Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / کنٹونمنٹ انتخابات میں تلگودیشم و بی جے پی اتحاد ناکام

کنٹونمنٹ انتخابات میں تلگودیشم و بی جے پی اتحاد ناکام

حیدرآباد /14 جنوری (سیاست نیوز) تلگودیشم و بی جے پی اتحاد سکندرآباد کنٹونمنٹ کے انتخابات میں ناکام ہو گیا۔ عام انتخابات کے دوران سارے ملک میں مودی لہر نے بی جے پی کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا تھا، تاہم تلنگانہ میں ٹی آر ایس نے مودی کی لہر کو ناکام بنادیا تھا۔ بی جے پی سے اتحاد کرنے والی تلگودیشم نے آندھرا پردیش میں بھاری اکثریت سے کا

حیدرآباد /14 جنوری (سیاست نیوز) تلگودیشم و بی جے پی اتحاد سکندرآباد کنٹونمنٹ کے انتخابات میں ناکام ہو گیا۔ عام انتخابات کے دوران سارے ملک میں مودی لہر نے بی جے پی کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا تھا، تاہم تلنگانہ میں ٹی آر ایس نے مودی کی لہر کو ناکام بنادیا تھا۔ بی جے پی سے اتحاد کرنے والی تلگودیشم نے آندھرا پردیش میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، جب کہ شہر حیدرآباد و سکندرآباد اور مضافاتی علاقوں میں تلگودیشم و بی جے پی اتحاد نے شاندار مظاہرہ کیا، یہاں تک کہ سیٹلرس نے ریاست کی تقسیم پر کانگریس کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے تلگودیشم و بی جے پی اتحاد پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اب عام انتخابات کے سات ماہ بعد سکندرآباد کنٹونمنٹ کے انتخابات ہوئے ہیں۔ عام انتخابات میں گریٹر حیدرآباد میں مایوس کن مظاہرہ کرنے والی ٹی آر ایس نے زبردست مظاہرہ کرکے 8 کے منجملہ 4 وارڈس پر کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ ٹی آر ایس کے دو باغی امیدواروں نے حیرت انگیز کامیابی درج کرائی ہے۔

ایک وارڈ پر کانگریس اور ایک پر آزاد امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے، جب کہ سکندرآباد کنٹونمنٹ کے علاقوں میں تلگودیشم کے ارکان اسمبلی و ارکان پارلیمنٹ کی حدود شامل ہیں، اس کے باوجود تلگودیشم و بی جے پی اتحاد کا مایوس کن مظاہرہ رہا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سکندرآباد کنٹونمنٹ حلقہ کے تلگودیشم رکن اسمبلی سائنا کی دختر کو بھی شکست ہوئی۔ واضح رہے کہ صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو نے سکندرآباد کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کی ذمہ داری اپنے فرزند نارا لوکیش کو سونپی تھی۔ انھوں نے تلنگانہ اور سیما۔ آندھرا کے قائدین سے رابطہ پیدا کرتے ہوئے پارٹی کی کامیابی کے لئے حکمت عملی تیار کی تھی اور سیٹلرس کے ووٹوں پر انحصار کئے ہوئے تھے، تاہم عوام نے تلگودیشم و بی جے پی اتحاد کو مایوس کردیا۔ ذرائع کے بموجب گریٹر حیدرآباد کے مجوزہ انتخابات کے لئے تلگودیشم قائدین بالخصوص تلگودیشم کے دس سابق کارپوریٹرس بشمول سابق فلور لیڈر گریٹر حیدرآباد تلگودیشم سنگی ریڈی سرینواس ریڈی ٹی آر ایس سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT