Wednesday , December 12 2018

کوئلہ ورکرس کی ہڑتال دوسرے دن میں داخل

نئی دہلی ۔ 7 ۔ جنوری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ملک گیر سطح پر کوئلہ صنعت کے ورکرس کی 5 روزہ ہڑتال آج دوسرے دن میں داخل ہوگئی جب کہ سرکاری عہدیداروں اور ٹریڈ یونینوں کے درمیان کل شب مذاکرات ناکام ہوگئے ۔ ہڑتال کے پہلے دن یومیہ 1.5 ملین ٹن کوئلہ کی پیداوار پر 75 فیصد اثر پڑا ۔ اگر یہ ہڑتال جاری رہی تو ملک بھر میں واقع تقریبا 100 برقی پلانٹس کو ایندھن

نئی دہلی ۔ 7 ۔ جنوری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ملک گیر سطح پر کوئلہ صنعت کے ورکرس کی 5 روزہ ہڑتال آج دوسرے دن میں داخل ہوگئی جب کہ سرکاری عہدیداروں اور ٹریڈ یونینوں کے درمیان کل شب مذاکرات ناکام ہوگئے ۔ ہڑتال کے پہلے دن یومیہ 1.5 ملین ٹن کوئلہ کی پیداوار پر 75 فیصد اثر پڑا ۔ اگر یہ ہڑتال جاری رہی تو ملک بھر میں واقع تقریبا 100 برقی پلانٹس کو ایندھن کی سربراہی درہم برہم ہوسکتی ہے ۔ ٹریڈ یونینوں نے بتایا کہ ہڑتال میں 5 لاکھ ورکرس بشمول کول انڈیا کے ملازمین شامل ہیں ۔ انڈین نیشنل مائین ورکرس فیڈریشن کے سکریٹری جنرل ایس کیوزماں نے بتایا کہ تمام ورکرس متحد ہیں اور 10 جنوری تک ہڑتال کا سلسلہ جاری رکھیں گے ۔ تاہم یونینوں کے نمائندوں اور سکریٹری وزارت کوئلہ انیل سوراپ کے درمیان کل شب بات چیت ناکام ہوگئی ۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات صرف وزیر کوئلہ و برقی پیوش گوئیل یا وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ہوگی ۔ مسٹر زمان نے بتایا کہ سکریٹری وزارت کوئلہ اور ٹریڈ یونینوں کے درمیان مذاکرات کی اطلاع نہیں ہے ۔ لیکن وزیر کوئلہ اور وزیر اعظم سے بات چیت کے لیے ہم تیار ہیں ۔ دریں اثناء کول انڈیا کے ایک سینئیر عہدیدار نے بتایا کہ ہڑتالی ورکرس آج سے احتجاج میں شدت پیدا کردیں گے ۔ ملک بھر میں 5 لاکھ کوئلہ کانکنوں نے گذشتہ دن سے 5 روزہ ہڑتال کا آغاز کردیا ہے جو کہ 1977 سے سب سے بڑی صنعتی ہڑتال تصور کی جاتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT