Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / کنہیا کمارکیخلاف غداری کے مقدمہ سے دستبرداری کا مطالبہ

کنہیا کمارکیخلاف غداری کے مقدمہ سے دستبرداری کا مطالبہ

مودی حکومت ، پرامن جہدکاروں کو عجلت کے ساتھ سزاء دینے بے چین
عدالت میں بی جے پی حامیوں کے تشدد پر حکومت خاموش ، پولیس بھی تماشائی ، امریکی انسانی حقوق تنظیم کا بیان
واشنگٹن ۔ 20 فبروری ۔(سیاست ڈاٹ کام)  امریکہ میں انسانی حقوق کے ایک سرکردہ ادارہ نے آج ہندوستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے لیڈر کنہیا کمار کے بشمول دیگر تمام پرامن جہدکاروں کے خلاف ملک سے غداری کے الزامات عائد کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔ ہیومن رائٹس واچ ( ایچ آر ڈبلیو ) نے کہاکہ ہندوستانی حکام کو چاہئے کہ وہ فی الفور ان تمام الزامات سے دستبرداری اختیار کریں جن سے اظہارخیال کی آزادی کا حق پامال ہوتا ہے ۔ علاوہ ازیں پٹیالہ ہاؤز کورٹ کامپلکس میں پیش آئے پُرتشدد واقعات کی مکمل تحقیقات کرتے ہوئے حکمراں جماعت ( بی جے پی) کے حامیوں کے بشمول ان تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جو ان پرتشدد واقعات کے ذمہ دار ہیں۔ ہیومن رائیٹس واچ میں جنوبی ایشیاء کی ڈائرکٹر میناکشی گنگولی نے الزام عائد کیا کہ ’’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی حکومت اگرچہ پرامن طورپر اظہارخیال کرنے والوں کو سزاء دینے کیلئے بے چین ہے لیکن قوم پرستی کے نام پر تشدد برپا کرنے والے اپنے حامیوں کے بارے میں تحقیقات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ‘‘ ۔

میناکشی گنگولی نے مزید کہاکہ ’’حکام کو نہ صرف یہ پتہ چلانے کی ضرورت ہے کہ عدالت کے احاطہ میں ہوئے حملے میں بی جے پی کے حامیوں کو ملوث ہونے کی کیا ضرورت تھی بلکہ اس بات کا بھی پتہ چلایا جانا چاہئے کہ تشدد کے ان تمام واقعات کے دوران پولیس نے آخر کیوں کچھ نہیں کیا ‘‘۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعہ نے اس بات کی فوری ضرورت کو اُجاگر کردیا ہے کہ غداری سے متعلق دفعات کو ہندوستانی پارلیمنٹ کی طرف سے منسوخ کردیا جائے ۔ ہندوستانی تعزیری ضابطہ کی دفعہ 124A کے تحت حکومت کے تئیں کسی بھی نفرت انگیز ، تحقیر ، توہین و ناراضگی کا اظہار کرنے والے کسی بھی لفظ کے تحریری یا زبانی طورپر استعمال یا کسی علامت کے دکھائے جانے کی سخت ممانعت ہے ۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے غداری سے متعلق قانون کے محدود استعمال کی اجازت دی ہے ۔ تشدد کیلئے اُکسانا اس کا ایک لازمی عنصر ہوتا ہے لیکن پولیس ایسے واقعات پر مسلسل غداری کے مقدمات درج کررہی ہے حالانکہ واقعات سے اس دفعہ کے استعمال سے متعلق قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے ۔ ایچ آر ڈبلیو کے طویل بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پرامن آواز کو خاموش کرنے کیلئے اس قانون کے متواتر استعمال سے ہندوستان انسانی حقوق کے بین الاقوامی منشور کی خلاف ورزی کا مرتکب بھی ہوسکتا ہے ۔ چنانچہ اس قسم کے قانون کا بیجا استعمال نہیں کیا جانا چاہئے ۔ میناکشی گنگولی نے کہاکہ ’’وزیراعظم نریندر مودی دنیا بھر میں ہندوستانی جمہوریت کو ایک پرکشش مارکٹ کے طورپر اُجاگر کررہے ہیں اس کے برخلاف خود ان کے ملک میں ان ہی کا انتظامیہ پرامن انداز میں ناراضگی کا اظہار کرنے والوں کی آوازوں کو کچل رہا ہے ‘‘ ۔ میناکشی نے مزید کہا کہ ’’بنیادی انسانی حقوق کی پابندی و پاسداری میں ناکامی دنیا کیلئے کوئی اچھا پیغام نہیں ہوسکتی ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT