Thursday , December 13 2018

کنٹراکٹ کے معاملے پرپاکستانی کھلاڑیوں اور بورڈ میں اختلافات

کراچی۔26 جنوری (سیاست ڈاٹ کام )ورلڈ کپ 2015 سے قبل ہی ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے،پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں سے تین ماہ کا معاہدہ کیالیکن کھلاڑیوں نے اس معاہدے کومسترد کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق پی سی بی کے چیئر میں شہریار خان نے اس حوالے سے کپتان مصباح الحق سے بات کر نے کی کوشش کی تاہم کپتان اور دیگر کھلاڑی اس معاملے پر ڈٹ گئے ہیں اور

کراچی۔26 جنوری (سیاست ڈاٹ کام )ورلڈ کپ 2015 سے قبل ہی ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے،پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں سے تین ماہ کا معاہدہ کیالیکن کھلاڑیوں نے اس معاہدے کومسترد کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق پی سی بی کے چیئر میں شہریار خان نے اس حوالے سے کپتان مصباح الحق سے بات کر نے کی کوشش کی تاہم کپتان اور دیگر کھلاڑی اس معاملے پر ڈٹ گئے ہیں اور کھلاڑی بغیر معاہدوں کے بیرون ملک سفر کررہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم انتظامیہ کئی کھلاڑیوں کو برطرف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کرکٹرز نے ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد ممکنہ اخراج کے خلاف قبل از وقت بغاوت کا اعلان کردیا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے سینٹرل کنٹراکٹ پر دستخط کر نے سے انکار کردیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین شہریار خان نے اعتراف کیا ہے کہ کھلاڑیوں نے نئے سینٹرل کنٹراکٹ پر تحفظات ظاہر کئے ہیں میگا ایونٹ سے قبل کھلاڑیوں نے تین ماہ کا معاہدہ مسترد کرتے ہوئے ایک سال کے معاہدے کا مطالبہ کیا ہے۔کھلاڑیوں اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں تاہم بورڈکو امید ہے کہ ورلڈ کپ سے قبل درمیانی راستہ نکل آئے گا۔ مصباح الحق جو ورلڈ کپ کے بعدونڈے سے سبکدوش ہونیکا اعلان کرچکے ہیں وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام سے براہ راست کھلاڑیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے مذاکرات میں مصروف ہیں۔ پی سی بی کے باوثوق ذرائع کے بموجب کھلاڑیوں کے لئے تین ماہ کے سینٹرل کنٹراکٹ اچانک نہیں تھے انہیں ابتدا میں مطلع گیا تھا کہ بورڈ انہیں تین ماہ کے معاہدے دے گا۔ لیکن ان خبروں کے بعد کہ پی سی بی اور ٹیم انتظامیہ ورلڈ کپ کے بعد کئی سینئر کھلاڑیوں کو ہٹانے کا ارادہ رکھتی ہے اور ورلڈ کپ کے بعدجو سینٹرل کنٹراکٹ دیے جائیں گے اس میں ورلڈ کپ کے ناکام کھلاڑیوں کو اے سے بی زمرہ میں کردیا جائے گا۔ اس حوالے سے ٹیم کی نیوزی لینڈ روانگی سے قبل کھلاڑیوں کی بورڈ حکام سے کئی اجلاس ہوچکے ہیں لیکن کھلاڑی تین ماہ کے معاہدوں اور بعض نئی شقوں پر دستخط کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT