Monday , December 18 2017
Home / مضامین / کودنڈارام نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا

کودنڈارام نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا

محمد نعیم وجاہت
تلنگانہ تحریک میں ہیرو بن کر اُبھرنے والے صدر نشین تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈا رام حکمران جماعت ٹی آر ایس کیلئے ویلن بن گئے ہیں، ایک درجن وزراء اور پارٹی کے دوسرے قائدین کا پروفیسر کودنڈا رام کے خلاف جارحانہ موقف جنگ چھیڑدینے کے مترادف ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پروفیسر کودنڈا رام نے جو مسئلہ اٹھایا ہے وہ انتہائی سنگین ہے۔ انہوں نے حکومت اور ٹی آر ایس کی دُکھتی رگ پر اُنگلی رکھ دی ہے جس کے باعث حکمراں ٹی آر ایس تلملا کر رہ گئی ہے۔ وزراء اور پارٹی کے دیگر قائدین کی چیخ و پکار سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ٹی آر ایس میں شخصیت پرستی نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے، حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ شخصیت پرستی کسی بھی ادارہ، تنظیم، جماعت یا حکومت کیلئے زوال کا باعث بن سکتی ہے۔ چیف منسٹر اور وزراء کواچھی طرح اندازہ ہے کہ پروفیسر کودنڈا رام کا سماج میں کیا مقام اور اثر و رسوخ ہے۔ اگر کودنڈا رام کسی بھی مسئلہ کو لے کر سنجیدگی کے ساتھ عوام کے درمیان پہونچتے ہیں تو طلباء، نوجوان دانشور اور عوام ان کا مکمل ساتھ دیں گے۔ اگر وہ تلنگانہ کے حقیقی مقصد کیلئے خصوصی حکمت عملی اپناتے ہیں تو ٹی آر ایس حکومت کیلئے مصیبتیں کھڑی ہوسکتی ہیں۔ پروفیسر کودنڈا رام کے اُٹھائے ہوئے سوال کو عوام کے دلوں میں گھر کرنے سے روکنے اور حکومت کے وقار کو متاثر ہونے سے بچانے کیلئے حکمراں جماعت ٹی آر ایس نے خصوصی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے پروفیسر کودنڈا رام کو تنقیدوں کا نشانہ بنانے کی وزراء اور دوسرے قائدین کو ہدایت دی ہے۔ پارٹی قیادت کی ہدایت ملتے ہی چھوٹے بڑے سبھی قائدین نے پروفیسر کودنڈا رام کو تنقید کا نشانہ بنانا مقدس فریضہ تصور کرلیا اور انہیں نیچا دکھانے کیلئے اپنی ساری طاقت جھونک دی۔ ریاست کی ترقی کو ملک کیلئے مثالی قرار دینے اور پروفیسر کودنڈا رام پر تنقید کرنے کے معاملہ میں ٹی آر ایس قائدین ایک دوسرے کی مسابقت میں تلنگانہ عوام کی نظروں میں گرگئے ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ تلنگانہ تحریک کا حصہ نہ رہنے والے اور علحدہ ریاست کی مخالفت کرنے والے ریاستی وزیر انیمل ہسبنڈری و سینما ٹو گرافی مسٹر ٹی سرینواس یادو نے پروفیسر کودنڈا رام پر دوسری جماعتوں سے سودا کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت پر تنقید کرنے کا الزام عائد کیا۔ تلنگانہ تحریک کے دوران پروفیسر کودنڈا رام کی تعریف کرنے سے نہ تھکنے والے ریاستی وزیر آبپاشی مسٹر ہریش راؤ نے پروفیسر کودنڈآ رام کو اپوزیشن کے ہاتھوں کا کھلونہ بن جانے کا الزام عائد کیا۔ تمام سیاسی جماعتوں، رضاکارانہ تنظیموں، طلباء تنظیموں، سرکاری ملازمین کی تنظیموں کو تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پلاٹ فارم پر اکٹھا کرنے والے پروفیسر کودنڈا رام سے ریاستی وزیر زراعت پوچارم سرینواس ریڈی دریافت کرتے ہیں کہ وہ کونسی جے اے سی کے صدر نشین ہیں؟۔ پروفیسر کودنڈا رام کی جانب سے حکومت کی ناکامی اور عوامی مسائل کو اُٹھانے پر ریاستی وزیر پنچایت راج جوپلی کرشنا راؤ نے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ حکومت پر کیچڑ اُچھال رہے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ پروفیسر کودنڈا رام کو جے اے سی کا صدر نشین کے سی آر ہی نے بنایا ہے اور علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے ساتھ ہی جے اے سی تحلیل ہوچکی ہے۔ ریاست کے ایک اور ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے ریٹائرڈ ہونے کے بعد کودنڈا رام کا ذہنی توازن بگڑ جانے کا الزام عائد کیا۔ ٹی آر ایس کے نوجوان رکن پارلیمنٹ سمن نے کودنڈا رام کو زہریلا ناگ اور کانگریس کا ایجنٹ قرار دیا ہے۔
آیئے جائزہ لیتے ہیں کہ آخر پروفیسر کودنڈا رام پر ٹی آر ایس کے ٹوٹ پڑنے کی وجہ کیا ہے۔ پروفیسر کودنڈا رام نے کسانوں کے مسائل کو ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ضلع میدک میں زبردستی کسانوں سے اراضی حاصل کرنے کے خلاف آواز اُٹھائی۔ حکومت کی کارکردگی اور ناکامیوں کے خلاف اپوزیشن جماعتیںآواز اٹھارہی ہیں لیکن حکمراں ٹی آر ایس نے انہیں اس طرح جواب نہیں دیا جس طرح پروفیسر کو دنڈا رام کو دیا گیا ہے۔ حکمراں ٹی آر ایس کے آگ بگولہ ہونے سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ٹی آر ایس پروفیسر کودنڈا رام کو اپنے لئے خطرہ محسوس کررہی ہے، مگرتشویش کی بات یہ ہے کہ سارے ایپی سوڈ سے چیف منسٹر کے سی آر غائب ہیں،انہوں نے صرف تماشہ دیکھا ہے۔

ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ تلنگانہ تحریک جب عروج پر پہنچ چکی تھی اور پروفیسر کودنڈا رام پر متحدہ آندھرا پردیش کے وزیر مسٹر ٹی جی وینکٹیش نے تنقید کی تھی تو ایک بڑے جلسہ عام میں کے سی آر نے پروفیسر کودنڈا رام کو کھڑا کرتے ہوئے کہا تھا کہ  یہ تلنگانہ عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں، ان پر مزید تنقید کرنے پر ٹی جی وینکٹیش کو کے سی آر نے زبان کاٹ دینے کی دھمکی دی تھی۔ لیکن اب خود ٹی آر ایس کے وزراء ، ارکان اسمبلی ،ارکان پارلیمنٹ پروفیسر کودنڈا رام کو اپنی تنقیدوں کا نشانہ بنارہے ہیں تو کیا کے سی آر اپنے ایک درجن وزراء اور دوسرے قائدین کی زبانیں کاٹ دیں گے؟ ۔ تلنگانہ کے عوام وزراء کے ریمارکس پر چیف منسٹر تلنگانہ سے ردِ عمل چاہتے ہیں۔ ٹی آر ایس کے قائدین علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی تحلیل ہوجانے کا دعویٰ کررہے ہیں، شاید انہیں یاد نہیں ہوگا کہ سربراہ ٹی آر ایس مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس کو خود کانگریس میں ضم کردینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹی آر ایس کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے بلکہ تحریک چلانے والی تنظیم ہے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد اس کی کوئی ضرورت نہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ مگر تلنگانہ ریاست تشکیل پاتے ہی وہ اپنے اعلان سے اُسی طرح منحرف ہوگئے جس طرح تلنگانہ ریاست کا پہلا چیف منسٹر دلت قائد کو بنانے کے وعدہ سے منحرف ہوگئے تھے۔ مسلمانوں اور قبائیلوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ دلتوں کو 3ایکر اراضی، تمام مستحق افراد کو ڈبل بیڈروم فلیٹس، کے جی تا پی جی مفت تعلیم، ایک لاکھ ملازمتوں کی فراہمی کے علاوہ دوسرے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔
ٹی آر ایس اپنے اقتدار کے دو سالہ جشن پرکروڑہا روپئے ضائع کرچکی تھی اسی وقت تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدرنشین پروفیسر کودنڈا رام کے اُٹھ کھڑے ہونے سے ریاست کی سیاست میں ہلچل پیدا ہوگئی۔ پروفیسر کودنڈا رام نے چیف منسٹر کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی ان کے شاہی مصارف کو نشانہ بنایا بلکہ انہوں نے حکومت کی دو سالہ کارکردگی کو مایوس کن اور ناکامیوں سے بھرپور قرارد یا۔ حکومت کی دو سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو کے سی آر کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے 23ارکان اسمبلی اور 2ارکان پارلیمنٹ کو اپنی صفوں میں شامل کیا ہے۔ ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ، ارکان قانون ساز کونسل کا یہ انحراف اگرچیکہ جمہوریت کیلئے خطرناک ہے مگر سیاسی نقطہ نظر سے ٹی آر ایس کیلئے فائدہ مند ہے۔ تلنگانہ کے ہر انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابیوں نے اپوزیشن کی کمر توڑ دی ہے۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی بھی حکومت کی برائے نام مخالفت کررہے ہیں۔ مقامی جماعت کے ارکان اسمبلی کی زبانیں بند ہیں کیونکہ وہ حکومت کو یہ یاد دلانا بھی نہیں چاہتے کہ ٹی آر ایس نے اقتدار حاصل کرنے کے اندرون 4ماہ مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
پروفیسر کودنڈا رام پر حکمران جماعت کے حملوں سے پتہ چلتا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر طلباء ، دانشوروں ، ملازمین اور عوام کی طاقت سے بخوبی واقف ہیں جو کسی بھی جماعت کو اقتدار سونپنے اور اقتدار سے بیدخل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پروفیسر کودنڈا رام نے تلنگانہ کی طاقتور حکومت سے ٹکر لیتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اپوزیشن کے ارکان کو دولت اور عہدوں کے لالچ سے خرید سکتے ہیں مگر انہیں نہیں۔ واضح رہے کہ کے سی آر نے دو سال کے دوران کئی مرتبہ ایوان کی نمائندگی کے علاوہ دوسرے عہدوں کی پروفیسر کودنڈا رام کو پیشکش کی ہے مگرانہوں نے اسے ٹھکراتے ہوئے عوام کے ساتھ ٹھہرنے کو ترجیح دی ہے جو سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کیلئے بہت بڑا سبق ہے۔ تلنگانہ تحریک میںاہم رول ادا کرنے والے طلبا ء اور دوسرے قائدین عہدوں اور حکومت کی عنایتوں سے محروم ہیں لیکن تلنگانہ کی مخالفت کرنے والے راج کررہے ہیں۔ چیف منسٹر کے دروازے پر تحریک کا اہم حصہ رہنے والوں کی کوئی رسائی نہیں ہے اور نہ ہی چیف منسٹر ان سے ملاقات کرنا پسند کرتے ہیں بلکہ چیف منسٹر کے دروازے تو صرف ایپل، گوگل ، فیس بُک اوردیگرآئی ٹی و کارپوریٹ کمپنیوں کے سربراہوں کیلئے کھلتے ہیں۔

پروفیسر کودنڈا رام کے حرکت میں آتے ہی اپوزیشن جماعتیں بغلیں بجارہے ہیں اور ان کی تائید میں کھڑے ہوتے ہوئے چیف منسٹراور وزراء کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ بے جان کانگریس میں نئی جان پڑ جائے مگر یہ تب ہی ممکن ہے جب کانگریس کے قائدین اپنے کانگریسی ہونے کا ثبوت دیںاور اپنی وفاداریاں چند سکوں اور عہدوں کیلئے فروخت نہ کریں۔ نظریاتی اختلافات اور گروپ بندیوں کو برسرِعام اُچھالنے کے بجائے پارٹی حلقوں میں بیٹھ کر انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔

 

ریٹائرڈ ہونے کے بعد کودنڈا رام ذہنی توازن کھو چکے ہیں        …      کڈیم سری ہری
کے سی آر نے ہی کودنڈا رام کو جے اے سی کا صدر نشین بنایا         …      محمد محمود علی
کودنڈا رام اپوزیشن کا کھلونا بن چکے ہیں             …      ہریش راؤ
کودنڈا رام کیچڑ اُچھالنا بند کرو                  …      جوپلی کرشنا راؤ
پڑھانا الگ ہے اور حکومت چلانا الگ ہے              …      لکشما ریڈی
کونسی جے اے سی کے صدر نشین ہو ۔ ؟              …     جگدیشور ریڈی
اب جے اے سی کہاں ہے ۔؟                  …      پوچارم سرینواس ریڈی
کونسی طاقت کے اشارے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہو ۔؟    …      ٹی سرینواس یادو
ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں برداشت نہیں کرتے         …      ایٹالہ راجندر
کودنڈا رام زہریلے ناگ ، کانگریس کے ایجنٹ         …     سمن ( رکن پارلیمنٹ )
کودنڈا رام سازش کا شکار                  …    سرینواس گوڑ ( رکن اسمبلی )
کس کے اشارے پر بات کررہے ہو ۔؟         …     پدما دیویندر ریڈی ( ڈپٹی اسپیکر )

TOPPOPULARRECENT