود کے تحت چلنے والے اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین کو تیقن دیا کہ وہ ان کی ملازمتوں کو باقاعدہ بنانے اور انہیں نان پلان اسکیم کے تحت شامل کرنے کیلئے حکومت سے نمائندگی کریں گی۔ کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین نے آج کویتا سے ملاقات کی اور اپنے مسائل پر مشتمل تفصیلی یادداشت حوالے کی۔ کویتا نے سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل سے ربط قائم کرتے ہوئے ملازمین کے مسائل کی عاجلانہ یکسوئی کی خواہش کی۔ کویتا نے کہا کہ حکومت تمام کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا فیصلہ کرچکی ہے تاہم اس سلسلہ میں مرحلہ وار انداز میں احکامات جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی میں تاخیر ہورہی ہے۔ ان ملازمین کو 15تا 20دن تاخیر سے تنخواہ جاری کی جارہی ہے اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ملازمین نومبر کی تنخواہ سے آج تک محروم ہیں۔ ملازمین نے شکایت کی کہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر حیدرآباد کا رویہ اُن کے ساتھ انتہائی غیر شائستہ اور غیر انسانی ہے۔ وہ ملازمین کو تنخواہیں جاری کرنے کیلئے اردو اکیڈیمی کو رپورٹ روانہ کرنے کے بجائے ملازمت سے برطرف کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ملازمین نے شکایت کی کہ متعلقہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کو بعض اعلیٰ عہدیداروں کی تائید حاصل ہے جس کی بنیاد پر وہ من مانی کررہے ہیں اور غریب ملازمین کے مسائل کی سنوائی کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹری اقلیتی بہبود کی جانب سے حیدرآباد کے ملازمین کو فی الفور تنخواہ جاری کرنے کی ہدایت کے باوجود آج تک تنخواہ جاری نہیں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز جو سابق میں اردو اکیڈیمی کے تحت تھے انہیں 2013میں اقلیتی بہبود ڈائرکٹوریٹ کے تحت کیا گیا اور ہر ضلع کے اقلیتی عہدیدار کی جانب سے حاضری سے متعلق رپورٹ کی پیشکشی کے بعد اردو اکیڈیمی سے تنخواہ جاری کی جاتی ہے۔ انہوں نے ان سنٹرس کو اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت کئے جانے کی سختی سے مخالفت کی ۔ ملازمین نے بتایا کہ تنخواہوں کی عدم اجرائی کے سبب وہ مالی بحران کا شکار ہیں۔ انہوں نے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کو اقلیتی طلباء کے ٹریننگ اور کوچنگ سنٹرس میں تبدیل کئے جانے کی تائید کی اور کہا کہ وہ ان سنٹرس میں خدمات انجام دینے کیلئے تیار ہیں۔ اسی دوران سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے واضح کردیا کہ کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین کی خدمات کو برخواست کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے انہیں مزید ٹریننگ فراہم کرتے ہوئے ٹریننگ سنٹرس میں مامور کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT