Tuesday , November 21 2017
Home / سیاسیات / کنہیا کمار، اسمبلی انتخابات کی مہم میں حصہ نہیں لینگے

کنہیا کمار، اسمبلی انتخابات کی مہم میں حصہ نہیں لینگے

سیاست سے دلچسپی نہیں، ٹیچر بننے کا ارادہ، وینکیا نائیڈو کے ریمارکس کا جواب
نئی دہلی ۔ 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار نے جو غداری کے ایک مقدمہ میں گرفتاری کے بعد تہاڑ جیل سے رہا ہوئے ہیں، آج اشارہ دیا کہ مغربی بنگال اور کیرالا اسمبلی انتخابات کی مہم میں حصہ نہیں لیں گے۔ کنہیا نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ’’میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اصل دھارے کی سیاست سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میں ایک طالب علم ہوں اور پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد ٹیچر بننا چاہتا ہوں۔ حتیٰ کہ اس کے بعد بھی میں اپنی جدوجہد اور سرگرمیاں جاری رکھوں گا۔ میرے دو دوست ہنوز جیل میں ہیں۔ روہت ویمولہ کے علاوہ ہم کئی مسائل اٹھا چکے ہیں اور اب الہ آباد یونیورسٹی کا مسئلہ ہے۔ طلبہ کیلئے اور بھی بہت کچھ کرنا ہے اور میرے لئے یہ ممکن نہیں کہ مہم کیلئے سفر کا وقت نکالا جاسکے‘‘۔ جے این یو میں کنہیا کی پرجوش تقریر کے بعد سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے اعلان کیا تھا کہ اسمبلی انتخابات میں کنہیا کمار، بائیں بازو کیلئے مہم میں حہص لیں گے۔

تاہم بعد میں انہوں نے کہا تھا کہ کنہیا اپنی ضمانت کی شرائط اور دیگر وجوہات کی بناء پر انتخابی مہم کیلئے کیرالا اور مغربی بنگال کا سفر نہیں کریں گے۔ 29 سالہ ریسرچ اسکالر کنہیا نے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو پر بھی تنقید کی جنہوں نے کہا تھا کہ وہ (کنہیا) تہاڑجیل سے اپنی رہائی کے بعد مفت تشہیر سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ کنہیا نے کہا کہ ’’نائیڈو نے کہا تھا کہ میں اور جے این یو کے دیگر طلبہ تشہیر سے مزہ لے رہے ہیں اور اس کے بجائے ہمیں پڑھائی کی طرف جانا چاہئے۔ میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم جو کچھ بھی کررہے ہیں وہ حقوق کیلئے جدوجہد ہے اور ان (وینکیا نائیڈو) کی حکومت جو کچھ بھی کررہی ہے وہ محض سیاست ہے۔ کیا وہ ان دونوں کے درمیان فرق کو سمجھ سکتے ہیں؟۔ انہیں تبصرے کرنے سے پہلے اس فرق کو سمجھنا چاہئے‘‘۔ بیگوسرائے کے نوجوان کنہیا نے مزید کہا کہ ’’سارا ملک جانتا ہے کہ جے این یو میں داخلہ لینا کس حد تک دشوار ہوتا ہے۔ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ پڑھائی کے بغیر ہم یہاں رہ بھی سکتے ہیں؟۔ ہمارا مقصد پڑھائی اور جدوجہد ہے۔ صرف وہی لوگ اس کو سیاست کہتے ہیں جو جے این یو کی دانشورانہ پود سے خوفزدہ ہیں‘‘۔ کنہیا نے کہا کہ وینکیا نائیڈو کا بیان مضحکہ خیز ہے کیونکہ خود انہوں نے 1973ء میں آندھرا یونیورسٹی کے کالجوں میں اسٹوڈنٹس لیڈر کی حیثیت سے اپنا سیاسی کیریئر شروع کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT