Wednesday , December 12 2018

کوئلہ کیس میں منموہن سنگھ بھی ملزم ، سمن کی اجرائی

نئی دہلی ۔ 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، صنعتکار کمار منگلم برلا اور سابق معتمد کوئلہ پی سی پاریکھ کو کوئلہ اسکام میں ملزمین کی حیثیت سے ایک خصوصی عدالت نے سمن جاری کیا ہے اور اس تاثر کا اظہار کیا کہ 2005ء میں تلاباریا۔ II کوئلہ بلاک تخصیصات میں مسرس ہنڈالکو کو ’’جگہ دلانے‘‘ ڈاکٹر منموہن سنگھ بھی مجرمانہ سازش میں

نئی دہلی ۔ 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، صنعتکار کمار منگلم برلا اور سابق معتمد کوئلہ پی سی پاریکھ کو کوئلہ اسکام میں ملزمین کی حیثیت سے ایک خصوصی عدالت نے سمن جاری کیا ہے اور اس تاثر کا اظہار کیا کہ 2005ء میں تلاباریا۔ II کوئلہ بلاک تخصیصات میں مسرس ہنڈالکو کو ’’جگہ دلانے‘‘ ڈاکٹر منموہن سنگھ بھی مجرمانہ سازش میں شامل تھے۔ خصوصی عدالت نے اس مقدمہ کو بند کرنے سے متعلق سی بی آئی کلوژر رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے مسرس ہنڈالکو اور اس کے دو سرکردہ عہدیداروں شوبھنڈو امیتابھ اور ڈی بھٹاچاریہ کو بھی مقدمہ میں ملزمین کی حیثیت سے سمن جاری کیا ہے۔ سی بی آئی کے خصوصی جج بھارت پراشر نے کہا کہ ’’بادی النظر میں یہ واضح ہوچکا ہیکہ ایک ناقص اور مبہم مجرمانہ سازش جو ابتداء میں شوبھینڈو امیتابھ، ڈی بھٹا چاریہ اور کمار منگلم کے علاوہ مسرس ہنڈالکو نے شروع کی تھی اور اس پر پی سی پاریکھ نے جو معتمد کوئلہ تھے، مزید پیشرفت کی۔ بعدازاں اس وقت کے وزیر کوئلہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے یہ کام کیا‘‘۔ جج نے مزید کہا کہ ’’تاہم متذکرہ بالا افراد کے عمل کی نوعیت سے بادی النظر میں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ معتمد کوئلہ (پاریکھ) اور وزیر کوئلہ (منموہن سنگھ) مختلف رول ادا کررہے تھے۔ تلاباریا II کوئلہ بلاک میں مسرس ہنڈالکو کو کسی طرح شامل کرنے اور جگہ دینے کیلئے مبسوط مشترکہ مساعی کی گئی تھی‘‘۔ عدالت نے کہا کہ ’’یہ اس ناقص اور مجہول مجرمانہ سازش کا مرکزی مشترکہ مقصد تھا جو سب کو معلوم تھا‘‘۔ خاطی پائے جانے کی صورت میں اس مقدمہ کے ملزمین کو عمر قید بھی ہوسکتی ہے کیونکہ عدالت نے قانون انسداد رشوت ستانی کے تحت مجرمانہ سازش کا تذکرہ کیا ہے۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ نے عدالتی احکام پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تکلیف پہنچی ہے لیکن انہوں نے اپنے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ منصفانہ مقدمہ میں سچائی کی کامیابی ہوگی۔ عدالتی فیصلہ پر ردعمل کے اظہار کی خواہش پر ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جواب دیا کہ ’’یقیناً مجھے افسوس ہوا ہے لیکن یہ بھی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ میں ہمیشہ ہی کہتا رہا ہوں کہ حق کی فتح ہوگی۔ اس مقدمہ میں مجھے تمام حقائق پیش کرنے کا موقع فراہم ہوگا‘‘۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ادعا کیا کہ وہ ملک کے عدالتی عمل کا احترام کرتے ہیں اور کہا کہ ’’مجھے امید ہیکہ ایک منصفانہ مقدمہ میں اپنی بے قصوری ثابت کروں گا‘‘۔ 83 سالہ منموہن سنگھ اور دیگر ملزمین کے نام جاری کردہ سمن میں انہیں 8 اپریل کو عدالت میں طلب کیا گیا ہے۔ 2012ء میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت اس وقت کوئلہ اسکام کے منظرعام پر آنے کے سبب دہل گئی تھی جب کامپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ کوئلہ کی تخصیصات میں بدعنوانیوں سے سرکاری خزانہ کو 1.86 لاکھ کروڑ روپئے کے نقصانات پہنچے ہیں۔ مماضی میں سابق وزیراعطم نرسمہا راؤ کو بھی ایک مقدمہ ملزم بنایا گیا تھا۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے ارکان پارلیمنٹ کو رشوت کے بشمول تین مختلف مقدمات میں ان کے خلاف چارج شیٹس پیش کی گئی تھیں۔ تاہم بعد میں وہ تمام منسوبہ الزامات سے بری ہوگئے تھے۔ اس طرح ڈاکٹر منموہن سنگھ دوسرے وزیراعظم ہیں جو کسی مقدمہ میں ملزم بتائے گئے ہیں اور ان کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT