Monday , December 18 2017
Home / دنیا / کوریا پرامریکی طیاروں کی پرواز، ٹرمپ کی فوجی مشیروں سے مشاورت

کوریا پرامریکی طیاروں کی پرواز، ٹرمپ کی فوجی مشیروں سے مشاورت

پیانگ یانگ کے نیوکلیئر میزائل تجربات پر برہم واشنگٹن کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ

واشنگٹن ۔ 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے اشتعال انگیز، نیوکلیئر اور ٹرائیل تجربات کا جواب دینے کیلئے اپنے فوجی مشیروں کے ساتھ ’’مختلف امکانات‘‘ پر وسیع تر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران امریکہ امریکہ کے دو بڑے بمبار طیاروں نے پیانگ یانگ کے خلاف اپنی طاقت کے مظاہرہ کیلئے جزیرہ نما کوریا پر پرواز کی۔ شمالی کوریا اس سال فروری سے اپنے 15 تجربات کے دوران 22 میزائل چھوڑ چکا ہے جس کے خلاف امریکہ اور اس کے حلیفوں نے شدید ترین ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ شمالی کوریا نے حالیہ ہفتوں کے دوران اپنے چھٹویں نیوکلیئر تجربہ میں ایسے دو میزائل بھی داغا تھا جو جاپان سے گذرتے ہوئے بحرالکاہل میں گر پڑے تھے جس سے اس علاقہ میں ایک نئی کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ ٹرمپ نے بشمول وزیردفاع جیمس میٹیس اور امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ اپنے سرکردہ فوجی مشیروں سے مشاورت کی، جس کی تفصیلات سے بیان کرتے ہوئے وہائیٹ ہاؤز نے کہا کہ ’’شمالی کوریا کی طرف سے کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینے اور اگر ضروری ہو تو اس کو امریکہ اور اس کے حلیفوں کو اپنے نیوکلیئر اسلحہ سے ڈرانے دھمکانے کی کوششوں سے روکنے کے وسیع تر امکانات اور راستوں پر تبادلہ خیال کیا گیا‘‘۔ اجلاس کے دوران میٹیس اور ڈنفورڈ نے ٹرمپ اور ان کے قومی سلامتی مشیر کو اس ضمن میں اہم تفصیلات سے واقف کروایا۔ امریکی صدر ٹرمپ اس مسئلہ پر دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان شمالی کوریا کے ڈکٹیٹر کم جونگ ان کے ساتھ لفظی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ شمالی کوریا سے نمٹنے میں سفارتی مساعی کارگر ثابت نہیں ہوسکی ہے۔ ٹرمپ نے ہفتہ کو ٹوئیٹر پر لکھا تھا کہ ’’25 سال سے (امریکی) صدور اور ان کے انتظامیہ جات‘‘ شمالی کوریا سے بات چیت کرتے رہے۔ سمجھوتے کئے گئے اور بھاری رقومات ادا کی گئیں‘‘۔ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس سے کام نہیں چلا۔ امریکی مذاکرات کاروں کو بیوقوف بناتے ہوئے سمجھوتے کئے گئے اور ان پر کی گئی دستخطوں کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی ان سمجھوتوں کی خلاف ورزی کی گئی معاف کیجئے۔ اب لیکن صرف ایک چیز کام کریگی‘‘۔ اس دوران بحیرہ جاپان کے قریب امریکہ کے دو بڑے بمبار طیاروں نے گذشتہ روز جزیرہ نما کوریا پر پرواز کی۔ امریکی بحرالکاہل ایرفورس نے اپنے بیان میں اس کی توثیق کی۔ باور کیا جاتا ہیکہ گوام میں تعینات دو B-1B لانسر طیاروں نے پیانگ یانگ کے خلاف اپنی طاقت کے مظاہرہ کے طور پر پرواز کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT