Monday , April 23 2018
Home / شہر کی خبریں / کودنڈا رام کی سیاسی پارٹی جاریہ سال کا لطیفہ

کودنڈا رام کی سیاسی پارٹی جاریہ سال کا لطیفہ

کانگریس کو مستحکم کرنے کی تیاری، ٹی آر ایس قائد پی روی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔5۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ ایس سی کارپوریشن کے صدرنشین پی روی نے صدرنشین جے اے سی پروفیسر کودنڈا رام کی جانب سے نئی سیاسی پارٹی کے اعلان کو 2018 ء کا لطیفہ قرار دیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے روی نے کہا کہ کودنڈا رام نے سیاسی بیروزگاروں کیلئے نئی پارٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئے کودنڈا رام نے نئی پارٹی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انتخابات میں مخالف ٹی آر ایس ووٹ کانگریس کی طرف منتقل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جدوجہد کے بعد ایسے قائدین جو پس منظر میں چلے گئے تھے، اب جے اے سی کے بیانر تلے دکھائی دے رہے ہیں تاکہ اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کرسکے۔ روی نے کہا کہ کودنڈا رام اور ان کی نئی پارٹی سے ٹی آر ایس کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات میں مصروف حکومت کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے جے اے سی نے سیاسی پارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد طلبہ نے خود کو جے اے سی سے علحدہ کرلیا اور وہ اس مہم سے وابستہ نہیں ہے۔ طلبہ نے تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کیا تھا لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد وہ جے اے سی سے دور ہوگئے ۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ کودنڈا رام کے بہکاوے میں نہ آئیں اور ریاست کی ترقی کو روکنے سے متعلق سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 ء عام انتخابات میں کودنڈا رام نے ایک بھی اسٹوڈنٹ لیڈر کو کسی بھی پارٹی سے ٹکٹ دلانے کی سفارش نہیں کی لیکن آج طلبہ سے ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔ روی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کسانوں کے حق میں جو اقدامات کر رہی ہے، وہ جے اے سی کو برداشت نہیں ہورہے ہیں ۔ مشن کاکتیہ ، فی ایکر 8000 روپئے کی امداد، 24 گھنٹے برقی سربراہی اور آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر جیسے اقدامات سے کسان خوش ہیں۔ کے سی آر نے کسانوں کو خوشحال بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کودنڈا رام کو تلنگانہ جہد کاروں سے محبت ہے تو انہیں کانگریس سے اتحاد کئے بغیر تنہا مقابلہ کرنا چاہئے۔ صدرنشین ایس سی کمیشن نے ریمارک کیا کہ کودنڈا رام کی پارٹی تلنگانہ جنا سمیتی دراصل ’’تلنگانہ جنم لینی سمیتی‘‘ یعنی عوام کے بغیر پارٹی ہے۔ اس پارٹی کو عوامی تائید حاصل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران مندا کرشنا مادیگا اور غدر نے خود کو علحدہ رکھا تھا لیکن آج وہ تلنگانہ عوام کے ہمدرد کی حیثیت سے ابھرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کودنڈا رام کو کانگریس کا ایجنٹ قرار دیا اور کہا کہ پارٹی کے قیام کا مقصد سنہرے تلنگانہ کی تشکیل میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔

TOPPOPULARRECENT