کوریا سے میٹرو ٹرین کی بوگیوں کی آمد کا سلسلہ شروع

پہلی ٹرین کی آئندہ ماہ سے آزمائش ، پراجکٹ کی وقت سے قبل تکمیل کی امید

پہلی ٹرین کی آئندہ ماہ سے آزمائش ، پراجکٹ کی وقت سے قبل تکمیل کی امید

حیدرآباد ۔ 22 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد میٹرو ٹرین پراجکٹ مقررہ مدت سے قبل ہی مکمل ہوجائے گا ۔ میٹرو ریل کے اپل ڈپوٹ کے لیے کوریا سے پہلی میٹرو ریل اور اس کا ساز و سامان حیدرآباد پہنچا دیا گیا ہے ۔ لارسن اینڈ ٹربو کے سینئیر نائب صدر اور ڈائرکٹر مسٹر ایس این سبرامنیم نے یہ میٹرو ریل اور اس کا سامان حاصل کیا ۔ مسٹر سبرامنیم کے خیال میں حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ مقررہ شیڈول سے قبل ہی مکمل ہوجائے گا جب کہ سارے ملک میں یہ سب سے معیاری پراجکٹ بھی ثابت ہوگا ۔ دوسری طرف حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کے مینجنگ ڈائرکٹر مسٹر این وی ایس ریڈی نے کہا کہ یہ لمحہ حیدرآباد میں حمل و نقل کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز اور تمام شہریوں کے لیے قابل فخر کامیابی ہے ۔ اس موقع پر ایل اینڈ ٹی میٹرو ریل کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر و مینجنگ ڈائرکٹر وی بی گڈگل بھی موجود تھے ان کے خیال میں ان ریل بوگیوں کی آمد سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ پراجکٹ وقت سے پہلے ہی تکمیل کی جانب آگے بڑھ رہا ہے ۔ واضح رہے کہ کوریا کی چیانگ وان فیکٹری نے تین کوچ کی حامل ٹرین تیار کی ہے اور اسے سمندری راستے سے تقریبا دو ہفتوں کے سفر کے بعد پہلے چینائی پہنچایا گیا اور پھر چہارشنبہ کو حیدرآباد لایا گیا ۔ میٹرو ٹرین کی تمام تینوں کاریں ( بوگیاں ) اپنی طرز کی منفرد بوگیاں ہیں ۔

امید ہے کہ آئندہ ماہ سے میٹرو ٹرین کو ناگول اور میٹو گوڑہ کے درمیان تجرباتی طور پر چلایا جائے گا ۔ جب کہ 8 کیلو میٹر طویل پٹری پر تجارتی لحاظ سے ٹرپس کا آغاز آئندہ سال مارچ سے شروع ہوگا ۔ آپ کو بتادیں کہ 72 کیلو میٹر طویل میٹرو ریل پراجکٹ 14132 کروڑ روپئے کے مصارف سے تعمیر کیا جارہا ہے ۔ سرکاری اور عوامی شراکت داری کے لحاظ سے یہ دنیا کا سب سے بڑا پراجکٹ ہے ۔ حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کے اعلیٰ عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ کوریائی کمپنی کو 171 کوچس ( بوگیوں ) کا آرڈر دیا گیا ہے ۔ ابتداء میں تین کار ٹرین چلائی جائے گی بعد میں انہیں 6 کار ٹرینوں میں تبدیل کردیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ اوپل میں ایل اینڈ ٹی اور حیدرآباد میٹرو ریل کے انجینئرس ایک ماڈل ریلوے اسٹیشن کی تعمیر پر دن رات کام کررہے ہیں ۔ امید ہے کہ چند ہفتوں میں اس اسٹیشن کی تعمیر مکمل ہوجائے گی جو اپنے ڈیزائن کے باعث سارے ملک میں اپنی ایک الگ شناخت بنائے گا ۔ میٹرو ریل پراجکٹ کے بارے میں شہریوں بالخصوص طلبہ اور محنت کش طبقات کا یہی خیال ہے کہ اس سے نہ صرف سفر میں آسانی ہوگی بلکہ وقت کی بچت بھی ہوگی ۔ دوسری طرف ایم ایم آر کے عہدہ دار میٹرو ریلوے اسٹیشنوں کے قریب پارکنگ سہولتوں کی نشاندہی میں مصروف ہیں اور ہر پارکنگ سہولت تقریبا دو ایکڑ اراضی پر محیط ہوگی ۔۔

TOPPOPULARRECENT