Sunday , December 17 2017
Home / کھیل کی خبریں / کولکتہ کو آج حیدرآباد کے خلاف پسندیدہ موقف

کولکتہ کو آج حیدرآباد کے خلاف پسندیدہ موقف

پہلے الیمینیٹر میں کے کے آر کو نفسیاتی برتری

نئی دہلی ۔ 24 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) دو مرتبہ کی چمپین کولکتہ نائیٹ رائیڈرس کل یہاں کھیلے جانے والے آئی پی ایل کے پہلے الیمینیٹر میں سن رائزرس حیدرآباد کے خلاف اپنی حکمرانی کو برقرار رکھنے کی خواہاں ہوگی۔ سن رائزرس حیدرآباد اور کولکتہ نائیٹ رائیڈرس دونوں ہی نے آئی پی ایل کے رواں ٹورنمنٹ میں 16 نشانات حاصل کئے ہیں لیکن حیدرآباد کو بہتر رن ریٹ کی وجہ سے تیسرا مقام حاصل ہوا ہے۔ رن ریٹ سے پیچھے رہنے کے باوجود کل کھیلے جانے والے مقابلہ میں کے کے آر کو نفسیاتی برتری حاصل رہے گی کیونکہ اس نے گروپ مرحلہ کے دونوں مقابلوں میں فتوحات حاصل کی ہیں۔ کے کے آر نے پہلے حیدرآباد کو 8  وکٹوں سے شکست دی اور اس کے بعد اتوار کو کھیلے گئے ایک اہم مقابلہ میں اس نے 22 رنز کی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پلے آف میں رسائی حاصل کی ہے۔ ریکارڈ کے علاوہ کے کے آر 2012 اور 2014 ء نے فتوحات حاصل کئے ہیں ۔ دوسری جانب حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ٹیم 2013 ء کے بعد پہلی مرتبہ پلے آف میں رسائی حاصل کی ہے  اور کل کھیلے جانے والے مقابلہ میں اس کا ذہن حریف ٹیم کے خلاف حساب برابر کرنے پر مرکوز رہے گا۔ کے کے آر کے لئے کپتان گوتم گمبھیر مثالی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے 14 مقابلوں میں 5 نصف سنچریوں کے ہمراہ 473 اسکور کئے ہیں جبکہ ان کے ساتھی اوپنر  رابن اتھپا 383 رنز بناچکے ہیں۔ نیز یوسف پٹھان نے 359 رنز اسکور کرنے کے علاوہ اہم موقعوں پر یادگار اننگز کھیلی ہیں۔ ان تمام شاندار مظاہروں کے باوجود قومی سلیکٹروں نے دورہ زمبابوے کیلئے معلنہ ہندوستانی ٹیم میں مذکورہ کھلاڑیوں کو شامل نہیں کیا لیکن نوجوان بیٹسمین منیش پانڈے جنہوں نے 11 مقابلوں میں 212 رنز اسکور کئے ہیں ،

 

انہیں زمبابوے کے دورہ کیلئے موقع دیا گیا ہے۔ کے کے آر اپنے آل راؤنڈرس اینڈری رسل کی واپسی کا بھی منتظر ہے کیونکہ زخمی ہونے کی وجہ سے وہ گزشتہ دو مقابلوں میں شرکت نہیں کرپائے ہیں۔ جس وقت کے کے آر کو اپنے اسپنرس سے مایوسی ہورہی تھی ، ویسے وقت حیدرآباد کے خلاف جب آخری گروپ مقابلہ میں ٹیم کو کامیابی کی ضرورت تھی تو سنیل نارائن اور نوجوان کلدیپ یادو نے 3 اور 2 وکٹیں حاصل کرتے ہوئے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ دوسری جانب حیدرآباد کو گزشتہ دو مقابلوں میں ناکامیاب برداشت کرنی پڑی ہیں جس سے کھلاڑیوں کا اعتماد متزلزل ہوا ہے ۔ کے کے آر کیلئے گمبھیر کی طرح حیدرآباد کیلئے یہاں کے کپتان ڈیوڈ وارنر مثالی مظاہرے کر رہے ہیں، جیسا کہ انہوں نے 658 رنز اسکور کرتے ہوئے ٹورنمنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے ویراٹ کوہلی کے بعد دوسری مقام پر فائز ہیں۔ وارنر کے ساتھی شکھر دھون سست شروعات کے بعد اپنا فارم حاصل کرتے ہوئے ٹیم کی فتوحات میں اہم رول ادا کیا ہے جیسا کہ انہوں نے 14 مقابلوں میں 463 اسکور کئے ہیں جس میں 82 ان کا اعظ ترین انفرادی اسکول ہے۔ سن رائزرس کی صف میں یوراج سنگھ ، موسس ہینڈرکس اور یان مورگن شامل ہیں لیکن وہ اب تک اپنے معیار کے مطابق مظاہرے نہیں کر پائے ہیں۔ سینئر بولر آشش نہرا کے زخمی ہوکر ٹورنمنٹ سے باہر ہونے کا حیدرآباد کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ نہرا کی عدم موجودگی میں برندر سرن ، مستفیض الرحمن اور بھونیشور کمار پر یہ زائد ذمہ داری عائد ہوگئی ہے۔  کل کھیلے جانے والے مقابلہ میں کامیابی فاتح ٹیم کو فائنل میں نہیں پہنچائے گی بلکہ اسے جمعہ کو دوسرے الیمینیٹر میں کامیابی حاصل کرنی ہوگی جہاں حریف رائل چیلنجر بنگلور یا گجرات لائینس ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT