Wednesday , June 20 2018
Home / سیاسیات / کوئی سیاسی پارٹی انکم ٹیکس نوٹسوں کا نشانہ نہیں:بی جے پی

کوئی سیاسی پارٹی انکم ٹیکس نوٹسوں کا نشانہ نہیں:بی جے پی

نئی دہلی۔ 11 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے آج کہا کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کو ان کے وصول کئے ہوئے عطیوں کے بارے میں محکمہ انکم ٹیکس کی نوٹسیں کسی پارٹی کو نشانہ بناکر جاری نہیں کی گئی ہیں۔ پارٹی کے قومی معتمد سریکانت شرما نے کہا کہ عام آدمی پارٹی یا کسی اور مخصوص پارٹی کو نشانہ بناکر محکمہ انکم ٹیکس نے نوٹسیں جاری نہیں کی ہیں۔ سیاسی

نئی دہلی۔ 11 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے آج کہا کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کو ان کے وصول کئے ہوئے عطیوں کے بارے میں محکمہ انکم ٹیکس کی نوٹسیں کسی پارٹی کو نشانہ بناکر جاری نہیں کی گئی ہیں۔ پارٹی کے قومی معتمد سریکانت شرما نے کہا کہ عام آدمی پارٹی یا کسی اور مخصوص پارٹی کو نشانہ بناکر محکمہ انکم ٹیکس نے نوٹسیں جاری نہیں کی ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے علاوہ ایسی 50 کمپنیوں کو بھی نوٹسیں جاری کی گئی ہیں جو کالے دھن کو سفید بنارہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کیوں پریشان ہے جبکہ اس نے قبل ازیں دعویٰ کیا تھا کہ وہ کسی بھی تحقیقات کا سامنا کرنے تیار ہے۔ اس کے سربراہ ان الزامات پر گرفتاری کیلئے بھی تیار تھے۔ بی جے پی اسمبلی انتخابات کے بعد بی جے پی نے عام آدمی پارٹی پر سخت حملوں کا آغاز کردیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ اس نے مبینہ طورپر شل کمپنیوں سے دو کروڑ روپیوں کے عطیے ٹیکس کی شکل میں حاصل کئے تھے۔ دریں اثناء کانگریس نے خبردار کیا کہ عطیوں کے مسئلہ پر ’’سیاست کھیلنے‘‘ سنگین نتائج برآمد ہوں گے تاہم تسلیم کیا کہ اس نے دس لاکھ روپئے کا عطیہ بذریعہ چیک ایک کمپنی سے حاصل کیا تھا

اور وہ اس سلسلہ میں محکمہ انکم ٹیکس کو جواب داخل کرے گی۔ پارٹی کے خازن موتی لال ووہرہ نے کہا کہ مخصوص کمپنی نے دس لاکھ روپئے کا عطیہ گزشتہ سال نومبر میں بذریعہ چیک پارٹی کو دیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک مکتوب بھی تھا جس میں تمام تفصیلات جیسے مستقل انکم ٹیکس اکاؤنٹ نمبر بھی درج کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ نوٹس کی گئی ہے کہ اس لئے کانگریس محکمہ انکم ٹیکس کو وصول کئے ہوئے عطیے کے بارے میں جواب دہی کرے گی۔ یہ نوٹس دہلی اسمبلی انتخابات سے ایک دن پہلے 9 فروری کو جاری کی گئی تھی لیکن اس پر عام آدمی پارٹی کی زبردست کامیابی کے بعد غور کیا گیا۔ عام آدمی پارٹی دو کروڑ روپئے کے عطیہ کی بناء پر تنازعہ کا شکار ہوگئی ہے۔ اسے بھی محکمہ انکم ٹیکس کی نوٹس وصول ہوئی ہے جو کانگریس اور دیگر اداروں کے ساتھ عام آدمی پارٹی کو بھی جاری کی گئی تھی۔ بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی نے عام آدمی پارٹی کے خلاف شدید انتخابی مہم چلاتے ہوئے اس پر سخت تنقیدیں کی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT