Tuesday , December 11 2018

’’کنگ آف چائنا‘‘ کیساتھ پائیدار دوستی کی ٹرمپ کی خواہش

۔21 توپوں کی سلامی اور گارڈ آف آنر،عشائیہ میں خواتین اول امریکہ و چین کی شرکت سے چار چاند ،شمالی کوریا بحران سرفہرست

بیجنگ ۔ 9 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج چین سے شمالی کوریا کے نیوکلیئر پروگرام کے عزائم کو ختم کرنے بھرپور تعاون کی خواہش کی اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کے بھی خواہاں ہیں کہ عالمی سطح پر ایسے تمام مسائل جو خطرناک نوعیت اختیار کرچکے ہیں، ان پر تفصیلی تبادلہ خیال ہونا چاہئے۔ یاد رہیکہ ٹرمپ اس وقت صدر چین ژی جن پنگ سے ملاقات کررہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کیا جاسکے۔ ٹرمپ اس وقت اپنے 12 روزہ ایشیائی دورہ پر ہیں جہاں وہ جاپان اور جنوبی کوریا کا دورہ مکمل کرچکے ہیں۔ بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیوپل میں دونوں قائدین کی ملاقات ہوئی۔ قبل ازیں ٹرمپ کا بیجنگ آمد پر شاہانہ استقبال کیا گیا تھا۔ اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے وہاں موجود سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ ان کا اتنا شاندار خیرمقدم کیا جائے گا۔ اس وقت میں چین کے ساتھ پائیدار دوستی اور ساتھ میں کام کرنے کی خواہش لیکر یہاں آیا ہوں۔ دونوں ممالک نہ صرف اپنے اپنے مسائل بلکہ دنیا میں موجود ان تمام دیگر مسائل کی یکسوئی بھی کرسکتے ہیں جو خطرناک نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک کے پاس اتنی اہلیت ہیکہ وہ ہر مسئلہ کی یکسوئی کرسکتے ہیں۔ ٹرمپ کے دورہ کا آئندہ مرحلہ ویتنام اور فلپائن ہے جہاں بے چینی سے ان کی آمد کا انتظار کیا جارہا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہیکہ ٹرمپ جب امریکہ سے چلے تھے تو اس وقت ان کے ایجنڈہ میں شمالی کوریا ہی سرفہرست تھا اور جنوبی کوریا اور جاپان کے دورہ پر بھی انہوں نے شمالی کوریا سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

ٹرمپ کی بیجنگ آمد پر انہیں 21 توپوں کی سلامی کے ساتھ گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ بعدازاں ٹرمپ نے ان کی میزبانی کرنے والوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہاکہ باہم دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ جو عشائیہ صرف 20 منٹ کے دورانیہ پر مشتمل تھا اس کا سلسلہ دوگھنٹوں تک جاری رہا۔ ٹرمپ نے کہا کہ عشائیہ میں شرکت کے ایک ایک لمحہ کا انہوں نے بھرپور لطف لیا۔ آپ کی (جن پنگ) خوبصورت بیوی اور میلانیا کی موجودگی نے عشائیہ کی رونق میں مزید اضافہ کردیا۔ میلانیا اور آپ کی اہلیہ محترمہ نے جس باہمی اپنائیت کا مظاہرہ کیا وہ شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے جبکہ میری اور جن پنگ کی دوستی بھی قابل ذکر ہے۔ ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ امریکی اور چینی نمائندوں کی موجودگی میں ہم دونوں کی ملاقات بہترین نوعیت کی تھی جہاں ہم نے شمالی کوریا کے موضوع پر بات چیت کی اور جیسا کہ آپ سب لوگوں کا خیال ہے، میں بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے یہی کہتا ہوں کہ شمالی کوریا بحران کا حل موجود ہے۔ بس ہمیں اس حل کو دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں تیزی سے کارروائی کرنے کی ضرورت ہے

اور چین ایک ایسا ملک ہے جو کسی سے بھی زیادہ تیز رفتار کارروائی کرسکتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے چین ۔ امریکہ کے درمیان باہمی تجارت میں زائد از 370 بلین ڈالرس کے چین کے حق میں عدم توازن کا امریکہ کی سابق حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ کوئی بات نہیں، حالات بہت جلد معمول پر آجائیں گے اور یہ دونوں ہی ممالک کیلئے منفعت بخش ثابت ہوں گے۔ انہوں نے ژی جن پنگ کو اپنا بہترین دوست قرار دیا اور کہا کہ یہ ان کے لئے (ٹرمپ) فخر کی بات ہے کہ وہ ان کے (جن پنگ) ساتھ ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر افغانستان کا بھی تذکرہ کیا اور اس تذکرہ کو اہمیت کا حامل اس لئے سمجھا جارہا ہیکہ امریکہ چین کے ہر موسم کے دوست پاکستان پر عرصۂ دراز سے یہ دباؤ ڈالتا آرہا ہیکہ وہ (پاکستان) اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو تباہ کردے اور طالبان کی مدد سے بھی دستبردار ہوجائے۔ یاد رہیکہ ٹرمپ وزیراعظم چین لی کیگیانگ سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں، جہاں ان کیلئے عشائیہ اور ثقافتی پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں چین کی کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CPC) کی انتخابی جیت کے بعد ژی جن پنگ کو ’’کنگ آف چائنا‘’ کہا تھا کیونکہ اس کامیابی سے جن پنگ کو مزید پانچ سالہ میعاد کے لئے اقتدار حاصل ہوگیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT