Friday , January 19 2018
Home / ہندوستان / کوئلہ اسکام مقدمہ میں سی بی آئی کو قطعی رپورٹ

کوئلہ اسکام مقدمہ میں سی بی آئی کو قطعی رپورٹ

نئی دہلی ۔ 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایک خصوصی عدالت نے آج سی بی آئی کو ہدایت دی کہ اپنی قطعی رپورٹ جلد از جلد کوئلہ اسکام مقدمہ کے سلسلہ میں پیش کردے تاکہ کوئلہ بلاکس مختص کرنے کے بارے میں تحقیقات میں پیشرفت ہوسکے۔ مبینہ طور پر وکاس میٹل اینڈ پاور لمیٹیڈ اور دیگر کوئلہ بلاکس اسکام مقدمہ میں ملوث ہیں، عدالت نے کہا کہ حالانکہ اس کو اختیار

نئی دہلی ۔ 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایک خصوصی عدالت نے آج سی بی آئی کو ہدایت دی کہ اپنی قطعی رپورٹ جلد از جلد کوئلہ اسکام مقدمہ کے سلسلہ میں پیش کردے تاکہ کوئلہ بلاکس مختص کرنے کے بارے میں تحقیقات میں پیشرفت ہوسکے۔ مبینہ طور پر وکاس میٹل اینڈ پاور لمیٹیڈ اور دیگر کوئلہ بلاکس اسکام مقدمہ میں ملوث ہیں، عدالت نے کہا کہ حالانکہ اس کو اختیار تمیزی حاصل ہے کہ وہ سی بی آئی قطعی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دے۔ سی بی آئی کے خصوصی جج بھرت پراشر نے کہا کہ سی بی آئی قطعی رپورٹ پیش کرنے کیلئے کچھ مہلت چاہتی ہے تاکہ تحقیقات مکمل کی جاسکیں۔ جج نے کہا کہ کچھ اور وقت قطعی رپورٹ پیش کرنے کیلئے طلب کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عدالت کا اختیار تمیزی ہے کہ تحقیقاتی محکمہ کو قطعی رپورٹ پیش کرنے کیلئے ہدایت دیں تاکہ تحقیقات مکمل ہوسکیں لیکن حکومت نے 23 مارچ کی تاریخ کو رپورٹ پیش کرنے کیلئے مقرر کی ہے۔ سی بی آئی کو قبل ازیں قطعی رپورٹ پیش کرنے میں تاخیر کیلئے عدالت کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ عدالت نے سی بی آئی عہدیدار سے یہ بھی پوچھا کہ رپورٹ کو اتنی مدت تک زیرالتوا رکھنے کی وجہ کیا ہے اس پر جواب دیتے ہوئے تحقیقاتی عہدیدار نے کہا کہ فائل اعلیٰ عہدیداروں کے پاس ہے جس کی وجہ سے تحقیقات کی تکمیل نہیں ہوسکی۔

تاہم عدالت نے کہا کہ مقدمہ کی آئندہ سماعت تک قطعی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کردی جانی چاہئے۔ سی بی آئی نے تاہم بعدازاں کہا کہ اس نے مقدمہ بند کرنے کی ایک درخواست پیش کی ہے کیونکہ وی ایم پی ٹی پر الزامات کے ثبوت حاصل نہیں ہوسکے اور نہ اس کے ڈائرکٹرس کے خلاف کوئی ثبوت ملا۔ اس لئے سرکاری عہدیدار تحقیقات کے دوران ان پر عائد الزامات ثابت کرنے سے قاصر ہیں۔ عدالت نے گذشتہ سال 15 اکٹوبر کو مقدمہ بند کردینے کی رپورٹ کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا اور سی بی آئی کو مزید تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے حکم جاری کیا تھا۔ کوئلہ بلاکس مختص کرنے کے معاملہ میں سابق یو پی اے حکومت کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ بھی ملوث سمجھے جاتے ہیں کیونکہ اس وقت کوئلہ بلاکس مختص کئے گئے تھے اس وقت وزارت کوئلہ کا قلمدان وزیراعظم منموہن سنگھ کے پاس تھا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں سی بی آئی نے ان سے بھی پوچھ تاچھ کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT