Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / کودنڈارام کو چیف منسٹر کیخلاف الزام تراشی سے بازآنے کا مشورہ

کودنڈارام کو چیف منسٹر کیخلاف الزام تراشی سے بازآنے کا مشورہ

زبان پر لگام نہ دینے پر سنگین نتائج کا انتباہ، بی سمن ٹی آر ایس ایم پی و دیگر کا میڈیا سے خطاب
حیدرآباد۔26 ڈسمبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی سمن نے تلنگانہ جے اے سی کے صدرنشین پروفیسر کودنڈارام کو انتباہ دیا کہ وہ چیف منسٹر اور حکومت کے خلاف الزام تراشی سے باز آئیں، میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی سمن اور ٹی آر ایس ارکان اسمبلی دیاکر رائو، یادگری ریڈی، سی ایچ درگیا اور رمیش نے کہا کہ کودنڈارام حکومت کی کارکردگی اور اسکیمات کو غیر ضروری طور پر نشانہ بنارہے ہیں۔ اگر کونڈارام اپنی زبان پر لگام نہ دیں تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ سمن نے ٹی آر ایس کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ جہاں بھی کودنڈا رام دورہ کریں ان کی سرزنش کریں اور حکومت کے خلاف بیان بازی سے باز رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والے ہر شخص کو کے سی آر نے ہمیشہ غیر معمولی اہمیت دی اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی گئی۔ سمن نے کہا کہ اگر کودنڈارام اپنے رویہ میں تبدیل نہ کریں تو مستقبل میں انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹی آر ایس حکومت کو بدنام کرنے کے لئے کودنڈارام کانگریس کارکن کی طرح کام کررہے ہیں۔ دراصل وہ اپوزیشن کے ہاتھوں کھلونہ بن چکے ہیں۔ کسانوں کے لئے کودنڈارام کی ہمدردی کو مگرمچھ کے آنسو قرار دیتے ہوئے سمن نے کہا کہ حکومت میں کسانوں کی بھلائی کے لئے جو اقدامات کئے گئے اس کی مثال سابق میں نہیں ملتی۔ مشن بھگیرتا کے تحت ہر گھر کو پانی کی فراہمی حکومت کا منصوبہ ہے اور اس پراجیکٹ کی ملک بھر میں ستائش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ کودنڈارام بھی مل کر حکومت کی اسکیمات میں رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتے۔ کودنڈرام دراصل کانگریس پارٹی کو تلنگانہ میں دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کررہے ہیںجبکہ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ کے سی آر کی قیادت میں ٹی آر ایس حکومت عوامی بھلائی کے کاموں میں ملک میں سرفہرست ہے۔ ٹی آر ایس قائدین نے کہا کہ علیحدہ تلنگانہ کے قیام کے بعد ٹی جے اے سی اب کے جے اے سی میں تبدیل ہوچکی ہے۔ کودنڈارام جے اے سی کا مقصد صرف حکومت پر تنقید کرنا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے پروپگنڈے کو ہوا دی جارہی ہے۔ قائدین نے کہا کہ اگر کودنڈارام کو سیاست میں حصہ لینے میں دلچسپی ہو تو وہ راست طور پر شمولیت اختیار کرنے کانگریس کی مدد سے ٹی آر ایس کو نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔ قائدین نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ کودنڈارام جو تلنگانہ تحریک کے دوران اور پھر اس کے بعد بھی کے سی آر کے حامی تھے اچانک کیوں مخالفت پر اتر آئے ہیں۔ ٹی آر ایس قائدین نے کہا کہ حکومت کی اسکیمات پر عمل آوری کے لئے تعمیری تجاویز پیش کرنی چاہئے۔ واضح رہے کہ کودنڈارام نے حکومت پر وعدوں کی عدم تکمیل کا الزام عائد کرتے ہوئے جدوجہد کا اعلان کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT