Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / کنٹراکٹ ورکرس کے معاملہ میں لیبر قوانین کی خلاف ورزی

کنٹراکٹ ورکرس کے معاملہ میں لیبر قوانین کی خلاف ورزی

جی ایچ ایم سی کے خلاف محکمہ لیبر میں میونسپل ساہکار مزدور یونین کی شکایت

جی ایچ ایم سی کے خلاف محکمہ لیبر میں میونسپل ساہکار مزدور یونین کی شکایت
حیدرآباد ۔ 2 ۔ فروری : ( آئی این این ) : آئی این ٹی یو سی سے ملحقہ میونسپل ساہکار مزدور یونین نے آج محکمہ لیبر میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے خلاف ایک شکایت درج کرواتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کارپوریشن کی جانب سے کنٹراکٹ ورکرس کے معاملہ میں لیبر قوانین کے قواعد کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔ یونین کے ایڈیشنل جنرل سکریٹری عادل شریف نے جوائنٹ کمشنر محکمہ لیبر کے پاس درج کروائی گئی ان کی شکایت میں کہا کہ جی ایچ ایم سی مینجمنٹ کی جانب سے کنٹراکٹرس اور ایجنسیز کو ہیلت اینڈ سینٹیشن کی سروسیس کی آف سورسنگ کے معاملہ میں کنٹراکٹ لیبر ( ریگولیشن اینڈ ابالیشن ) ایکٹ 1970 کے قواعد پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے ۔ کنٹراکٹ لیبر ( ریگولیشن اینڈابالیشن ) ایکٹ 1970 کا سیکشن 7 کہتا ہے کہ سروسیس کی آوٹ سورسنگ کے لیے ادارہ لیبر ڈپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ ہونا چاہئے اور کنٹراکٹ لیبر ایکٹ کے سیکشن 12 کے مطابق سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کنٹراکٹرس ، ایجنسیز اور سینٹری ورکرس گروپ کو محکمہ لیبر سے لائسنس حاصل کرنا چاہئے جو کہ لازمی ہے ۔ یہ کہتے ہوئے کہ میونسپل کارپوریشن آف حیدرآباد میں سال 1996 میں کنٹراکٹ سسٹم شروع کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہیلت اینڈ سینٹیشن ونگ کے تحت کام کرنے والے 29,100 سے زیادہ کنٹراکٹ ورکرس ہیں ۔ ان میں شامل ہیں سینٹیشن میں 22000 ورکرس ، اینٹو مولوجی میں 2600 ، ویٹرنری میں 2000 اور گاربیج لفٹنگ میں 2500 ۔ اس وقت سے جی ایچ ایم سی مینجمنٹ کی جانب سے لیبر ایکٹ کے قواعد پر عمل نہیں کیا جارہا ہے ۔ یونین نے جوائنٹ کمشنر لیبر سے درخواست کی کہ اس مسئلہ پر توجہ دی جائے اور قانون کے مطابق شکایتوں کو دور کرنے کے اقدامات کئے جائیں ۔ اس شکایت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جوائنٹ کمشنر نے جی ایچ ایم سی مینجمنٹ اور میونسپل ساہکار مزدور یونین کا ایک مشترکہ اجلاس 5 فروری کو شام 4 بجے ان کے چیمبرس میں طلب کیا ہے تاکہ قانون کے مطابق اس مسئلہ کی یکسوئی کی جائے ۔۔

TOPPOPULARRECENT