Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / کولکتہ یونیورسٹی میں متنازعہ پوسٹرس، کشمیر کی آزادی کے نعرے

کولکتہ یونیورسٹی میں متنازعہ پوسٹرس، کشمیر کی آزادی کے نعرے

اساتذہ اور طلبہ کا اظہاربے تعلقی، پولیس شکایت درج کرنے سے وائس چانسلر کا انکار
کولکتہ ۔ 17 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) مغربی بنگال کی جادھو پور یونیورسٹی میں گذشتہ روز افضل گرو کی تائید میں نعرہ لگائے جانے کے ایک دن بعد آج ایسے پوسٹرس دستیاب ہوئے جن پر منی پور، ناگالینڈ اور کشمیر کی آزادی کے نعرے درج تھے۔ اس دوران طلباء کے دو حریف گروپوں نے یونیورسٹی کے احاطہ میں ریالیاں منظم کیں۔ جادھو پور یونیورسٹی میں آج دستیاب پوسٹرس پر ’’ہمیں کیا چاہئے۔ آزادی، آزادی کشمیر کی منی پور کی آزادی۔ ناگالینڈ کی آزادی‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ ان پوسٹرس پر ریڈیکلس گروپ کا نام درج تھا۔ تاہم یونیورسٹی کے حکام اور طلباء دونوں ہی نے اس قسم کے پوسٹرس سے بے تعلقی کا اظہار کیا۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سورنجن داس نے کہا کہ ’’یہ گمنام شرپسند عناصر ہیں۔ طلباء یونین کے قائدین سے میں آج صبح ہی ملاقات کرچکا ہوں

اور انہوں نے کہا کہ وہ اس قسم کے تمام ملک دشمن نعروں سے خود کوبے تعلق رکھتے ہیں‘‘۔ جادھو پور یونیورسٹی کے طلبہ نے گذشتہ روز جے این یو کے طلبہ سے اظہار یگانگت کرتے ہوئے پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم افضل گرو کی تائید میں نعرے بازی کی تھی۔ افضل گرو کو تین سال قبل پھانسی پر لٹکایا گیا تھا۔ جادھو پور یونیورسٹی کے طلبہ نے جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار کی گرفتاری کی مذمت بھی کی تھی۔ سورنجن داس نے کہا کہ انہوں نے دیکھا تھا کہ طلبہ یونین کے بعض قائدین گذشتہ روز اس ریالی کے ساتھ چل رہے تھے جس (ریالی) میں افضل گرو کی تائید میں نعرے لگائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بحیثیت وائس چانسلر میری ذمہ داری ہے کہ طلبہ کیلئے اظہارخیال کی آزادی اور احتجاج کے حق کا تحفظ کیا جائے‘‘۔ اس سوال پر کہ آیا کسی واقعہ کے ضمن میں پولیس شکایت درج کی گئی ہے۔ سورنجن داس نے کہا کہ ’’یونیورسٹی میں پولیس کا کوئی رول نہیں ہے۔ یونیورسٹی کیمپس میں کبھی بھی پولیس کو طلب نہیں کروں گا‘‘۔ طلبہ نے بھی ملک دشمن پوسٹر کی مذمت کرتے ہوئے اس سے بے تعلقی کا اظہار کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT